بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 18 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کسی مسلمان شخص کے لئے جس کے پاس کوئی چیز ہو، جس کے بارہ میں وہ وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لئے درست نہیں کہ وہ دو راتیں بھی گزارے مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو۔ ایک اور روایت میں لَہُ شَیْئٌ یُوْصِیْ فِیْہِ کے الفاظ ہیں مگر یُرِیْدُ اَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا کسی مسلمان شخص کا جس کی کوئی چیز ہو جس کی وہ وصیت کر سکے یہ درست نہیں کہ وہ تین راتیں گزارے مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا مجھ پر ایک رات بھی نہیں گذری مگر میری وصیت میرے پاس ہوتی ہے۔
عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت فرمائی۔ اس بیماری میں جس میں مَیں موت کے کنارے پر پہنچ گیا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری تکلیف جس حد تک پہنچ چکی ہے وہ آپؐ دیکھ رہے ہیں۔ میں مالدار ہوں اور میرا وارث سوائے میری اکلوتی بیٹی کے کوئی نہیں۔ کیا میں دو تہائی مال صدقہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا کیا میں اس کا نصف صدقہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ تیسرا حصہ (کر دو) اور تیسرا حصہ (بھی) بہت ہے۔ تمہارا اپنے وارثوں کو اچھی حالت میں چھوڑنا انہیں محتاج چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے جو بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ ایک لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑا جاؤں گا؟ آپؐ نے فرمایا تم پیچھے چھوڑے نہ جاؤ گے مگر جو نیک عمل کرو گے جس کے ذریعہ تم اللہ کی رضا چاہو تو تم اس کے ذریعہ درجہ اور رفعت میں زیادہ ہو گے۔ اور بعید نہیں کہ تم پیچھے چھوڑے جاؤ (یعنی لمبی عمر دئیے جاؤ) یہاں تک کہ قومیں تجھ سے فائدہ اٹھائیں اور کچھ دوسری نقصان اٹھائیں۔ اے اللہ! میرے اصحاب کی ہجرت پوری فرما اور انہیں ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹانا لیکن بے چارہ سعد بن خولہؓ! راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دکھ کا اظہار فرمایا کیونکہ وہ (ہجرت کے بعد) مکہ میں فوت ہوگئے تھے۔ ایک اور روایت میں (عَادَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کی بجائے) دَخَلَ النَّبِیُّﷺ عَلَیَّ یَعُوْدُنِیْ کے الفاظ ہیں باقی روایت سابقہ روایت کے مطابق ہے مگر اس میں سعد بن خولہؓ کے بارہ میں نبیﷺ کے ارشاد کا بیان نہیں مگر اس بات کا بیان ہے کہ آپؐ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی اس زمین میں فوت ہو جس سے وہ ہجرت کر چکا ہو۔
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں بیمار ہوا اور نبی ﷺ کو پیغام بھیجا اور عرض کیا کہ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنا مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ آپؐ نے اجازت نہ دی۔ میں نے کہا نصف، تو آپؐ نے ناپسند فرمایا۔ میں نے کہا تیسرا حصہ؟ وہ کہتے ہیں تیسرے حصہ پر آپؐ خاموش رہے۔ راوی کہتے ہیں تو اس کے بعد تیسرا حصہ جائز ہوگیا۔ ایک اور روایت میں فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا کے الفاظ نہیں ہیں۔
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے میری عیادت کی میں نے عرض کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں میں نے کہا پھر نصف، آپؐ نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا کیا تیسرے حصہ کی؟ تو آپؐ نے فرمایا ہاں، اور تیسرا حصہ (بھی) زیادہ ہے۔
حُمَید بن عبدالرحمان حِمْیَری حضرت سعدؓ کے تین بیٹوں سے روایت کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنے والد سے بیان کرتا ہے کہ نبیﷺ مکہ میں سعدؓ کی عیادت کو تشریف لائے تو وہ رو پڑے۔ آپؐ نے فرمایا کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں اس سر زمین میں فوت ہو جاؤں گا جس سے ہجرت کر چکا ہوں (یعنی مکہ) جیسے سعد بن خولہؓ فوت ہوئے۔ اس پر نبیﷺ نے تین بار دعا کی کہ اے اللہ! سعدؓ کو شفا دے۔ اے اللہ! سعدؓ کو شفا دے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے پاس بہت مال ہے اور میری ایک بیٹی صرف میری وارث ہوگی۔ کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے کہا دو تہائی؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا نصف؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے کہا تیسرا حصہ؟ آپؐ نے فرمایا تیسرا حصہ اور تیسرا حصہ (بھی) زیادہ ہے۔ یقینا تمہارے مال سے تمہارا صدقہ دینا بھی صدقہ ہے اور تمہارا اپنی اولاد پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اور جو تمہاری بیوی تیرے مال سے کھاتی ہے وہ بھی صدقہ ہے اور یہ کہ تمہارا اپنے گھر والوں کو اچھی حالت میں چھوڑنا یا فرمایا (اچھی) معیشت میں چھوڑ جانا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ تم ان کو چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا تے پھریں اور آپؐ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا۔ ایک روایت میں (دَخَلَ عَلَی سَعْدٍ یَعُوْدُہُ بِمَکَّۃَ کی بجائے) مَرِضَ سَعْدٌ بِمَکَّۃَ فَاَتَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَعُوْدُہُ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں فَاَتَاہُ النَّبِیُّﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے تھے کہ کیوں نہ لوگ ایک تہائی سے کم کر کے ایک چوتھائی پر آجاتے کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک تہائی اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اور وکیع کی روایت میں ہے کہ لفظ ’’کَبِیْرٌ‘‘ فرمایا یا ’’کَثِیْرٌ‘‘۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے عرض کیا کہ میرا باپ فوت ہو گیا ہے اور اس نے مال چھوڑا ہے مگر وصیت نہیں کی۔ اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو یہ اس کا کفارہ ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے عرض کیا میری ماں اچانک فوت ہوگئی ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر وہ بات کرسکتی تو وہ صدقہ کرتی۔ میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو مجھے اجر ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسولؐ اللہ! میری ماں اچانک فوت ہوگئی ہے اور وہ وصیت نہیں کر سکی اور میرا اس کے متعلق خیال ہے کہ اگر وہ بول سکتی تو صدقہ کرتی، اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے اجر ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ ایک روایت میں اَفَلَھَا اَجْرٌ ایک روایت میں فَھَلْ لِیْ اَجْرٌ اور ایک روایت میں فَلِیْ اَجْرٌ کے الفاظ ہیں۔