بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 36 hadith
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے بتایا_ اور آپؐ صادق ومصدوق تھے _ کہ تم میں سے ہر ایک کے تخلیقی مواد کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک اکٹھا کیا جاتا ہے۔ پھر اس طرح اتنے ہی عرصہ میں وہ علقہ بن جاتا ہے۔ پھر اس طرح اتنے ہی عرصہ میں وہ مضغہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر فرشتہ کو بھیجا جاتا ہے۔ وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، اس کی موت، اس کے عمل، اس کے بد بخت یا نیک بخت ہونے کی تحریر کے بارے میں۔ اس کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، یقینا تم میں سے کوئی جنتیوں والے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے۔ پھر وہ دوزخیوں والے اعمال کرنے لگ جاتا ہے اور پھر اس میں داخل ہو جاتا ہے اور یقینا تم میں سے کوئی دوزخیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے تو وہ جنتیوں والے کام کرنے لگتا ہے اور اس (جنت) میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایک روایت میں (اِنَّ اَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقَہُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا کی بجائے) اِنَّ خَلْقَ اَحَدِکُمْ یُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہِ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں (اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا کی بجائے) اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا کے الفاظ ہیں۔
حضرت حذیفہؓ بن اَسید اس (حدیث) کو نبیﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ فرمایا: نطفہ چالیس یا پینتالیس رات تک رحم میں قرار پکڑ جانے کے بعد فرشتہ اس (نطفہ) پر داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے یا ربِّ! بد بخت ہے یا نیک بخت؟ پس دونوں کے بارہ میں لکھا جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے اے میرے ربّ! مذکر یا مؤنث؟ پھر دونوں کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ پھر اس کا عمل، اس کے اثرات، اس کی اجل، اس کا رزق لکھا جاتا ہے۔ پھر صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ پھر نہ اس میں کوئی زیادتی کی جاتی ہے اور نہ کچھ کمی کی جاتی ہے۔
حضرت عامرؓ بن واثلہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ بے نصیب وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بے نصیب ہوا اور نیک بخت وہ ہے جس نے دوسرے سے نصیحت پکڑی۔ پھر وہ (عامرؓ) رسول اللہﷺ کے ایک (اور) صحابیؓ جنہیں حضرت حذیفہؓ بن اسید غفاری کہا جاتا تھا، کے پاس آئے اور انہیں حضرت ابنِ مسعودؓ کی یہ بات بتائی اور کہا کہ ایک آدمی بغیر کسی عمل کے بد بخت کیسے ہو سکتا ہے؟ اس پر انہوں (حضرت حذیفہؓ) نے کہا کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو؟ مَیں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب نطفہ پر بیالیس راتیں گذر جائیں تو اللہ اس (نطفہ) کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے صورت دیتا ہے، اسے سماعت دیتا ہے، اسے بصارت دیتا ہے، اس کی جلد، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں پیدا کرتا ہے۔ پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب! کیا مذکر ہے یا مؤنث؟ پھر جو تیرا رب چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے۔ پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب! اس کی موت؟ پھر تیرا رب جو چاہتا ہے کہتا ہے۔ اور وہ فرشتہ لکھتا ہے۔ پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب! اس کا رزق؟ پھر تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور وہ فرشتہ لکھتا ہے۔ پھر فرشتہ صحیفہ اپنے ہاتھ میں لئے نکلتا ہے۔ پھر اس پر جو حکم ہوتا ہے، نہ تو کچھ زیادتی کرتا ہے، نہ کچھ کمی کرتا ہے۔
حضرت ابو طفیلؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو سریحہ حذیفہ بن اسیدؓ غفاری کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا کہ مَیں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نطفہ رحم میں چالیس رات رہتا ہے۔ پھر فرشتہ اسے صورت دیتا ہے _ راوی زہیر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرشتہ صورت دیتا ہے کی بجائے کہا وہ جو پیدا کرتا ہے _ اور وہ کہتا ہے اے میرے رب! کیا یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ پھر اللہ اسے مذکر یا مؤنث بنا دیتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے اے میرے رب! ٹھیک یا ناقص؟ پس وہ اسے ٹھیک یا ناقص بنا دیتا ہے۔ پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب! اس کا رزق کیا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہے؟ اس کا خُلق کیسا ہے؟ پھر اللہ اسے بد بخت یا نیک بخت بنا دیتا ہے۔ ایک اور روایت رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت حذیفہؓ بن اَسید غفاری سے مروی ہے اور وہ رسول اللہﷺ تک اس حدیث کو مرفوع بیان کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ جو رِحم پر مؤکل ہوتا ہے جب رِحم میں اللہ تعالیٰ کچھ پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے، اللہ کے اذن سے، چالیس اور کچھ راتوں کے لئے۔۔۔باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے اور وہ اسے مرفوع کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ عز ّوجل نے رِحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے۔ وہ (فرشتہ) کہتا ہے اے میرے رب! نطفہ، اے میرے رب! علقہ (لوتھڑا)، اے میرے رب! مضغہ (گوشت کا ٹکڑا)۔ پھر جب اللہ پیدائش کی تکمیل کا ارادہ فرماتا ہے۔ (حضورﷺ نے) فرمایا: فرشتہ کہتا ہے اے میرے رب! مذکر یا مؤنث؟ بدبخت یا نیک بخت؟ اس کا رزق کیا ہے؟ اس کی زندگی کتنی ہے؟ چنانچہ اسی طرح اس کی ماں کے پیٹ میں لکھا جاتا ہے۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم بقیع الغرقد میں ایک جنازہ کے لئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم آپؐ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپؐ کے پاس ایک چھڑی تھی۔ پھر آپؐ نے سر جھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کریدنے لگے پھر فرمایا: تم میں سے کوئی جان بھی نہیں مگر اللہ نے جنت اور دوزخ میں اس کی جگہ لکھ چھوڑی ہے بلکہ یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ وہ بد بخت ہے یا نیک بخت۔ راوی کہتے ہیں اس پر ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے (اپنی تقدیر) پر ہی نہ بیٹھ رہیں اور عمل چھوڑ دیں؟ اس پر حضورؐ نے فرمایا: جو سعادت مندوں میں سے ہوگا وہ سعادت مندوں والے کام کرے گا اور جو بد بختوں میں سے ہوگا وہ بدبختوں والے کام کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کے لئے میسر کیا گیا ہے۔ جہاں تک سعادت مندوں کا تعلق ہے ان کے لئے سعادت مندوں والے کام آسان کئے گئے ہیں پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی پس وہ جس نے (راہِ حق میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بہترین نیکی کی تصدیق کی تو ہم اسے ضرور کشادگی عطا کریں گے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بہترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے ایک اور روایت میں (مِخْصَرَۃ کی بجائے) عُوْداً کا لفظ ہے۔
حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے اور آپؐ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپؐ لکیریں کھینچ رہے تھے۔ پھر آپؐ نے اپنا سر اُٹھایا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی جان نہیں مگر جنت اور دوزخ میں اس کی جگہ مقرر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! تو ہم عمل کیوں کریں کیا ہم اسی پر بھروسہ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، عمل کرو! کیونکہ ہر ایک کے لئے وہ میسر کیا گیا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی پس وہ جس نے (راہِ حق میں ) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بہترین نیکی کی تصدیق کی تو ہم اسے ضرور کشادگی عطا کریں گے اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بہترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اسے ضرور تنگی میں ڈال دیں گے۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سراقہؓ بن مالک بن جُعشم آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمارے لئے ہمارے دین کو خوب کھول دیجئے گویا کہ ہمیں آج پیدا کیا گیا ہے۔ آج کا عمل کیا ہے ہم جو عمل کرتے ہیں تو جس وجہ سے کرتے ہیں جس کو لکھ کر قلم سوکھ گئیں اور تقدیریں جاری ہو گئیں یا جس وجہ سے جو آگے ہونے والا ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں، بلکہ جس بارہ میں قلمیں خشک ہو گئیں اور تقدیریں چل گئیں۔ انہوں (سراقہؓ) نے عرض کیا کہ پھر عمل کس لئے؟ زہیر کہتے ہیں کہ پھر ابو الزبیر نے کچھ کہا جسے میں سمجھ نہیں سکا۔ پھر مَیں نے (اس سے) پوچھا جو اس نے کہا تھا۔ اس نے کہا: عمل کرو کیونکہ ہر ایک کے لئے (وہ عمل) میسّر کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک عمل کرنے والے کو اس کا عمل میسر ہے۔
حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ! کیا جنت والے دوزخ والوں سے الگ معلوم ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں پھر عرض کیا گیا تو پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کریں ! آپؐ نے فرمایا: ہر ایک کے لئے وہ میسر ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں (قیلَ کی بجائے) قُلْتُ کے الفاظ ہیں۔
ابو الاسود الدیلی سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصینؓ نے مجھ سے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج لوگ جو کام کر رہے ہیں؟ اور جس لئے محنت کر رہے ہیں؟ کیا یہ وہ ہے جس کا ان کے لئے فیصلہ کیا جا چکا ہے؟ اور جو تقدیر پہلے سے ہی ان کے متعلق جاری ہو چکی ہے یا جس سے ان کا مستقبل میں واسطہ پڑے گا اس میں جو ان کا نبی ان کے پاس لایا اور ان پر حجت تمام ہوگئی۔ اس پر میں نے کہا بلکہ اس بارہ میں جو اُن کے لئے فیصلہ کر دیا گیا ہے اور جو اُن کے بارہ میں گزر چکا ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس نے کہا: کیا یہ ظلم نہیں؟ راوی کہتے ہیں میں اس سے بہت سخت گھبرا گیا میں نے کہا ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے اور اس کی ملکیت ہے۔ پس اس سے اس بارہ میں جو وہ کرتا ہے پوچھا نہیں جائے گا بلکہ وہ پوچھے جائیں گے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے مَیں نے یہ پوچھنے کا صرف اس لئے ارادہ کیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تیری عقل کو آزماؤں۔ مزینہ (قبیلہ) کے دو شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! فرمائیے کہ آج لوگ جو کام کر رہے ہیں؟ اور اس میں محنت کر رہے ہیں؟ کیا یہ وہ ہے جو اُن پر فیصلہ کر دیا گیا ہے؟ اور تقدیر ہے جو پہلے سے مقرر ہو چکی ہے یا جس سے ان کا مستقبل میں واسطہ پڑے گا اس میں جو اُن کا نبی ان کے پاس لایا اور اُن پر حجت تمام ہوگئی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا بلکہ اس چیز کے بارہ میں جس کا فیصلہ کر دیا گیا ہے اور وہ (تقدیر) ان میں جاری ہو چکی ہے اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں یوں ہے وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا اور قسم ہے ہر جان کی اور جیسے اس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا۔ پس اس کی بے اعتدالیوں اور اس کی پرہیزگاریوں (کی تمیز کرنے کی صلاحیت) کو اس کی فطرت میں ودیعت کیا۔