بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت ابو سعیدؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ انتظار کرتا ہے یہانتک کہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو وہ ورلے آسمان پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کیا کوئی ہے بخشش مانگنے والا؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا؟ کوئی ہے سوال کرنے والا؟ کوئی ہے دعا کرنے والا۔ (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہانتک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اللہ کی رضا کی امید رکھتے ہوئے عبادت کی تو اس کے گذشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ لوگوں کو رمضان میں حتمی حکم دئیے بغیر عبادت کرنے کی ترغیب دیتے اور فرماتے جس نے ایمان کے ساتھ اور (اللہ کی رضا کی) امید رکھتے ہوئے رمضان میں عبادت کی تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ پھر رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو یہی معمول رہا۔ پھر حضرت ابو بکرؓ کی خلافت میں بھی اسی پر عمل رہا اور حضرت عمرؓ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ایمان کے ساتھ اور (اللہ کی رضا) کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور جس نے لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت کی اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا جو لیلۃ القدر میں عبادت کرتا ہے اور اسے پا لیتا ہے (حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں) میرا خیال ہے آپؐ نے فرمایا ایمان کے ساتھ اور (اللہ کی رضا) کی امید رکھتے ہوئے اُسے بخش دیا جائے گا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی اور کچھ لوگوں نے آپؐ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپؐ نے اگلی رات نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہو گئے۔ پھر وہ تیسری یا چوتھی رات (اور زیادہ) جمع ہو گئے مگر رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے جو تم نے کیا مجھے تمہارے پاس باہر آنے سے صرف اس چیز نے روکے رکھا کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں (یہ نماز) تم پر فرض ہی نہ کر دی جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ رمضان کی بات ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ رات کے درمیانی حصہ میں باہر تشریف لائے اور مسجد میں نماز پڑھی۔ لوگوں نے بھی آپؐ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھی۔ صبح لوگوں نے اس بارہ میں گفتگو کی۔ دوسری رات پہلے سے بھی زیادہ لوگ اکٹھے ہوگئے اور رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے تو لوگوں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر صبح لوگ اس بارہ میں ذکر کرنے لگے یہاں تک کہ تیسری رات مسجد (میں آنے) والے بہت زیادہ ہو گئے۔ تب حضورؐ باہر تشریف لائے اور انہوں نے آپؐ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد نمازیوں کے لئے تنگ ہو گئی اور حضورؐ باہر تشریف نہ لائے اور بعض لوگ پکارنے لگے ’’نماز‘‘ رسول اللہﷺ ان کے پاس باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ آپؐ فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے۔ جب آپؐ فجر کی نماز ادا کر چکے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور تشہد پڑھا اور فرمایا اماّ بعد۔۔۔ آج رات تمہاری حالت مجھ پر مخفی نہ تھی لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ رات کی نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور تم اس سے عاجز آجاؤ۔
زرّ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت اُبیَ بن کعبؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ان سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں جس نے سال بھر عبادت کی وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا۔ حضرت اُبیَؓ نے کہا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یقینا وہ (رات) رمضان ہی میں ہے اور (یہ بات) انہوں نے قسم کھاکر بغیر کسی استثناء کے کہی اور (کہا) اللہ کی قسم مجھے پتہ ہے کہ وہ کونسی رات ہے 1۔ یہ وہ رات ہے جس میں عبادت کا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا ہے۔ یہ وہ رات ہے جس کی صبح ستائیسویں ہوتی ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس روز صبح کو سورج روشن نکلتا ہے اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ 2
حضرت ابی بن کعبؓ سے مروی ہے انہوں نے لیلۃ القدر کے بارہ میں کہا کہ خدا کی قسم میں سب لوگوں سے زیادہ اس کے بارہ میں علم رکھتا ہوں کہ وہ رات جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عبادت کا ارشاد فرمایا تھا۔ وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن شعبہ کو ’’ھِیَ اللّیلَۃُ الَّتِیْ اَمَرَنا بِھَا رَسُولُ اللّٰہ ﷺ‘‘ کے الفاظ کے بارہ میں شک ہے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے ہاں گزاری۔ نبیﷺ رات کو اُٹھے اور اپنی حاجت پوری فرمائی۔ پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور سو گئے۔ پھر اُٹھے اور مشکیزہ کے پاس تشریف لائے۔ اس کی گرہ کھولی پھر ایک درمیانہ سا وضوء کیا۔ پانی زیادہ استعمال نہ فرمایا لیکن وضوء مکمل کیا۔ پھر آپؐ کھڑے ہوئے اور نماز شروع کی میں بھی کھڑا ہوا اور میں نے انگڑائی لی کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ حضورؐ یہ سمجھیں کہ میں بیدار تھا اور آپؐ کی طرف متوجہ تھا۔ میں نے وضوء کیا اور آپؐ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپؐ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف لے آئے۔ رسول اللہﷺ کی رات کی نماز تیرہ رکعت مکمل ہوئی۔ پھر آپؐ لیٹ گئے اور سو گئے یہانتک کہ آپؐ زور زور سے سانس لینے لگے اور آپؐ جب سوتے تو آپؐ کے سانس کی آواز آتی۔ پھر حضرت بلالؓ آپؐ کے پاس آئے اور آپؐ کو نماز کی اطلاع دی چنانچہ آپؐ اُٹھے، نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضوء نہیں کیا اور آپؐ کی دعا میں سے یہ بھی ہے اے اللہ! میرے دل میں نور ڈال دے اور میری آنکھ میں بھی نور اور میرے کان میں بھی نور، میرے دائیں بھی نور اور میرے بائیں بھی نور، میرے اوپر بھی نور اور میرے نیچے بھی نور، میرے آگے بھی نور اور میرے پیچھے بھی نور اور میرے لئے نور کو بہت زیادہ بڑھا دے۔ کریب کہتے ہیں سات الفاظ میرے دل میں ہیں میں عباس کے ایک بیٹے سے مِلا تو اس نے مجھے وہ بتائے۔ پھر ان کا ذکر کیا۔۔۔۔ میرے اعصاب میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں، میرے بالوں میں، اور میری جلد میں۔۔۔۔ دو اور چیزیں انہوں نے ذکر کیں۔