بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عشاء کی نماز میں وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ سُنی اور میں نے آپؐ سے زیادہ خوبصورت آواز والا کوئی نہیں سنا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں حضرت معاذؓ نبیﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے پھر آ کر اپنے لوگوں کی اِمامت کرتے تھے۔ ایک رات انہوں نے نبیﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی پھر اپنے لوگوں کے پاس آ کر ان کی امامت کی تو اس میں سورہ بقرہ شروع کر دی اس پر ایک آدمی الگ ہو گیا اور سلام پھیرا، اکیلے نماز پڑھی اور جانے لگا۔ اس پر لوگوں نے اسے کہا کہ اے فلاں کیا تو منافق ہو گیا ہے؟ اس پر اس نے جواب دیا نہیں خدا کی قسم اور میں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں جاؤں گا اور ضرور یہ آپؐ کو بتاؤں گا۔ چنانچہ وہ شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پانی لانے والے اونٹ رکھتے ہیں دن بھر کام کرتے ہیں اور حضرت معاذؓ نے آپؐ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی اور پھر آ کر سورہ بقرہ شروع کر دی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ حضرت معاذؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے معاذ! کیا تم آزمائش میں ڈالنے والے ہو! یہ پڑھا کرو یہ پڑھا کرو۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا اور وَالضُّحٰی، وَاللَّيْلِ اِذَا یَغْشٰی اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی کی تلاوت کیا کرو۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت معاذ بن جبلؓ انصاری نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی بہت لمبی نماز پڑھائی تو ہم میں سے ایک آدمی الگ ہو کر اپنی نماز پڑھنے لگا۔ حضرت معاذؓ کو اس بارہ میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ منافق ہے۔ جب اس بات کا علم اس شخص کو ہوا تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ کو بتایا جو حضرت معاذؓ نے کہا تھا۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا اے معاذ! تم آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہو۔ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا، سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی اور اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ اور وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی پڑھا کرو۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے پھر اپنے لوگوں کے پاس آکر ان کو وہی نماز پڑھاتے۔
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے پھر اپنی قوم کی مسجد میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔
حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں فلاں آدمی کی وجہ سے صبح کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں کیونکہ وہ ہمیں لمبی (نماز) پڑھاتا ہے (وہ کہتے ہیں) کہ میں نے کبھی نبیﷺ کو کسی وعظ کے وقت اتنے جلال میں نہیں دیکھا جتنا اس روز جلال تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! یقینًا تم میں بعض نفرت پیدا کرنے والے ہیں، پس جو تم میں سے لوگوں کو امامت کرائے تو اسے چاہیے کہ وہ مختصر (نماز) پڑھائے کیونکہ یقینًا اس کے پیچھے عمر رسیدہ بھی ہیں، ضعیف بھی ہیں اور کام والے بھی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں چھوٹے بھی ہیں، عمر رسیدہ بھی ہیں، ضعیف اور بیمار بھی ہیں ہاں جب وہ اکیلے نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھے۔
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ باتیں ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے ہمیں محمدﷺ سے روایت کرکے بتائیں۔ پھر انہوں نے احادیث کا ذکر کیا ان میں سے ایک (یہ) ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو امامت کروائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں عمر رسیدہ بھی ہیں اور ان میں کمزور بھی ہیں۔ ہاں جب وہ اکیلا کھڑا ہو تو وہ اپنی نماز کو جتنا چاہے لمبا کرے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ لوگوں میں کمزور بھی ہیں، بیمار بھی ہیں اور کام والے بھی ہیں۔ ابو بکر بن عبدالرحمٰن ابو ہریرہؓ سے یہی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سوائے اس کے کہ آپؐ نے سَقِیْمٌ کے بجائے کَبِیْرٌ کہا۔
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں حضرت عثمانؓ بن ابو العاص ثقفی نے مجھے بتایا کہ نبیﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے لوگوں کی امامت کیا کرو، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! میں اپنے اندر کچھ (انقباض) محسوس کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ قریب آؤ۔ پھر آپؐ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور اپنا دستِ مبارک میرے سینہ پر رکھا اور آپؐ نے فرمایا دوسری طرف رُخ کرو۔ پھر آپؐ نے اپنا دستِ مبارک میری پشت پر کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ اور آپؐ نے فرمایا کہ اپنے لوگوں کی امامت کرو اور جو لوگوں کی امامت کرائے وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں عمر رسیدہ بھی ہیں ان میں بیمار بھی ہیں ان میں کمزور بھی ہیں اور ان میں کام والے بھی ہیں۔ ہاں جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھے۔