بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے تمہارے نبی ﷺ کے چچا کے بیٹے یعنی ابن عباسؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو جب اسراء کرایا گیا تو آپؐ نے ذکر فرمایا کہ موسیٰؑ گندمی رنگ کے لمبے قد کے آدمی تھے گویا کہ وہ شَنُوئَ ہْ (قبیلہ) کے آدمیوں میں سے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا عیسیٰؑ گھنگریالے بالوں والے میانہ قد تھے۔ پھر آپؐ نے مالک (یعنی) جہنم کے داروغہ کا ذکر فرمایا اور دجّال کا ذکر فرمایا۔
قتادہ حضرت ابو العالیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں تمہارے نبی ﷺ کے چچا زاد ابن عباسؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس رات مجھے اسراء کرایا گیا تو میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے پاس سے گزرا۔ وہ گندمی رنگ کے لمبے قد کے، گٹھے ہوئے جسم کے آدمی ہیں گویا شَنُوئَ ہْ (قبیلہ) کے آدمیوں میں سے ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ ؑ بن مریم کو دیکھا کہ میانہ قد اور مائل بہ سرخ و سفید، سیدھے بال والے تھے نیز مالک (یعنی) آگ کا داروغہ اور دجّال آپؐ کو دکھائے گئے۔ (یہ) اُن آیات میں (سے ہیں) جو اللہ نے آپؐ کو دکھائیں۔ پس تو اس کی ملاقات میں شک نہ کر۔ (الآیۃ) وہ کہتے ہیں کہ قتادہ اس کی تفسیر یوں کرتے تھے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے موسیٰ ؑ سے ملاقات کی تھی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ وادی ازرق میں سے گزرے تو آپؐ نے پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ انہوں نے کہا یہ وادی ازرق ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو ثنیہ (گھاٹی) سے اُترتے دیکھ رہا ہوں اور آپؑ اللہ کے حضور بلند آواز سے تلبیہ پڑھ رہے ہیں۔ پھر آپؐ ہرشٰی گھاٹی پر آئے تو آپؐ نے پوچھا کون سی گھاٹی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ثنیہ ہرشٰی۔ آپؐ نے فرمایا گویا میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں وہ ایک سرخ رنگ کی گٹھے ہوئے جسم کی اونٹنی پر سوار ہیں اور اُونی جُبّہ پہنے ہوئے ہیں اور تلبیہ کہہ رہے ہیں اور ان کی اونٹنی کی نُکیل کھجور کی چھال کی بنی ہوئی ہے۔ ابن حنبل اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ہشیم نے کہا کہ (خلبہ سے مراد) لیف یعنی کھجور کی چھال ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر پر گئے۔ ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا۔ آپؐ نے پوچھا یہ کون سی وادی ہے؟ انہوں نے کہا یہ وادی ازرق ہے۔ آپؐ نے فرمایا گویا کہ میں موسیٰﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ (پھر انہوں نے ان کے رنگ اور بالوں کا کچھ ذکر کیا جسے داوٗد یاد نہ رکھ سکے)۔ وہ اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈالے اللہ کے حضور بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی (ازرق) سے گزر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم چلتے گئے۔ یہانتک کہ ہم ایک گھاٹی میں پہنچے۔ آپؐ نے پوچھا یہ کون سی گھاٹی ہے؟ انہوں نے کہا ہرشٰی یا لفت ہے۔ آپؐ نے فرمایا گویا میں یونسؑ کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ رنگ کی اونٹنی پر اونی جُبّہ پہنے تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی میں سے گزر رہے ہیں۔ ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی (بنی ہوئی) ہے۔
مجاہد سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس تھے کہ لوگوں نے دجّال کا ذکر کیا۔ کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں ابن عباسؓ نے کہا کہ میں نے آپؐ کو نہیں سنا کہ آپؐ نے یہ فرمایا ہو مگر آپؐ نے فرمایا تھا جہاں تک ابراہیمؑ کا تعلق ہے تو اپنے صاحب کو دیکھ لو۔ جہاں تک موسیٰؑ کا تعلق ہے وہ گٹھے ہوئے جسم کے گندم گوں آدمی تھے۔ وہ سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی گویا کہ مَیں آپ کو وادی میں اترتے ہوئے تلبیہ کہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے سامنے انبیاء پیش کئے گئے۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ موسیٰ معتدل بدن کے گویا کہ وہ شَنُوْئَ ہ (قبیلہ) کے مرد ہیں اور میں نے عیسیٰؑ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا اور ان کے قریب ترین شباہت کے لحاظ سے جن کو میں نے دیکھا ہے عروہ بن مسعودؓ ہیں اور میں نے ابراہیم صلوات اللہ علیہ کو دیکھا اور ان سے قریب ترین شباہت میں جس کو میں نے دیکھا تمہارا صاحب ہے۔ یعنی خود حضورﷺ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا جسے میں نے شباہت کے لحاظ سے جن کو میں نے دیکھا سب سے زیادہ دحیہؓ کے قریب پایا۔ ابن رمح کی روایت میں دِحیہؓ بن خلیفہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جب مجھے اسراء کرایا گیا تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا۔ پھر نبیﷺ نے ان کا حلیہ بیان کیا۔ جہاں تک میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسے مرد تھے جو لمبے قد کے اور کچھ خمدار بالوں والے تھے۔ گویا کہ وہ شنوء ہ (قبیلہ) کے مردوں میں سے تھے۔ آپؐ نے فرمایا اور میں عیسیٰ ؑ سے ملا۔ پھر نبیﷺ نے ان کا حلیہ بیان کیا کہ وہ سرخ رنگ کے میانہ قامت آدمی ہیں۔ گویا (ابھی ابھی) دیماس یعنی حمام سے نکلے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا مَیں نے ابراہیم صلوات اللہ علیہ کو دیکھا اور میں ان کی اولاد میں سے ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی۔ مجھے کہا گیا کہ دونوں میں سے جو چاہو لے لو۔ چنانچہ میں نے دودھ لے لیا اور اسے پی لیا۔ اس نے کہا آپؐ کو فطرت کی طرف رہنمائی کی گئی یا آپؐ نے ٹھیک فطرت کو پایا ہے۔ اگر آپؐ شراب لے لیتے تو آپؐ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک رات کعبہ کے پاس دیکھا۔ میں نے ایک گندم گوں شخص کو دیکھا جو گندمی رنگ کے لوگوں میں سے تم حسین ترین دیکھ سکتے ہو۔ اس کی زلفیں تھیں جو خوبصورت ترین زلفیں تم دیکھ سکتے ہو۔ انہوں نے ان کو کنگھی کی ہوئی تھی۔ اور ان سے پانی ٹپکتا تھا۔ وہ دو آدمیوں یا دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لئے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو کہا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہے پھر میں نے ایک اور آدمی کو دیکھا جس کے بال گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا کہ وہ پھولا ہوا انگور تھا۔ مَیں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ یک چشم نہیں ہے لیکن سنو مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا کہ اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے رات رؤیا میں خود کو کعبہ کے پاس دیکھا اور ایک گندم گوں آدمی کو دیکھتا ہوں جو گندم گوں لوگوں میں تم حسین ترین دیکھتے ہو۔ اس کی زلفیں کندھوں کے درمیان پڑتی تھیں۔ اس کے بال خمدار تھے اس کے سر سے پانی ٹپکتا تھا وہ دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔ وہ دونوں کے درمیان خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ مسیح ابن مریم ہے۔ میں نے اس کے پیچھے ایک گھنگریالے بالوں والا ایک آدمی دیکھا جو دائیں آنکھ سے کانا تھا۔ میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ ابن قطن سے مشابہ تھا۔ اور دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے کعبہ کے پاس سیدھے بالوں والے ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا جو دو آدمیوں پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔ اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا یا ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم ہے۔ (راوی کہتے ہیں) ہمیں نہیں پتہ کہ آپؐ نے (ان دونوں میں سے) کیا فرمایا۔ فرمایا کہ میں نے اس کے پیچھے سرخ رنگ کے ایک آدمی کو دیکھا جو گھنگریالے بالوں والا اور دائیں آنکھ سے کانا تھا اور جن کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے سب سے زیادہ ابن قطن سے مشابہت رکھتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے۔