بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن (یعنی سورۃ الفاتحہ) نہ پڑھی اس کی نماز ناقص یعنی نامکمل ہے۔ (یہ آپؐ نے) تین مرتبہ (فرمایا) حضرت ابوہریرہؓ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے نماز اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دی ہے اور میرے بندہ کو وہ ملے گا جو اس نے مانگا۔ پس جب بندہ کہتا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے) تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری تعریف کی اور جب وہ کہتا ہے اَلرَّحَمَانِ الرَّحِیْمِ (وہ بے حد رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے) تو اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندہ نے میری ثناء کی اور جب وہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتا ہے (مالک ہے جزا سزا کے دن کا) تو اللہ فرماتا ہے میرے بندہ نے میری تمجید (بزرگی بیان) کی۔ راوی نے ایک بار کہا کہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میرے بندہ نے (سب کچھ) میرے سپرد کر دیا پھر جب وہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہتا ہے (تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں) تو فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندہ کے درمیان ہے اور میرے بندہ کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا پھر جب وہ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ کہتا ہے کہ (ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا) تو اللہ فرماتا ہے کہ یہ میرے بندہ کے لئے ہے اور میرے بندہ کے لئے وہ ہے جو اس نے مانگا۔ سفیان کہتے ہیں کہ مجھے علاء بن عبد الرحمان بن یعقوب نے بتایا کہ میں ان (حضرت ابو ہریرہؓ) کے پاس گیا جبکہ وہ اپنے گھر میں بیمار تھے اور ان سے میں نے اس بارہ میں پوچھا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز پڑھی اور ام القرآن (سورۃ الفاتحہ) نہ پڑھی سفیان والی روایت کے مطابق۔ ان دونوں کی روایتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دی ہے نصف میرے لئے اور نصف میرے بندہ کے لئے۔ دوسری روایت میں ابو اویس کہتے ہیں کہ مجھے علاء نے بتایا کہ میں نے اپنے والد سے اور ابوالسائب سے جو دونوں حضرت ابو ہریرہؓ کے ہم نشین تھے دونوں کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے۔ یہ بات انہوں نے تین دفعہ کہی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قراءت کے بغیر نماز نہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ جس (نماز) میں رسول اللہﷺ نے اونچی آواز سے قراءت کی ہم نے بھی تمہارے لئے اونچی آواز سے قراءت کی اور جس (نماز) میں آپؐ نے آہستہ آواز سے قراءت کی ہم نے بھی اس میں تمہارے لئے آہستہ آواز سے قراءت کی۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قراءت کی جاتی تھی۔ پس جس نماز میں ہمیں رسول اللہﷺ نے قراءت سنائی ہم نے (بھی) اس میں تمہیں (قراءت) سنائی اور جس میں آپؐ نے آہستہ آواز میں قراءت کی اس میں ہم نے بھی آہستہ قراءت کی۔ اس پر انہیں کسی نے کہا کہ اگر میں ام القرآن (فاتحہ) سے زیادہ کچھ نہ پڑھوں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر تم اس سے زیادہ پڑھو تو وہ بہتر ہے لیکن اگر اسی پر اکتفاء کرو تو وہ تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کیا کہ ہر نماز میں قراءت ہے۔ پس جس (نماز) میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قراءت سنائی (اس میں) ہم نے بھی تمہیں سنائی اور (جس میں) آپؐ نے ہمارے سامنے آہستہ پڑھی وہ ہم نے بھی تمہارے لئے آہستہ پڑھی اور جس نے ام الکتاب (سورہ فاتحہ) پڑھی تو وہ اس کے لئے کافی ہو جائے گی۔ اور جس نے اس سے کچھ زیادہ پڑھا تو یہ افضل ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی بھی داخل ہوا، اس نے نماز ادا کی۔ پھر آیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ رسول اللہﷺ نے اسے سلام کا جواب دیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ شخص واپس گیا اور نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی۔ پھر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا وَعَلَیْکَ السَّلََامُ۔ پھر آپؐ نے فرمایا واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ تین دفعہ ایسا ہی ہوا۔ تب وہ آدمی کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں اس سے بہتر نہیں کرسکتا۔ آپؐ مجھے سکھا دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے میسر ہو تلاوت کرو، پھر خوب اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سجدہ میں جاؤ تو خوب اطمینان سے سجدہ کرو پھر اٹھ کر اطمینان سے بیٹھو۔ پھر اس طرح اپنی ساری نماز میں کرو۔ ایک دوسری روایت میں ہے جو حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی جبکہ رسول اللہﷺ ایک طرف تشریف فرما تھے اور یہ روایت دونوں راویوں سے اس کے مطابق بیان کی اور اس میں یہ مزید بیان کیا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو پوری طرح وضوء کرو پھر قبلہ رو کھڑے ہو پھر تکبیر کہو۔
حضرت عمرانؓ بن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی پھر فرمایا کہ تم میں سے میرے پیچھے کس نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی پڑھی؟ اس پر ایک آدمی نے کہا کہ میں نے! اور میرا ارادہ اس سے محض نیکی کا تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کوئی (میرے پڑھنے میں) مخلّ ہو رہا ہے۔
حضرت عمرانؓ بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے نماز ظہر ادا کی۔ آپؐ کے پیچھے کوئی آدمی سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی پڑھنے لگا۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم میں سے یہ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی) کس نے پڑھا یا کون قراءت کر رہا تھا۔ اس پر اس آدمی نے عرض کیا کہ میں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ مجھے لگا کہ جیسے تم میں سے کوئی اس سے میری (قراء ت) میں مخلّ ہو رہا ہے۔ قتادہ سے اسی سند سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ تم میں سے کوئی اس سے میری (قراء ت) میں مخلّ ہو رہا ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے ساتھ نماز پڑھی لیکن ان میں سے کسی کو میں نے بسم اللہ الرحمان الرحیم (جہرًا) پڑھتے نہ سنا۔
عبدَہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب یہ کلمات جہرًا پڑھتے تھے سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غُیْرُکَ: یعنی اے اللہ تو پاک ہے۔ اپنی تعریف کے ساتھ، بہت برکت والا ہے تیرا نام اور بہت بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کے پیچھے اور حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ (سب) اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے نماز کی ابتداء کیا کرتے تھے اور سورہ فاتحہ سے پہلے یا بعد بسم اللہ (جہرًا) نہیں پڑھتے تھے۔
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔ اس دوران میں آپؐ پر ہلکی سی ربودگی طاری ہوئی۔ پھر آپؐ نے تبسّم فرماتے ہوئے اپنا سر اٹھایا۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپؐ کس بات پر مسکرائے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے پھر آپؐ نے قراءت فرمائی۔ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ O فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ O اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرْ} ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہاء رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ یقینا ہم نے تجھے کوثر عطاء کی ہے۔ پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی دے۔ یقینا تیرا دشمن ہی ابتر رہے گا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ کیا تمہیں پتہ ہے کہ ’’الکوثر‘‘ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ ایک عظیم الشان دریا ہے جس کا وعدہ میرے رب عزوجل نے مجھ سے فرمایا ہے جس پر خیر کثیر ہے وہ ایک حوض ہے۔ جس پر میری امت قیامت کے دن اترے گی۔ اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ اُن میں سے ایک آدمی کھینچ لیا جائے گا۔ تب میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میری امت میں سے ہے۔ تب وہ فرمائے گا کہ تم نہیں جانتے کہ آپ کے بعد اس نے کیا کیا؟ ابن حجر نے اپنی روایت میں ’’بَیْنَا اَظْہُرِنَا‘‘ کے بعد ’’فِی الْمَسْجِدِ‘‘ کے الفاظ زائد کئے ہیں۔ نیز انہوں نے کہا ہے۔ مَا اَحْدَثَ بَعْدَکَ (اس شخص نے آپؐ کے بعد کیا کیا) مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ بن مالک کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ پر ہلکی سی ربودگی طاری ہوئی۔ ابن مسھر کی روایت کے مطابق سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا وہ ایک نہر ہے جس کا جنت میں میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔ اس پر حوض ہوگا اور آنِیَتُہُ عَدَدَ النُّجُوْمِ کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔