بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 288 hadith
حضرت براءؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سورۃ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو دو لمبی رسیوں سے بندھا ہوا تھا تو اسے ایک بدلی نے ڈھانپ لیا وہ گھومنے لگی اور قریب آنے لگی اور اس کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا جب صبح ہوئی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے اس کا ذکر کیا اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ یہ سکینت تھی جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی۔
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براءؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ ایک آدمی نے سورۃ الکہف کی تلاوت کی اور گھر میں ایک چوپایہ تھا جو بدکنے لگا جب اس نے نظر دوڑائی تو دُھند یا بدلی کو دیکھا جو اُن پر چھا رہی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس واقعہ کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا اے فلاں پڑھتے رہو یقینا وہ سکینت تھی جو قرآن پڑھتے وقت یا قرآن کی وجہ سے اتری تھی۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیرؓ ایک رات اپنے مربد (کھجور خشک کرنے کی جگہ) میں تلاوت کر رہے تھے کہ ان کی گھوڑی چکر لگانے لگی۔ پھر جب انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر اسی طرح چکر لگانے لگی۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر اسی طرح چکر لگانے لگی۔ اسید کہتے ہیں کہ مجھے خدشہ ہوا کہ وہ (گھوڑی) یحیٰ کو کہیں روند نہ ڈالے۔ چنانچہ میں اس کی طرف گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ ایک سائبان سا ہے جو میرے سر کے اوپر ہے جس میں چراغ جیسے ہیں۔ جو فضا میں بلند ہو رہے ہیں۔ یہان تک کہ میں ان کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں میں صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! گزشتہ رات کے درمیانی حصہ کے دوران میں اپنے مربد میں تلاوت کر رہا تھا کہ میری گھوڑی اُچھلنے لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پڑھتے جاؤ ابن حضیر! انہوں نے کہا میں نے پھر پڑھا وہ پھر اچھلنے لگی رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا اے ابن حضیر! پڑھتے جاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے پڑھا پھر وہ چکر لگانے لگی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن حضیر پڑھتے جاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں فارغ ہوا تو یحیٰ جو اس (گھوڑی) کے قریب تھا مجھے ڈر ہوا کہ وہ اسے کہیں روند ہی نہ ڈالے تب میں نے ایک سائبان سا دیکھا اس میں چراغ جیسے تھے وہ فضا میں بلند ہوتے گئے یہان تک کہ میں انہیں دیکھ نہ سکتا تھا اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز سن رہے تھے اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح ضرور لوگ بھی انہیں دیکھ لیتے اور یہ ان سے پوشیدہ نہ رہتے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی سی ہے اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور اس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی ہے اس کی خوشبو نہیں ہے لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے اور وہ منافق جو قرآن پڑھتا ہے اس کی مثال خوشبو دار پھول جیسی ہے۔ اس کی خوشبو تو عمدہ ہے لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال حَنْظَل جیسی ہے جس کی خوشبو نہیں ہے اور ذائقہ بھی کڑوا ہے۔ ہمام کی روایت میں منافق کی بجائے فاجر کے الفاظ ہیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قرآن کا ماہر سَفَرَۃٍ کِرَامٍ بَرَرَۃٍ کے ساتھ ہوگا اور جو شخص اٹکتے ہوئے قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کے لئے مشکل ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔ وکیع کی روایت میں وَالَّذِی یَقْرَئُ وَھُوَ یَشتدُّ عَلَیہ لَہُ اَجْرَان کے الفاظ ہیں۔ سورۃ عبس کی آیت 16، 17 میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کے ہاتھوں میں قرآن ہے اور جو صحیفے لکھنے والے دور دراز سفر کرنے والے معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہیں۔
حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابیّؓ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں انہوں نے عرض کیا کیا اللہ نے آپؐ سے میرا نام لیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اللہ نے مجھ سے تمہارا نام لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس پر حضرت ابیّؓ رونے لگے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابیّ بن کعبؓ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا پڑھ کر سناؤں۔ انہوں نے عرض کیا کیا اللہ نے آپؐ سے میرا نام لیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں اس پر وہ رو پڑے۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں آپؐ کو پڑھ کر سناؤں جبکہ وہ آپؐ پر نازل کیا گیا ہے! آپؐ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے قرآن سنوں۔ (حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں ) میں نے سورۃ النساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں یہاں پہنچا فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلٓائِ شَھِیْداً (ترجمہ) پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے (سورۃ النساء: 42) میں نے اپنا سر اُٹھایا یا کسی شخص نے میرے پہلو میں ہاتھ مارا تب میں نے سر اُٹھایا تو میں نے آپؐ کے آنسو بہتے ہوئے دیکھے۔ ھناد نے اپنی روایت میں مزید بیان کیا کہ رسول اللہﷺ جب آپؐ منبر پر تشریف فرما تھے مجھے فرمایا کہ مجھے (قرآن) پڑھ کر سناؤ۔
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے فرمایا کہ مجھے (قرآن) پڑھ کر سناؤ انہوں نے عرض کیا کیا میں آپؐ کو قرآن سناؤں جبکہ وہ آپؐ پر نازل کیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ کسی اور سے قرآن سنوں۔ راوی کہتے ہیں چنانچہ انہوں نے سورۃ النساء کی ابتداء سے اس کے اس قول فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلٓاءِ شَھِیْداً (ترجمہ) پس کیا حال ہوگا جب ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ تک تلاوت سنائی تو رسول اللہﷺ رو پڑے۔ ایک دوسری روایت جو حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے اس پر فرمایا کہ میں اس وقت تک ان پر نگران رہا _ جب تک میں ان میں رہا۔ مسعر کو کُنتُ یا دُمتُ کے بارہ میں شک ہے۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو مجھ سے بعض لوگوں نے کہا کہ ہمیں (قرآن) سناؤ۔ میں نے انہیں سورۃ یوسفؑ پڑھ کر سنائی۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ بخدا یہ (سورۃ) اس طرح تو نازل نہیں کی گئی۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ تیرا بھلا ہو۔ خدا کی قسم میں نے یہ (سورۃ) رسول اللہﷺ کے سامنے پڑھی تو آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا پڑھا۔ ابھی میں اس سے بات کر ہی رہا تھا کہ میں نے اس سے شراب کی بو محسوس کی۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کیا تم شراب پیتے ہو اور (اللہ) کی کتاب کو جھٹلاتے ہو، تم جانے نہ پاؤ گے یہانتک کہ میں تمہیں درّے نہ لگا لوں۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے اُسے سزا کے طور پر درّے لگائے۔ ابو معاویہ کی روایت میں فَقَالَ لیِ اَحْسَنْتَ کے الفاظ نہیں ہیں۔