بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ جب ہم ایک گھاٹ پر پہنچے آپؐ نے فرمایا جابر کیا تم گھاٹ سے پانی لاؤ گے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اُترے اور میں گھاٹ سے پانی لایا۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ اور میں نے آپؐ کے لئے وضوء کا پانی رکھا۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ تشریف لائے اور وضوء کیا پھر کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے مخالف طرف کئے ہوئے تھے۔ میں آپؐ کے پیچھے کھڑا تھا۔ آپؐ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو (عبادت کے لئے) کھڑا ہو تو اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب رات کے دوران نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو عرض کرتے۔ اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔ تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان کا رب ہے۔ تو حق ہے۔ اور تیرا وعدہ بھی حق ہے۔ اور تیرا قول بھی حق ہے۔ اور تیری ملاقات بھی حق ہے اور جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور ساعت بھی حق ہے۔ اے اللہ! میں تیری فرمانبرداری اختیار کرتا ہوں اور تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور تجھ پر توکّل کرتا ہوں اور تیری طرف جھکتا ہوں اور تیری مدد سے ہی (دشمن کا) مقابلہ کرتا ہوں۔ تیرے حضور ہی فیصلہ کے لئے حاضر ہوتا ہوں۔ مجھے بخش دے جو میں نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا اور جو پوشیدہ کیا اور جو اعلانیہ کیا۔ تو میرا معبود ہے اور تیرے سوا میرا کوئی معبود نہیں۔ جہاں تک ابن جریج کی روایت کا تعلق ہے تو اس کے لفظ مالک کی روایت سے متفق ہیں اور دونوں نے سوائے دو حرفوں کے اختلاف نہیں کیا۔ ابن جریج نے قیّام کی جگہ قیّم کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور اَسْرَرْتُ کی جگہ ’’مَا اَسْرَرْتُ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمانؓ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ اللہ کے نبیﷺ جب رات کو (نماز کے لئے) کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کن (الفاظ) سے شروع کرتے؟ آپؓ نے فرمایا کہ حضورؐ جب رات کو کھڑے ہوتے تو اس طرح اپنی نماز شروع کرتے۔ اے اللہ ! اے جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے رب ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرماتا ہے جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ جس حق کے بارہ میں اختلاف کیا گیا ہے اس بارہ میں تو اپنے اذن سے میری رہنمائی فرما۔ یقینا تو جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
حضرت علیؓ بن ابو طالب رسول اللہﷺ کے بارہ میں روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کہتے میں تو یقینا اپنی توجہ اس کی طرف ہمیشہ مائل رہتے ہوئے پھیر چکا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے (اوّل) ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تو میرا ربّ ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں۔ پس تو میرے سب گناہ بخش دے یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔ اور بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما اور تیرے سوا کوئی نہیں جو بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی کرے اور مجھے بُرے اخلاق سے دور رکھ کہ تیرے سوا مجھ سے ان کو دور کرنے والا کوئی نہیں۔ میں تیرے حضور حاضر ہوں اور یہ میری خوش بختی ہے۔ اور ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری طرف ہوں۔ تو بہت ہی برکت والا ہے اور بلند شان والا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔ اور جب آپؐ رکوع کرتے تو کہتے۔ اے اللہ! میں نے تیرے حضور رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا، تیری فرمانبرداری اختیار کی۔ میری سماعت اور میری بصارت اور میرا دماغ اور میری ہڈیاں اور میرے اعصاب (سب) تیرے حضور ہی جھکتے ہیں اور جب آپؐ (رکوع سے) سر اٹھاتے تو کہتے اے اللہ! ہمارے رب! سب تعریف تیرے لئے ہی ہے آسمان بھر اور زمین بھر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس کے علاوہ اس کے برابر جو تو چاہے اور جب سجدہ کرتے تو کہتے اے اللہ! میں نے تیرے حضور سجدہ کیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تیری فرمانبرداری اختیار کی۔ اور میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اس کو صورت دی اور اس میں کان اور اس میں آنکھ بنائے۔ بہت ہی برکت والا ہے اللہ جو پیدا کرنے والوں میں بہترین ہے۔ پھر تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان جو آپؐ آخر میں کہتے وہ یہ ہوتا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے جو میں نے آگے بھیجا اور جو پیچھے ڈالا اور جو میں نے پوشیدگی میں کیا اور جو علانیہ کیا اور جو میں نے (اپنے نفس پر) زیادتی کی۔ اور وہ (کام) جن کے متعلق تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ایک اور روایت اعرج سے اسی سند سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز شروع فرماتے تو اللہ اکبر کہتے اور کہتے وَجَّھْتُ وَجْھِیَ اور کہتے وَاَنَا اَوّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔ راوی کہتے ہیں کہ جب آپؐ رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے سمع اللہ لمن حمدہ اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد کی۔ اے ہمارے رب! تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔ نیز یہ کہتے (اللہ نے) اسے صورت دی اور کیا ہی اچھی صورت دی۔ (راوی) کہتے ہیں کہ جب آپؐ سلام پھیرتے تو کہتے اے اللہ! مجھے بخش دے جو میں نے آگے بھیجا {روایت آخر تک} لیکن انہوں نے ’’تشہد و تسلیم کے درمیان‘‘ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپؐ نے (سورۃ) البقرہ سے آغاز فرمایا میں نے سوچا کہ آپؐ سو آیتوں پر رکوع کریں گے لیکن آپؐ آگے گزر گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ آپؐ ایک رکعت میں اسے پڑھیں گے لیکن آپؐ پھر آگے گزر گئے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس پر آپؐ رکوع کر لیں گے لیکن آپؐ نے پھر النساء شروع فرما دی۔ اور آپؐ نے اسے پڑھا۔ پھر آپؐ نے آلِ عمران شروع فرما دی اور اسے بڑے دھیمے انداز میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ جب آپؐ ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہوتی تو تسبیح کرتے اور جب آپؐ کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو سوال کرتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے جہاں (اللہ کی) پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا تو پناہ طلب کرتے۔ پھر آپؐ نے رکوع کیا اور کہنے لگے۔ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ‘‘ پاک ہے میرا رب بڑی عظمت والا اور آپؐ کا رکوع آپؐ کے قیام جتنا ہی تھا۔ پھر آپؐ نے ’’سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘‘ کہا (یعنی) اللہ نے سن لی اس کی جس نے اس کی حمد کی۔ پھر آپؐ نے لمبا قیام کیا جو آپ کے رکوع کے قریب قریب تھا۔ پھر آپؐ نے سجدہ کیا اور کہا ’’سُبْحَانَ رَبِّی الْاَعْلٰی‘‘ پاک ہے میرا رب بڑی بلند شان والا اور آپؐ کا سجدہ آپؐ کے قیام کے قریب قریب تھا۔ جریر کی روایت میں مزید یہ ہے کہ آپؐ نے کہا سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ: سن لی اللہ نے اس کی جس نے اس کی حمد کی۔ اے ہمارے رب! تمام تعریف تیرے لئے ہی ہے۔
ابو وائل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپؐ نے (نماز کو) اتنا لمبا کیا کہ میں نے ایک بُرا قصد کیا۔ (ابو وائل) کہتے ہیں کہ (حضرت عبداللہؓ سے) پوچھا گیا کہ آپ نے کیا قصد کیا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ خیال آیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپؐ کو چھوڑ دوں۔
حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو ساری رات سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ یہ ایسا آدمی ہے کہ شیطان اس کے کانوں میں پیشاب کر گیا ہے۔ یا فرمایا کہ اس کے کان میں۔
حضرت علی بن ابو طالبؓ سے روایت ہے کہ ایک رات نبیﷺ ان کے اور حضرت فاطمہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے ہمیں اٹھا دیتا ہے۔ جب میں نے آپؐ سے یہ کہا تو آپؐ واپس تشریف لے گئے۔ پھر میں نے آپؐ کو سنا جبکہ آپؐ واپس جا رہے تھے اور آپؐ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ {وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًا} (الکہف: 55) ترجمہ: انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔