بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 319 hadith
یحیٰ بن یَعمَر سے روایت ہے کہ سب سے پہلے بصرہ میں جس نے تقدیر کے بارہ میں گفتگو کی وہ معبد جُہَنِی تھا۔ میں اور حمید بن عبدالرحمان حمیری دونوں حج یا عمرہ کے لئے نکلے تو ہم نے کہا کہ کاش ہمیں رسول اللہﷺ کے صحابہؓ میں سے کوئی ملے تو ہم اس سے اس بارہ میں سوال کریں جو یہ لوگ تقدیر کے بارہ میں کہتے ہیں تو ہمیں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے مسجد میں داخل ہوتے ہوئے ملاقات کا موقع مل گیا۔ چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے ان کو درمیان میں کر لیا۔ ہم میں سے ایک ان کے دائیں اور ایک ان کے بائیں ہو گیا۔ مجھے خیال تھا کہ میرا ساتھی مجھے گفتگو کرنے کا موقع دے گا۔ مَیں نے کہا اے ابو عبدالرحمان! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ نکلے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم کا کھوج لگاتے ہیں۔ (یحییٰ ابن یعمر نے ان کی حالت کا ذکر کیا) اور یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور ہر کام بغیر جبر از خود ہورہا ہے۔ آپؓ نے کہا کہ جب تم ایسے لوگوں سے ملو تو انہیں بتا دو کہ میں ان سے بَری ہوں اور وہ مجھ سے بَری ہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس کی عبداللہ بن عمرؓ قسم کھاتا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس اُحد (پہاڑ) جتنا سونا ہو اور وہ اسے خرچ کرے تو بھی اللہ اسے قبول نہ کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ پھر آپؓ نے کہا کہ میرے والد حضرت عمر بن خطابؓ نے مجھے بتایا کہ ایک روز ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہمارے پاس ایک بہت سفید کپڑوں میں ملبوس بہت سیاہ بالوں والا آدمی آیا، نہ تو اس پر کوئی سفر کے آثار نظر آتے تھے، نہ ہی اُسے ہم میں سے کوئی جانتا تھا یہانتک کہ وہ نبیﷺ کی طرف رُخ کر کے بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے دونوں گھٹنے آپﷺ کے دونوں گھٹنوں سے لگا دئیے اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر رکھے اور پھر کہا کہ اے محمدؐ! مجھے اسلام کے بارہ میں (کچھ) بتائیے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تم وہاں جانے کی طاقت رکھتے ہو۔ اس نے کہا آپؐ نے ٹھیک کہا۔ حضرت عمرؓ نے کہا ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ (خود) ہی آپؐ سے سوال کرتا ہے اور (خود) ہی آپؐ کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا مجھے ایمان کے بارہ میں بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخری دن پر اور اس کی خیر و شر کی تقدیر پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا کہ آپؐ نے ٹھیک فرمایا۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے احسان کے بارہ میں بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ (احسان یہ ہے کہ) تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں یقیناً دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے اس گھڑی کے بارہ میں بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس سے اس کے متعلق پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی نشانی بتائیے۔ آپﷺ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک دن باہر لوگوں میں تشریف فرما تھے تو آپؐ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتاب اور اس سے ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو اور تم اُخروی زندگی پر ایمان لاؤ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور فرض نماز ادا کرو اور زکوٰۃ جو فرض کی گئی ہے ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! وہ گھڑی کب آئے گی؟ آپؐ نے فرمایا جس سے اس کے بارہ میں پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ ہاں میں تمہیں اس کی علامات بتاتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنے تو یہ اس (گھڑی) کی نشانیوں میں سے ہے اور جب ننگے بدن، ننگے پاؤں والے، لوگوں کے سردار ہوں تو یہ بھی اس (گھڑی) کی نشانیوں میں سے ہے اور جب جانور چرانے والے بلند عمارتیں بنانے میں مقابلہ کرنے لگیں تو یہ بھی اس (گھڑی) کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس گھڑی کا علم (غیب کی) ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، پھر آپﷺ نے آیت پڑھی۔ (ترجمہ) یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس اس گھڑی کا علم ہے اور وہ بارش کو اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔ (لقمان: 35) انہوں نے کہا وہ آدمی چلا گیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اس آدمی کو میرے پاس واپس لاؤ۔ وہ اسے واپس لینے گئے مگر انہوں نے کچھ نہ دیکھا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابو حیان التیمی کی روایت میں وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّھَا کے بجائے وَلَدَتِ الْاَمَۃُ بَعْلَھَا کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھ سے سوال کرو۔ لوگ آپؐ سے سوال کرنے سے ڈرے۔ پھر ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تم کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا: آپؐ نے ٹھیک فرمایا۔ پھر اس نے پوچھا یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتاب اور اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور دوبارہ جی اُٹھنے اور تمام تقدیر پر ایمان رکھو۔ اس نے کہا: آپؐ نے سچ فرمایا ہے پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: تم اللہ کی ایسی خشیت اختیار کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ (تو) تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا: آپؐ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ گھڑی کب آئے گی؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس سے اس کے بارہ میں پوچھا جارہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا، ہاں میں تمہیں اس کی علامات بتاتا ہوں جب تم دیکھو کہ عورت اپنے آقا کو جنم دیتی ہے تو یہ اس (گھڑی) کی علامات میں سے ہے اور جب تم دیکھو کہ ننگے پاؤں ننگے بدن، بہرے اور گونگے زمین کے بادشاہ بن گئے ہیں تو یہ بھی اس کی علامتوں میں سے ہے اور جب تم دیکھو کہ جانوروں کے چرواہے بلند عمارتیں بنانے میں مقابلہ کر رہے ہیں تو یہ بھی اس کی علامتوں میں سے ہے۔ یہ غیب کی پانچ باتوں میں سے ایک ہے جن کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی۔ (ترجمہ) یقینا اللہ ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش کو اُتارتا ہے اور جانتا ہے کہ رِحموں میں کیا ہے اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ یقینا اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور) ہمیشہ باخبر ہے۔ (لقمان: 35) وہ کہتے ہیں پھر وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس واپس لاؤ۔ اسے تلاش کیا گیا مگر انہوں نے اسے نہ پایا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے کیونکہ تم سوال نہیں کر رہے تھے اس لئے انہوں نے ارادہ کیا کہ تم علم حاصل کرو۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کہتے ہیں کہ اہل نجد میں سے ایک پراگندہ سر، آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا۔ ہم اس کے بولنے کی آواز سنتے تھے مگر سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یہاں تک کہ وہ رسول اللہﷺ کے قریب ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: پانچ نمازیں دن رات میں ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل پڑھو، اور ماہ رمضان کے روزے۔ اس نے کہا کیا مجھ پر ان کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں سوائے اس کے کہ تم نفلی روزے رکھو۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا ذکر فرمایا تو اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں سوائے اس کے کہ تم نفل کے طور پر دو۔ انہوں نے کہا وہ شخص چلا گیا اور وہ کہتا جاتا تھا خدا کی قسم میں نہ تو اس سے زیادہ کروں گا اور نہ اس سے کم کروں گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا۔ اسماعیل بن جعفر سے حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کی روایت میں یہی حدیث مالک کی روایت کی طرح مروی ہے سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: اس کے باپ کی قسم! اگر اس نے سچ بولا ہے تو کامیاب ہو گا۔ یا فرمایا: جنت میں داخل ہو گیا اور اس کے باپ کی قسم اگر اس نے سچ کہا۔
حضرت انسؓ بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ سے سوال کرنے سے منع کیا گیا تھا اس لئے ہم پسند کرتے تھے کہ بدویوں میں سے کوئی سمجھ دار آدمی آکر آپؐ سے سوال کرے اور ہم سن رہے ہوں۔ ایک دن ایک بدوی آیا اور کہا اے محمدؐ! آپ کا ایلچی ہمارے پاس آیا ہے اور اس نے ہمیں کہا ہے کہ آپؐ دعوٰی کرتے ہیں کہ اللہ نے آپؐ کو بھیجا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس شخص نے کہا: آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ فرمایا اللہ نے۔ اس نے کہا زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ فرمایا: اللہ نے۔ اس نے کہا: یہ پہاڑ کس نے کھڑے کئے ہیں اور ان کے اندر کی چیزیں کس نے پیدا کی ہیں؟ فرمایا: اللہ نے۔ اس نے کہا: میں اس کی قسم دیتا ہوں جس نے آسمان کو پیدا کیا ہے اور زمین پیدا کی ہے اور یہ پہاڑ کھڑے کئے ہیں کہ کیا اللہ نے آپؐ کو بھیجا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا آپؐ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں؟ فرمایا: وہ سچ کہتا ہے۔ اس نے کہا: جس اللہ نے آپؐ کو بھیجا ہے اس کی قسم دیتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپؐ کو اس کا حکم دیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا آپؐ کا ایلچی کہتا ہے کہ ہم پر ہمارے اموال میں زکوٰۃ فرض ہے؟ فرمایا اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا اس کی قسم دیتا ہوں جس نے آپؐ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپؐ کو یہ حکم دیا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا آپؐ کا ایلچی کہتا ہے کہ ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں؟ فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: اس کی قسم جس نے آپؐ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپؐ کو یہ حکم دیا ہے؟ فرمایا ہاں۔ اس نے کہا آپؐ کا ایلچی کہتا ہے کہ ہم پر بیت اللہ کا حج فرض ہے اس کے لئے جو راستہ کی استطاعت رکھتا ہے؟ فرمایا: وہ سچ کہتا ہے۔ انہوں نے کہا اس پر وہ شخص جاتے ہوئے کہنے لگا: اس کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں ان میں نہ کوئی اضافہ کروں گا اور نہ ہی کوئی کمی کروں گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو ضرور جنت میں داخل ہو جائے گا۔ ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انسؓ نے کہا ہمیں قران میں منع کیا گیا تھا کہ ہم رسول اللہﷺ سے کسی چیز کے متعلق (بہت) سوال پوچھیں اور پھر انہوں نے یہی روایت بیان کی۔
حضرت ابو ایوبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہﷺ کے سامنے آیا اور آپؐ سفر میں تھے اس نے آپؐ کی اونٹنی کی لگام یا نکیل پکڑ لی اور کہا یا رسول اللہ! یا کہا اے محمدؐ! مجھے وہ چیز بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور وہ چیز جو مجھے آگ سے دور کر دے؟ انہوں نے کہا نبیﷺ رک گئے پھر اپنے صحابہؓ کو دیکھا اور فرمایا: اس آدمی کو توفیق دی گئی یا فرمایا اسے ہدایت دی گئی۔ فرمایا: تم نے کیا پوچھا ہے؟ راوی نے کہا اس نے دہرایا تو نبیﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔ (پھر فرمایا اور اب میری) اونٹنی چھوڑ دو۔
حضرت ابو ایوبؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس آیا اور کہا مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو میں کروں اور وہ مجھے جنت کے قریب کرے اور آگ سے دور کر دے؟ فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔ جب وہ واپس ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اگر اس نے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو جنت میں داخل ہوگا۔ ایک روایت میں اِنْ تَمَسَّکَ بِمَا اُمِرَ بِہِ کی جگہ تَمَسَّکَ بِہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جب میں وہ کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپؐ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور فرض نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے نہ میں کبھی اس پر کوئی اضافہ کروں گا اور نہ اس میں کوئی کمی کروں گا۔ جب وہ چلا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا جس کو یہ بات خوش کرتی ہو کہ جنت والوں میں سے کسی شخص کو دیکھ لے وہ اس کو دیکھ لے۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ حضرت نعمانؓ بن قوقل نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ! فرمائیے اگر میں فرض نمازیں ادا کروں اور حرام کو حرام سمجھوں اور حلال کو حلال سمجھوں کیا میں جنت میں جاؤں گا؟ نبیﷺ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ نعمان بن قوقل نے کہا یا رسول اللہ! اور ایسی ہی روایت بیان کی اور مزید کہا کہ اس سے زیادہ اور کچھ نہ کروں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا اور کہا آپؐ فرمائیے اگر میں فرض نمازیں ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور ان میں کوئی اضافہ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں ان پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔