بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت عثمان بن ابو العاصؓ کہتے ہیں کہ آخری تاکیدی ارشاد جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مختصر نماز پڑھاتے (لیکن ارکان) پورے ادا فرماتے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے ہلکی (لیکن) مکمل نماز پڑھانے والے تھے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے بڑھ کر ہلکی نماز اور مکمل نماز کبھی کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں بچّہ کے رونے کی آواز سنتے جو اپنی ماں کے ساتھ ہوتا تو آپؐ ہلکی سورۃ یا چھوٹی سورۃ کی قراءت فرماتے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتا ہوں تو ارادہ کرتا ہوں کہ اسے لمبا کر دوں لیکن جب میں بچہ کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس کی ماں کی احساسِ تکلیف کی شِدّت کے باعث اس (نماز) کو ہلکا کر دیتا ہوں۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمدﷺ کے ساتھ (نماز پڑھتے ہوئے آپؐ کی) نماز کو بہت غور سے دیکھا تو میں نے دیکھا کہ آپؐ کے قیام، آپؐ کے رکوع اور آپؐ کے رکوع کے بعد کھڑا ہونے اور آپؐ کا سجدہ اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور دوسرا سجدہ اور آپؐ کا سلام پھیرنا اور اٹھنے کے درمیان بیٹھنا قریبًا برابر تھا۔
حکم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن اشعث کے زمانہ میں ایک شخص کوفہ پر حاکم ہوا۔ اس کا نام (حکم) نے بیان کیا تھا۔ اس نے ابو عبیدہ بن عبداللہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پس وہ نماز پڑھاتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اتنا کھڑے ہوتے کہ میں یہ کہہ لیتا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ۔۔۔ الخ اے اللہ! ہمارے پروردگار ہر قسم کی تعریف، آسمانوں اور زمین بھر تیرے ہی لئے ہے۔ اس کے بعد ہر اس چیز کے برابر جو تو چاہے۔ اے قابلِ تعریف اور بلند شان والے جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ کوئی عطاء نہیں کر سکتا اور کسی بزرگی والے کو تیرے مقابلہ پر اس کی بزرگی بالکل نفع نہیں دے سکتی۔ حکم کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت براء بن عازبؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ کی نماز آپؐ کا رکوع آپؐ کا رکوع سے سر اٹھانا اور آپؐ کا سجدہ اور دونوں سجدوں کا درمیانی وقفہ قریبًا برابر تھے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر عمرو بن مرّۃ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے لیکن ان کی نماز تو ایسی نہیں تھی۔ شعبہ نے ہمیں حکم سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ مطر بن ناجیہ جب کوفہ پر غالب ہوا تو اس نے ابو عبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور آگے پوری حدیث بیان کی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جس طرح میں نے رسول اللہﷺ کو ہمیں نماز پڑھاتے دیکھا ہے تمہیں نماز پڑھاتے وقت میں اس میں کوئی کمی نہیں کرتا وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک چیز حضرت انسؓ کرتے تھے میں تم لوگوں کو کرتے نہیں دیکھتا۔ آپؓ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے رہتے یہا ں تک کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے یہا ں تک کہ کہنے والا کہتا کہ آپ بھول گئے ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ کی نماز متوازن تھی اور (اس کے ارکان) قریب قریب (برابر) تھے۔ اور حضرت ابو بکرؓ کی نماز بھی متوازن تھی لیکن حضرت عمر بن خطابؓ فجر کی نماز لمبی پڑھاتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم کہتے آپؐ بھول گئے ہیں پھر آپؐ سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپؐ بھول گئے ہیں۔