بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہؓ کے ہاں رات گزاری۔ وہ کہتے ہیں میں گدیلہ کے چوڑائی کے رُخ لیٹ گیا اور رسول اللہﷺ اور آپؐ کے اہل اس کی لمبائی کے رُخ لیٹ گئے۔ پھر رسول اللہﷺ سو گئے یہان تک کہ آدھی رات گزر گئی یا اس سے کچھ پہلے یا اس سے کچھ دیر بعد رسول اللہﷺ بیدار ہوئے اور نیند اپنے ہاتھ سے اپنے چہرہ سے دور کرنے لگے۔ پھر آپؐ نے سورئہ آلِ عمران کی آخری دس آیات پڑھیں۔ پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور اس سے خوب اچھی طرح وضوء کیا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں میں بھی اٹھا اور ویسا ہی کیا جیسے رسول اللہﷺ نے کیا تھا۔ پھر میں گیا اور جا کر آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑا۔ اور اسے ملنے لگے پھر آپؐ نے دو رکعت پڑھی۔ پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت۔ پھر آپؐ نے وتر ادا کیا۔ پھر آپؐ لیٹ گئے یہان تک کہ مؤذِّن آگیا۔ پھر آپؐ اٹھے اور دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھی۔ مخرمہ بن سلیمان نے اسی سند سے روایت کی ہے اور مزید کہا کہ پھر آپؐ نے پانی کے مشکیزہ کا قصد کیا۔ مسواک کی اور مکمل وضوء کیا لیکن زیادہ پانی نہ بہایا۔ پھر آپؐ نے مجھے ہلایا میں اٹھ کھڑا ہوا۔ آگے ساری مالک جیسی روایت بیان کی۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہؓ کے گھر سویا۔ اس رات رسول اللہﷺ ان کے ہاں تھے۔ رسول اللہﷺ نے وضوء کیا پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ میں آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے مجھے پکڑا، اپنے دائیں طرف کر لیا۔ اس رات آپؐ نے تیرہ رکعت پڑھیں۔ پھر رسول اللہﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپؐ کے سانس کی آواز آنے لگی اور آپؐ جب سوتے تو آپؐ کے سانس کی آواز آتی۔ پھر آپؐ کے پاس مؤذن آیا اور آپؐ باہر تشریف لے گئے اور نماز پڑھی لیکن آپؐ نے (دوبارہ) وضوء نہیں کیا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہؓ بنت حارث کے ہاں گزاری۔ میں نے ان سے کہا کہ جب رسول اللہﷺ (نماز کے لئے) کھڑے ہوں تو آپؓ مجھے جگا دیں۔ رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے تو میں آپؐ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑا اپنے دائیں پہلو میں کر دیا۔ میں جب اونگھنے لگا تو آپؐ نے مجھے کان کی لو سے پکڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپؐ نے گیارہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپؐ بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں آپؐ کے سوتے میں سانس کی آواز سننے لگا۔ جب فجر واضح ہو گئی تو آپؐ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں رات گزاری۔ رسول اللہﷺ رات کو کھڑے ہوئے اور لٹکے ہوئے مشکیزہ سے ہلکا سا وضوء کیا۔ راوی کہتے ہیں انہوں (ابن عباسؓ) نے آپؐ کے وضوء کا ذکر کیا اور اسے ہلکا اور کم کر کے بتایا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور ویسا ہی کیا جیسا نبیﷺ نے کیا تھا۔ پھر میں آکر آپؐ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپؐ نے اپنے پیچھے سے لا کر مجھے اپنے دائیں طرف کر لیا اور نماز پڑھی پھر لیٹ گئے اور سو گئے یہاں تک کہ آپؐ کے سانس کی آواز آنے لگی۔ پھر آپؐ کے پاس حضرت بلالؓ آئے اور آپؐ کو نماز کی اطلاع دی۔ آپؐ باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھی لیکن (دوبارہ) وضوء نہیں کیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ یہ بات صرف نبیﷺ کے لئے خاص ہے کیونکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ نبیﷺ کی آنکھیں سوتی تھیں لیکن آپؐ کا دل نہیں سوتا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے گھر میں رات گزاری۔ اور میں نے نظر رکھی کہ رسول اللہﷺ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں حضورؐ بیدار ہوئے، پیشاب کیا، پھر آپؐ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا۔ پھر سو گئے پھر اٹھ کر مشکیزہ کے پاس گئے اور اس کی گرہ کھولی۔ پھر کٹورے یا پیالہ میں پانی ڈالا۔ پھر اسے اپنے ہاتھ سے اس پر انڈیلا پھر ایک خوبصورت درمیانہ وضوء کیا۔ پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ میں آیا اور آپؐ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا (میں) آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے مجھے پکڑ کر اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ جب رسول اللہﷺ کی نماز کی تیرہ رکعتیں مکمل ہو گئیں تو آپؐ سو گئے یہاں تک کہ آپؐ کے سانس کی آواز آنے لگی۔ جب آپؐ سوتے تو ہمیں آپؐ کے سانس کی آواز سے پتہ لگ جاتا تھا۔ پھر آپؐ نماز کے لئے باہر تشریف لے گئے اور نماز پڑھی اور اپنی نماز یا سجدہ میں یہ کہا اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میرے کانوں میں نور اور میری آنکھوں میں نور اور میرے دائیں نور اور میرے بائیں نور، میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے لئے نور (ہی نور) کر دے یا آپؐ نے کہا کہ مجھے (سراپا) نور بنا دے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں تھا کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے۔ پھر (راوی نے) غندر کی روایت کی طرح روایت بیان کی اور انہوں نے وَاجْعَلْنی نُورًا کے الفاظ بیان کئے اور اس میں شک کا اظہار نہیں کیا۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک رات میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں گزاری۔ آگے حدیث بیان کی لیکن اس میں چہرے اور ہاتھوں کے دھونے کا ذکر نہیں کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ پھر آپؐ مشکیزہ کے پاس تشریف لائے۔ اس کی گرہ کھولی اور ایک درمیانہ سا وضوء کیا۔ پھر اپنے بستر پر تشریف لائے اور سو گئے۔ پھر دوسری مرتبہ اٹھے اور مشکیزے کے پاس تشریف لائے اور اس کی گرہ کھولی۔ پھر ایک مکمل وضوء کیا اور کہا میرے لئے نور کو بڑھا دے اور اس روایت میں یہ ذکر نہیں کیا کہ مجھے نور بنا دے۔ عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ سلمہ بن کہیل نے ان کو بتایا کہ کریب نے ان کو بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ نے ایک رات رسول اللہﷺ کے ہاں گزاری۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مشکیزہ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس میں سے پانی انڈیلا اور وضوء کیا لیکن زیادہ پانی استعمال نہیں کیا مگر وضوء میں کوئی کمی نہیں کی۔ (راوی نے) آگے روایت بیان کی اور اس میں کہا کہ اس رات رسول اللہﷺ نے انیس کلمات پر مشتمل دعا کی۔ سلمہ کہتے ہیں (وہ کلمات) کریب نے مجھے بتائے تھے جن میں سے بارہ کلمات یاد ہیں اور باقی میں بھول گیا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے دعا کی اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری زبان میں بھی نور، اور میرے کانوں میں نور، اور میری آنکھوں میں بھی نور، میرے اوپر بھی نور، اور میرے نیچے بھی نور، میرے دائیں بھی نور اور میرے بائیں بھی نور۔ میرے آگے بھی نور اور میرے پیچھے بھی نور اور میرے نفس میں بھی نور ڈال دے اور میرے لئے نور کو بڑھا دے۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت میمونہؓ کے ہاں ایک رات سویا جبکہ نبیﷺ ان کے ہاں تھے۔ تاکہ میں دیکھوں کہ نبیﷺ کی رات کی نماز کیسی ہوتی ہے؟ وہ کہتے ہیں نبیﷺ نے کچھ دیر اپنے اہل سے باتیں کیں پھر سو گئے۔ آگے اسی طرح یہی روایت بیان کی اور اس میں (ہے کہ) پھر آپؐ اٹھے، وضوء کیا اور مسواک کی۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کے ہاں سوئے۔ آپؐ بیدار ہوئے تو آپؐ نے مسواک کی اور وضوء کیا اور آپؐ کہہ رہے تھے یقینا آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ آپؐ نے یہ آیات پڑھیں یہاں تک کہ سورۃ ختم کر لی۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان دونوں میں لمبا قیام، رکوع اور سجدہ کیا۔ پھر آپؐ فارغ ہوئے تو سو گئے یہاں تک کہ آپؐ کے سانس کی آواز آنے لگی۔ پھر آپؐ نے تین مرتبہ ایسا ہی کیا یعنی چھ رکعات پڑھیں۔ ہر بار آپؐ مسواک کرتے، وضوء کرتے اور ان آیات کی تلاوت کرتے پھر تین رکعت وتر پڑھے۔ پھر جب مؤذن نے اذان دی تو آپؐ یہ پڑھتے ہوئے نماز کے لئے باہر تشریف لائے اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری زبان میں نور ڈال دے۔ میرے کانوں میں بھی نور ڈال دے اور میری آنکھوں میں بھی نور ڈال دے۔ میرے پیچھے بھی نور ہو اور میرے آگے بھی نور ہو، میرے اوپر بھی نور ہو اور میرے نیچے بھی نور ہو۔ اے اللہ! مجھے نور عطاء فرما۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں رات گزاری۔ نبیﷺ نوافل پڑھنے کے لئے رات کو اُٹھے۔ نبیﷺ مشکیزہ کی طرف گئے اور وضوء کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ جب میں نے آپؐ کو ایسا کرتے دیکھا تو میں اٹھا اور میں نے مشکیزہ سے وضوء کیا۔ میں آپؐ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے پیچھے سے لا کر مجھے اپنے برابر دائیں طرف کھڑا کر دیا۔ عطاء کہتے ہیں میں نے پوچھا یہ نفل کی بات ہے؟ (حضرت ابن عباسؓ ) نے کہا ہاں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عباسؓ نے نبی ﷺ کے پاس بھیجا جبکہ آپؐ میری خالہ حضرت میمونہؓ کے گھر میں تھے۔ چنانچہ وہ رات میں نے آپؐ کے پاس گزاری۔ حضور رات کو نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے مجھے پکڑ کر اپنی پیٹھ کے پیچھے سے اپنی دائیں طرف کر دیا۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں رات گزاری۔ ابن جریج اور قیس بن سعد کی روایت کی طرح۔
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حضرت زید بن خالدؓ جُہنی سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج رات رسول اللہﷺ کی نماز بڑے غور سے دیکھوں گا۔ آپؐ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو لمبی، بہت ہی لمبی رکعتیں پڑھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے چھوٹی تھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو سے چھوٹی تھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو (رکعتوں) سے چھوٹی تھیں۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو (رکعتوں) سے چھوٹی تھیں۔ پھر آپؐ نے وتر ادا کیا۔ یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں۔