بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 30 hadith
حضرت جابر بن عبد اللہؓ انصاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو اور اس کی اولاد کو عمر بھر کے لئے کچھ دیا اور اس نے کہا کہ میں نے تجھے اور تیری نسل کو یہ دیا۔ جب تک تم میں سے کوئی باقی ہے، تو یہ اسی کا ہوگا جس کو دیا گیا اور وہ اس کے مالک کو واپس نہ ہوگا کیونکہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وِرثہ (کے احکام) جاری ہوگئے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عمر بھر کے لئے کچھ دینا جس کی رسول اللہ ﷺ نے اجازت فر مائی یہ ہے کہ انسان کہے یہ تمہارے لئے اور تمہاری اولاد کے لئے ہے اور جب یہ کہے کہ یہ تیرے لئے ہے جب تک تو زندہ ہے تو وہ اس کے مالک کو واپس ہوگا۔ معمر کہتے ہیں کہ زہری اسی کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس شخص کے بارہ میں جس کے لئے اور جس کی اولاد کے لئے عمر بھر کے لئے کچھ دیا گیا یہ فیصلہ فرمایا کہ وہ قطعی طور پر اس کا ہے۔ دینے والے کے لئے اس میں کوئی شرط یا استثناء کرنا جائز نہیں۔ ابو سلمہ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس نے ایسی چیز دی ہے جس میں ورثہ کے احکام جاری ہوگئے اور ورثہ (کے احکام) نے اس کی شرط کو ختم کردیا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عمر بھر کے لئے دی گئی چیز اسی کی ہوگی جس کو وہ دی گئی۔ ایک اور روایت میں عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِﷺ کے الفاظ ہیں۔ ایک روایت میں عَنْ جَابِرٍ یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّﷺ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنے مال اپنے پاس سنبھال کر رکھو اور انہیں ضائع نہ کرو کیونکہ جس نے عمر بھر کے لئے کچھ دیا تو وہ اسی کی ملکیت ہو گا جس کو عمر بھر کے لئے دیا گیا۔ چاہے وہ زندہ رہے یا فوت ہو جائے اور اس کی اولاد کے لئے ہو گا۔ ایک اور روایت میں یہ مزید ہے کہ انصار مہاجرین کو ( اپنی جائیدادیں ) عمر بھر کے لئے دینے لگے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے اموال اپنے پاس ہی رکھو۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مدینہ کی ایک عورت نے اپنا ایک باغ عمر بھر کے لئے اپنے ایک بیٹے کو دے دیا پھر وہ بیٹا فوت ہو گیا اور اس کے بعد وہ عورت بھی فوت ہو گئی اور اس (عورت) نے اولاد چھوڑی اور اس (مرحوم) کے بھائی بھی تھے جو عمر بھر کے لئے ہبہ کرنے والی کے بیٹے تھے عمر بھر کے لئے ہبہ کرنے والی کی اولاد نے کہا کہ اب یہ باغ ہمارے پاس واپس آگیا ہے مگر جس کے نام عمر بھر کا ہبہ کیا گیا تھا اس کی اولاد نے کہا کہ یہ ہمارے والد کی ملکیت ہے اس کی زندگی میں بھی اور اس کے مرنے کے بعد بھی چنانچہ وہ اپنا جھگڑا حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام طارق کے پاس لے کر گئے۔ انہوں نے حضرت جابرؓ کو بلایا تو انہوں نے رسول اللہﷺ کے بارہ میں گواہی دی کہ (آپؐ نے فرمایا) کہ عمر بھر کا ہبہ اس کی ملکیت ہے جسے وہ دیا گیا تو طارق نے اس کے مطابق فیصلہ کیا پھر عبد الملک کو تحریراً یہ اطلاع دی اور حضرت جابرؓ کی گواہی کا بھی ذکر کیا تو عبد الملک نے کہا کہ حضرت جابرؓ نے سچ کہا۔ طارق نے یہ فیصلہ نافذ کیا وہ آج تک اس شخص کے بیٹوں کا ہے جِسے یہ عمر بھر کے لئے دیا گیا تھا۔
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طارق نے عمر بھر کے ہبہ کا فیصلہ وارث کے حق میں حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی رسول اللہﷺ سے روایت کی بناء پر کیا تھا۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عمریٰ (یعنی عمر بھر کے لئے ہبہ کرنا) جائز ہے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عمریٰ (یعنی عمر بھر کا ھبہ) اس شخص کی میراث ہے جسے وہ دیا گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ عمریٰ جائز ہے۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ عمر بھر کا ہبہ اس کی میراث ہے جسے وہ دیا گیا یا کہا وہ جائز ہے۔