بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش نے میری تکذیب کی تو میں حجر میں کھڑا تھا اور اللہ نے مجھے بیت المقدس میرے سامنے کر دیا۔ میں ان کو اس کی نشانیاں بتانے لگا اور میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ آپؐ
سالم بن عبداللہ بن عمر بن الخطابؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں ایک آدمی گندم گوں سیدھے بالوں والا دو آدمیوں کے درمیان ہے اور اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے یا بہہ رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ مسیح ابن مریم ہے۔ پھر میں مُڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سرخ رنگ کا جسیم آدمی ہے جو گھنگریالے بالوں والا، ایک آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا دجّال ہے۔ اس کی شکل لوگوں میں سے سب سے زیادہ ابن قطن کے قریب تھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں گویا اپنے آپ کو حجر (حطیم) میں دیکھ رہا ہوں جب قریش میرے اسراء کے بارہ میں مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی چیزوں کے بارہ میں پوچھا جو میں معین طور پر بتا نہیں سکتا تھا۔ اس لئے مجھے ایسی سخت فکر دامن گیر ہوئی جیسی پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے اسے (بیت المقدس کو) میرے لئے بلند کیا تاکہ میں اس کو دیکھ لوں۔ پھر جس چیز کے بارہ میں بھی وہ مجھے پوچھتے میں ان کو بتا دیتا۔ اور میں نے اپنے آپؐ کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ موسیٰؑ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں معتدل بدن والے اور گٹھے ہوئے جسم والے ہیں گویا وہ شنوء ہ (قبیلہ) کے آدمیوں میں سے ہیں اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھی کھڑے نماز پڑھتے دیکھا۔ جو شباہت کے لحاظ سے لوگوں میں سب سے زیادہ عروہؓ بن مسعود الثقفی کے قریب تھے۔ پھر ابراہیمؑ کو نماز پڑھتے دیکھا ان سے لوگوں میں سب سے زیادہ شباہت رکھنے والے تمہارے صاحب ہیں یعنی خود آنحضرتﷺ۔ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور میں نے ان سب کی امامت کی۔ پھر جب میں نماز سے فارغ ہوا تو کسی کہنے والے نے کہا اے محمدؐ! یہ مالک ہے جو آگ کا داروغہ ہے۔ اس کو سلام کرو۔ میں نے اس کی طرف توجہ کی تو اس نے مجھے پہلے سلام کیا۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ کو رات کو لے جایا گیا تو آپؐ کو سدرۃ المنتھٰی تک لے جایا گیا، جو چھٹے آسمان پر ہے۔ جو چیز زمین سے بلند کی جاتی ہے وہ اس تک پہنچتی ہے اور وہاں روک لی جاتی ہے۔ جو اس کے اوپر سے اترتی ہے وہ اس تک پہنچتی ہے اور وہاں روک لی جاتی ہے۔ (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے {اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی}(النجم: 17) (ترجمہ) جب بیری کو اس نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپ لیا‘‘ (راوی نے) کہا سونے کے پروانوں نے ڈھانپا۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہﷺ کو تین چیزیں دی گئیں۔ 1۔ آپؐ کو پانچ نمازیں دی گئیں۔ 2۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیات دی گئیں۔ 1: سدرۃ المنتھیٰ سے اس حد کی طرف اشارہ ہے جو بشریت کے عروج کی آخری حد ہے۔ 2: معلوم ہوتا ہے کہ ’’جو چھٹے آسمان پر ہے‘‘ سے ’’سونے کے پروانے، پتنگے‘‘ تک کی عبارت راوی کی اپنی عبارت ہے۔ 3۔ اور جو آپؐ کی امت میں سے اللہ کا شرک نہ کرے اس کی مہلک امور سے بخشش (کی بشارت)
شیبانی نے ہمیں بتایا کہ میں نے حضرت زرؓ بن حبیش سے فرمانِ الٰہی عزّ وجل { فَکَانَ قَابَ قَوسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ }(النجم: 10)(ترجمہ) پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا یا اس سے بھی قریب تر۔ کے بارہ میں سوال کیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے حضرت ابن مسعودؓ نے بتایا کہ نبیﷺ نے جبرائیل کو دیکھا۔ ان کے چھ سو پَر تھے۔
حضرت زرّ ؓ سے روایت ہے وہ حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے یہ آیت پڑھی { مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی} (النجم: 11) (ترجمہ) اور دل نے جھوٹ بیان نہیں کیا جو اس نے دیکھا اور کہا آپؐ نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔
حضرت زرؓ بن حبیش حضرت عبد اللہؓ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی {لَقَدْ رَأَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} (النجم: 19) یعنی اس نے اپنے رب کے نشانات میں سے سب سے بڑا نشان دیکھا۔ اور انہوں نے کہا آپؐ نے جبرائیل کو ان کی صورت میں دیکھا۔ اُس کے چھ سو پر تھے۔
آیت {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی} (النجم: 14) (ترجمہ) جبکہ وہ اسے ایک اور کیفیت میں بھی دیکھ چکا ہے۔ کے بارہ میں حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے جبرائیلؑ کو دیکھا تھا۔ : 249 حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ آپؐﷺ نے اسے دل (کی آنکھ) سے دیکھا تھا۔
حضرت ابنِ عباسؓ نے یہ آیت پڑھی { مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی (النجم: 12) وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی }(النجم: 14) اور دل نے جھوٹ بیان نہیں کیا جو اس نے دیکھا جبکہ وہ اسے ایک اور کیفیت میں دیکھ چکا ہے۔ اور کہا کہ آپؐ نے اسے دل (کی آنکھ) سے دو مرتبہ دیکھا۔