بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 36 hadith
حضرت ابن عباسؓ حضرت اُبی َبن کعبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یقینا وہ لڑکا جِسے خضر نے قتل کیا تھا اس پر کفر کی مُہر لگائی گئی تھی۔ اگر وہ زندہ رہتا تو ضرور وہ سرکشی اور کفر کا بوجھ اپنے ماں باپ پر ڈال دیتا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں ایک بچہ کی وفات ہو گئی تو مَیں نے کہا کہ اس کے لئے خوشخبری ہو وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم جانتی نہیں کہ اللہ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لئے کچھ رہنے والے بنائے اور کچھ اس کے لئے رہنے والے بنائے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو انصار کے ایک بچے کے جنازہ کے لئے بلایا گیا تو میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اس کے لئے مبارک ہو وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ اس نے کوئی برا عمل نہیں کیا نہ ہی برائی کی عمر تک پہنچا آپؐ نے فرمایا اے عائشہؓ! کیا اس کے علاوہ کچھ اور! اے عائشہؓ! اللہ نے جنت کے لئے اس کے رہنے والے پیدا کئے اس نے ان کو اس کے لئے ہی پیدا کیا جبکہ وہ اپنے آباء و اجداد کی پشت میں تھے اور اس نے آگ کے لئے رہنے والے بنائے اور اس نے انہیں اس کے لئے پیدا کیا جبکہ وہ ابھی اپنے آباء و اجداد کی پشت میں تھے۔
حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام حبیبہؓ نے کہا اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہﷺ سے اور میرے باپ ابوسفیان سے اور میرے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا (یعنی ان کی عمر لمبی ہو)۔ وہ (عبداللہ) کہتے ہیں اس پر نبیﷺ نے فرمایا یقینا تم نے اللہ سے ایسی عمروں کے بارہ میں دعا کی ہے جو مقرر ہو چکی ہیں اور ان دنوں کے بارہ میں جو گنتی شدہ ہیں اور ایسے رزقوں کے بارہ میں جو تقسیم کئے جا چکے۔ اللہ کسی چیز کو اس کے معین وقت سے پہلے نہیں لاتا اور نہ اس کے وقت مقررہ سے تاخیر میں ڈالتا ہے اگر تم یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ کے عذاب سے پناہ دے یا قبر میں عذاب سے تو وہ زیادہ بہتر اور افضل تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپؐ کے پاس بندروں کا ذکر کیا گیا کہ وہ مسخ شدہ قوم میں سے ہیں۔ مسعر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے سؤر بھی کہا تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ کسی مسخ شدہ کی نسل یا اولاد اللہ نے نہیں بنائی اور بندر اور سؤر تو اس سے پہلے بھی تھے۔ ایک روایت میں (عَذَابٍ فِی النَّارِ اَوْ عَذَابٍ فِی القَبْرِ کی بجائے) عَذَابٍ فِی النَّارِ وَعَذَابٍ فِی القَبْرِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حبیبہؓ نے کہا: اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہﷺ سے میرے باپ ابو سفیان اور میرے بھائی معاویہ سے متمتع فرما۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: یقینا تم نے اللہ سے وہ عمریں مانگی ہیں جو مقرر کی جا چکی ہے اور نشانات جو لگ چکے ہیں اور وہ رزق جو تقسیم کر دیئے گئے ہیں۔ اللہ ان میں سے کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے نہیں لاتا نہ ہی اس کا وقت آجانے کے بعد ان میں سے کسی چیز کو تاخیر میں ڈالتا ہے۔ اگر تم اللہ سے آگ میں عذاب اور قبر کے عذاب سے عافیت طلب کرتیں تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر ایک آدمی نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! (کیا یہ) بندر اور سؤر اُن میں سے ہیں جن کو مسخ کیا گیا تھا؟ اس پر نبیﷺ نے فرمایا یقینا کسی قوم کو اللہ نے ہلاک نہیں کیا یا عذاب نہیں دیا کہ پھر ان کی نسل چلائی ہو اور بندر اور سؤر تو پہلے سے موجود تھے۔ ایک روایت میں (آثَارٍ مَوْطُوْئَۃٍ کی بجائے) آثَارٍ مَبْلُوغَۃٍ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت میں قَبْلَ حِلِّہِ سے مراد، اس کے نزول سے پہلے ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ طاقتور مومن کمزور مومن سے بہتر ہے اور اللہ کو زیادہ پیارا ہے جو بھی تیرے لئے مفید ہے تو اس کی خواہش رکھ اور اللہ سے مدد طلب کر اور ہمت نہ ہار اور اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو یہ مت کہہ کہ اگر میں (ایسا) کرتا تو یہ یہ ہو جاتا بلکہ کہو کہ اللہ کی تقدیر تھی جو اس نے چاہا سو کیا کیونکہ (لفظ) لَو ْ (یعنی اگر) تو شیطان کے لئے راہ کھول دے گا۔