حضرت عوف بن مالک اشجعیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! آپؐ کا کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا میرے سامنے اپنا دم پیش کرو۔ دم کرنے میں جب تک اس میں کوئی شرک نہ ہو، حرج نہیں۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے کچھ صحابہؓ سفر میں تھے۔ وہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے اور ان سے مہمان نوازی چاہی لیکن انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہ کی۔ انہوں نے ان سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ کیونکہ قبیلہ کے سردار کو کسی چیز (بچھو وغیرہ) نے ڈس لیا ہے یا وہ بیمار ہے۔ ان (صحابہؓ) میں سے ایک نے کہا ہاں۔ وہ اس کے پاس گئے اور انہوں نے اسے سورۃ فاتحہ کا دَم کیا۔ تو وہ شخص تندرست ہوگیا تو اس کو بکریوں کا ایک ریوڑ دیا گیا لیکن اُس (صحابیؓ) نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں (پہلے) نبیﷺ کے پاس اس کا ذکر کروں گا۔ وہ نبیﷺ کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی اور اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم میں نے صرف سورۃ فاتحہ کا دم کیا ہے۔ آپؐ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ دم ہے؟ پھر فرمایا تم ان سے لے لو اور اپنے ساتھ میرے لئے بھی حصہ رکھنا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ صحابیؓ ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اپنا لعاب اکٹھا کرنے لگے اور اس پر لگانے لگے اور وہ شخص ٹھیک ہوگیا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو ہمارے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے؟ ہم میں سے ایک شخص اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ ہمارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ اتنا اچھا دم کرنا جانتا ہے۔ اس نے اسے سورۃ فاتحہ کا دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا۔ انہوں نے اس کو بکریاں دیں اور ہمیں دودھ پلایا۔ ہم نے کہا کیا تم اچھی طرح دم کرنا جانتے تھے؟ اس نے کہا میں نے تو صرف سورۃ فاتحہ کا دم کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا انہیں (بکریوں کو) اس وقت تک ساتھ نہ لے جاؤ جب تک ہم نبیﷺ کے پاس نہ پہنچ جائیں۔ پھر ہم نبیﷺ کے پاس آئے اور آپؐ سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا اسے کیسے معلوم ہوا کہ وہ (سورۃ فاتحہ) دم ہے۔ انہیں (بکریوں کو) بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔ ایک اور روایت میں (مَا کُنَّا نَظُنُّہُ یُحْسِنُ رُقْیَۃً کی بجائے) مَا کُنَّا نَأْبِنُہُ بِرُقْیَۃٍ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عثمانؓ بن ابی العاص ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں درد کی شکایت کی کہ جب سے وہ مسلمان ہوئے اپنے جسم میں محسوس کرتے تھے۔ رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا تمہارے جسم کے جس حصہ میں درد ہے وہاں ہاتھ رکھو اور تین دفعہ بسم اللہ پڑھو اور سات دفعہ کہو میں اللہ کی اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف سے جو مجھے ہے اور جس کا مجھے خوف ہے۔
ابو العلاء سے روایت ہے کہ حضرت عثمانؓ بن ابو العاص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور میری قراءت مجھ پر مشتبہ کر دیتا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شیطان ہے اس کا نام خِنْزِبْ ہے۔ جب تم اسے محسوس کرو تو اس سے اللہ کی پناہ طلب کرو اور تین دفعہ اپنے بائیں جانب تھوتھوکرو۔ وہ کہتے ہیں میں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو مجھ سے دور کردیا۔ ایک روایت میں ثَلَاثًا کا ذکر نہیں۔
عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ لاَ أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
إِنَّ فِيهِ شِفَاءً
.
حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ نے مقنع کی عیادت کی اور پھر فرمایا میں نہیں جاؤں گا جب تک تم پچھنے نہ لگوالو، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔
عاصم بن عمر بن قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ ہمارے گھر تشریف لائے جبکہ ایک شخص پھوڑے سے یا زخم کی وجہ سے بیمار تھا۔ انہوں نے کہا تمہیں کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا مجھے پھوڑا نکلا ہے جو میرے لئے بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا اے لڑکے! پچھنے لگانے والے کو میرے پاس لے آؤ۔ اس شخص نے کہا اے ابو عبداللہ! پچھنے لگانے والے سے کیا کام لیں گے؟ انہوں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اس پر سینگی لگاؤں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم! مکھی بھی مجھے چھوتی ہے یا کپڑا مجھے لگتا ہے تو مجھے تکلیف دیتا ہے۔ انہوں نے اس کا اس سے شدید انقباض دیکھا تو کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اگر تمہاری دواؤں میں کوئی خیر ہے تو سینگی میں یا شہد کے گھونٹ میں یا آگ کے شعلہ میں مگر رسول اللہﷺ نے فرمایا میں داغ لگوانا پسند نہیں کرتا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ پچھنے لگانے والے کو لایا۔ اس نے پچھنے لگائے تو اس کی تکلیف جاتی رہی۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہؓ نے رسول اللہﷺ سے پچھنے لگوانے کی اجازت چاہی۔ رسول اللہﷺ نے ابو طیبہ کو انہیں پچھنا لگانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا یا وہ لڑکا تھا جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچا تھا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے حضرت اُبیَّ بن کعبؓ کے پاس ایک طبیب بھجوایا۔ اس نے ان کی رگ کاٹی پھر اسے داغ دیا۔ ایک اور روایت میں فَقَطَعَ مِنْہُ عِرْقًا کے الفاظ نہیں ہیں۔