بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 30 hadith
حضرت نعمان بن بشیرؓ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تھا۔ جس پر نبی ﷺ نے انہیں فرمایا یہ کیسا غلام ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے والد نے یہ مجھے دیا ہے۔ آپؐ نے (ان کے والد سے) فرمایا کیا اس کے ہر بھائی کو تم نے دیا ہے جس طرح تم نے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر تم اسے واپس لے لو۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنا کچھ مال مجھے عطا کیا۔ اس پر میری والدہ عَمرہ بنت رواحہؓ نے کہا میں راضی نہ ہونگی جب تک تم رسول اللہﷺ کو گواہ نہ ٹھہراؤ۔ میرے والد نبیﷺ کے پاس گئے تاکہ وہ آپؐ کو میرے عطیہ پر گواہ بنائیں۔ رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سب بچوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنی اولاد سے عدل کا سلوک کرو۔ میرے والد واپس آئے اور وہ عطیہ واپس لے لیا۔
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیرؓ نے مجھے بتایا کہ ان کی والدہ بنت رواحہؓ نے ان کے والد سے خواہش کی کہ وہ اپنے مال میں سے کچھ اس کے بیٹے کو ہبہ کردیں۔ انہوں نے ایک سال تک تو اسے ملتوی رکھا پھر ان کی رائے ہوگئی (کہ ہبہ کردیں)۔ اس پر وہ کہنے لگیں میں راضی نہ ہوں گی جب تک تم رسول اللہﷺ کو اس ہبہ پر گواہ نہ ٹھہراؤ جو تم نے میرے بیٹے کے نام کیا ہے۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس وقت لڑکا تھا اور وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس کی ماں بنت رواحہؓ نے چاہا ہے کہ میں آپؐ کو اس ہبہ پر گواہ ٹھہراؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تمہاری کوئی اولاد ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس کی طرح ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے ان سب کو اس جیسا دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کے والد سے فرمایا تم مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد سواری پر رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپ گواہ رہیں کہ میں نے اپنے مال میں سے نعمان کو یہ یہ عطیہ دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح کا تحفہ دیا ہے جیسے تم نے نعمان کو تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بنا لو۔ پھر فرمایا کیا یہ بات تمہیں خوش کرتی ہے کہ وہ سب بچے تم سے نیکی کرنے میں برابر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر ایسا نہ کرو۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا پھر وہ مجھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے گئے تاکہ آپؐ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو یہ عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم ان سے اس طرح کا نیک سلوک نہیں چاہتے جس طرح کا نیک سلوک اس سے چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا تو پھر میں گواہ نہیں بنتا۔ ابن عون کہتے ہیں میں نے (راوی) محمد کو یہ روایت سنائی تو انہوں نے کہا ہمیں تو یہ بتایا گیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا تھا اپنی اولاد کے درمیان برابری کا سلوک کرو۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت بشیرؓ کی بیوی نے کہا میرے بیٹے کو اپنا غلام دے دو اور میری خاطر رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ ٹھہراؤ۔ پس وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فلاں کی بیٹی نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام دے دوں اور یہ کہتی ہیں کہ میری خاطر رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ ٹھہراؤ۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کیا اس کے اور بھائی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے سب کو وہی کچھ دیا ہے جو اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا پھر یہ درست نہیں اور میں تو حق کے سوا کسی بات پر گواہی نہیں دیتا۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص کو عمر بھر کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ہو گی جس کو وہ دی گئی۔ دینے والے کی طرف واپس نہ ہو گی کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں (احکام) وراثت جاری ہو گئے۔
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس نے کسی شخص کو اور اس کی اولاد کو عمر بھر کے لئے کچھ دیا تو اس کے قول نے اس کا اپنا حق اس میں ختم کر دیا اور وہ چیز اسی کی ہوگی جس کو وہ عمر بھر کے لئے دی گئی ہے۔ ایک اور روایت میں (مَنْ اَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَی لَہُ وَلِعَقِبِہِ کی بجائے) اَیُّمَا رَجُلٍ اُعْمِرَ عُمْرَی فَھِیَ لَہُ وَلِعَقِبِہِ کے الفاظ ہیں یعنی جس کو عمر بھر کے لئے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے ہوگی۔