حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی بیماری ہوتی یا اس کو پھوڑا یا زخم ہوتا تو نبیﷺ اپنی انگلی سے اس طرح اشارہ فرماتے _ اور سفیان نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اُسے اٹھایا _ اور فرماتے اللہ کے نام کے ساتھ ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے کسی کے لعاب کے ساتھ اور اس کے ذریعہ۔ ہمارے رب کے اذن سے ہمارا بیمار شفاء پائے۔ ایک روایت میں یُشْفٰی اور ایک روایت میں لِیُشْفَی سَقِیْمُنَا کے الفاظ ہیں۔
زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِجَارِيَةٍ فِي بَيْتِ
أُمِّ سَلَمَةَ
زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَأَى بِوَجْهِهَا سَفْعَةً فَقَالَ
بِهَا نَظْرَةٌ فَاسْتَرْقُوا لَهَا
. يَعْنِي بِوَجْهِهَا صُفْرَةً .
حضرت زینب بنتِ ام سلمہؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کے گھر ایک لڑکی کے چہرہ کا رنگ بدلا ہوا دیکھا تو آپؐ نے فرمایا اس پر نظر کا اثر ہے۔ اسے دَم کرو۔ راوی کہتے ہیں اس سے مراد اس کے چہرے کی زردی تھی۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے آلِ حزم کو سانپ کے کاٹنے پر دَم کی اجازت دی تھی اور اسماء بنت عمیس سے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں اپنے بھائی کے بچوں کے جسموں کو کمزور دیکھتا ہوں۔ کیا وہ تنگدست ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں لیکن انہیں نظر بہت جلد لگ جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا انہیں دم کرو۔ وہ کہتی ہیں میں نے آپؐ کے سامنے (دَم کے کلمات) پیش کئے تو آپؐ نے فرمایا (ان کے ساتھ) انہیں دم کرو۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے بنو عمرو کو سانپ (کے کاٹے) کا دم کرنے کی اجازت دی۔ ابو زبیر کہتے ہیں میں نے حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ کو کہتے ہوئے سنا ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا اور ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں دَم کردوں؟ آپﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ایسا کرے۔ ایک اور روایت میں مِنَ الْقَوْمِ کے الفاظ زائد ہیں اور (أَرْقِی کی بجائے) أَرْقِیہِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میرے ایک ماموں بچھو (کے کاٹے) کا دَم کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے دم سے منع فرما دیا۔ وہ کہتے ہیں وہ (ان کے ماموں) آپؐ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے دم سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو (کے کاٹے) کا دم کرتا ہوں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا جو تم میں سے اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو اُسے ایسا کرنا چاہیے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دم سے منع فرمایا تو آل عمرو بن حزم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمارے پاس ایک دم ہے اور ہم بچھو (کے کاٹے) پر اس سے دَم کرتے ہیں اور آپؐ نے دم سے منع فرما دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے وہ (دَم) آپؐ کے سامنے پیش کیا۔ تو آپؐ نے فرمایا میں (اس میں) کوئی حرج نہیں دیکھتا تم میں سے جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ اُسے فائدہ پہنچائے۔