بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 53 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ایسے آدمی کے لئے جو غلام ہو اور ٹھیک کام کرنے والا ہو دو اجر ہیں اور اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے اگر اللہ کی راہ میں جہاد اور حج اور اپنی ماں سے حسنِ سلوک کا خیال نہ ہوتا تو میں پسند کرتا کہ مجھے غلام ہونے کی حالت میں موت آئے اور ہمیں روایت پہنچی ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ حج نہیں کرتے تھے جب تک ان کی والدہ فوت نہ ہوگئیں ان کی رفاقت کی وجہ سے۔ ایک اور روایت میں بَلَغَنَا اور اس کے بعد کے مضمون کا ذکر نہیں۔ ایک روایت میں اَلْعَبْدُ الْمُصْلِح کے الفاظ ہیں اور لفظ اَلْمَمْلُوْکَ کا ذکر نہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب ایک غلام اللہ کا حق اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرتا ہے تو اس کے لئے دو اجر ہیں۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ حدیث حضرت کعبؓ کو سنائی تو حضرت کعبؓ نے کہا کہ اس (غلام) پر کوئی حساب نہیں ہے اور نہ ہی ایسے مومن پر کوئی حساب ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انہوں نے کہا یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کتنا اچھا ہے اس غلام کے لئے جو اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کی عبادت احسن رنگ میں بجا لا رہا تھا اور اپنے آقا کی رفاقت بھی خوب کر رہا تھا۔ یہ اس کے لئے بہت ہی خوب ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کے برابر ہو تو اس (غلام) کی منصفانہ قیمت لگائی جائے۔ پھر وہ اپنے شریک ساتھیوں کو ان کے حصے دے دے تو غلام اس کی طرف سے آزاد ہوگا ورنہ جتنا حصہ اس کا آزاد ہوا، وہی آزاد ہوا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اس کے ذمہ سارے غلام کی آزادی ہے بشرطیکہ کہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس (غلام) کی قیمت کے برابر ہے۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس میں جو حصہ آزاد ہوا، وہ آزاد ہوا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کردیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کے برابر ہو تو اس (غلام) کی منصفانہ قیمت لگوائی جائے گی۔ ورنہ اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا کہ آزاد ہوا۔ ایک اور روایت میں وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ فَقَدْ عَتَقَ مِنْہُ مَا عَتَقَ کے الفاظ نہیں ہیں سوائے ایوب اور یحیٰی بن سعید کی روایت کے۔ ان دونوں نے یہ الفاظ روایت میں ذکر کئے ہیں اور کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کا حصہ ہے یا نافع نے اپنی طرف سے کہے ہیں۔ ان میں سے کسی کی روایت میں یہ نہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا سوائے لیث بن سعد کی روایت کے۔
حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اپنے اور دوسرے کے درمیان (مشترک) غلام آزاد کیا اس غلام کی منصفانہ قیمت اس شخص کے مال میں سے لگائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ۔ پھر وہ غلام اس کی طرف سے اس کے مال سے آزاد ہوگا اگر وہ فراخی والا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے کسی غلام سے اپنا حصہ آزاد کیا تو وہ اس (آزاد کرنے والے) کے مال کے ذریعہ باقی بھی آزاد ہو جائے گا اگر اس کا اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کے برابر ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارہ میں فرمایا جسے ان دونوں میں سے ایک آزاد کرے۔ آپؐ نے فرمایا وہ ذمہ دار ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے غلام سے (اپنا) حصہ آزاد کیا تو وہ اس کے مال سے آزاد ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اگر وہ مالدار ہے تو اسی کے مال میں سے اس غلام کی آزادی ہو گی اور اگر اس کے پاس مال نہیں تو غلام سے اس کی آزادی کے لئے کام لیا جائے گا مگر اس پر مشقت نہ ڈالی جائے گی۔ ایک اور روایت میں (اُسْتُسْعِیَ الْعَبْدُ غَیْرَ مَشْقُوْقٍ عَلَیْہِ کی بجائے) یُسْتَسْعَی فِی نَصِیْبِ الَّذِی لَمْ یُعْتِقْ غَیْرَ مَشْقُوْقٍ کے الفاظ ہیں۔