أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ .
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے بارہ میں حکم فرمایا کہ اسے لوگوں کے نمازِ (عید) پر جانے سے پہلے ادا کیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی بھی سونے یا چاندی کا مالک ہو اور اس میں سے اس کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کے لئے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر دوزخ کی آگ میں انہیں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کے پہلو، پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا اور جب بھی یہ (تختیاں) ٹھنڈی ہو جائیں گی تو انہیں اس کے لئے دوبارہ (گرم) کیا جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا پھر وہ اپنا رستہ دیکھے گا یا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! اونٹوں کے بارہ میں (کیا حکم ہے)؟ آپؐ نے فرمایا نہ ہی اونٹوں والا جو اُن کا حق ادا نہ کرے اور ان کے حق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پانی پلانے کے دن اس کا دودھ دوھا جائے۔ ہاں مگر جب قیامت کے دن اسے چٹیل میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پوری تعداد میں جن میں سے ایک بچہ بھی کَم نہ ہوگا وہاں ہوں گے وہ اپنے پاؤں سے اسے روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے جب بھی ان کی ایک قطار اس پر سے گزرے گی تو دوسری لوٹا دی جائے گی ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر وہ اپنا رستہ دیکھے گا یا جنت یا دوزخ کی طرف۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! گایوں اور بھیڑ بکریوں کے بارہ میں؟ آپؐ نے فرمایا گایوں اور بکریوں کے مالک (بھی) جو ان کے حق ادا نہ کریں گے قیامت کے دن اسے چٹیل میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا اور وہ ان میں سے کچھ بھی کَم نہ پائے گا۔ ان میں نہ تو مڑے ہوئے سینگوں والی ہوں گی اور نہ بغیر سینگوں والی ہوں گی نہ ہی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ہوں گی۔ یہ سب اُسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کُھروں سے روندیں گی اور جب بھی اُن میں سے ایک اس پر سے گذرے گی تو دوسری لوٹا دی جائے گی۔ اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر وہ اپنا رستہ دیکھے گا یا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ اور گھوڑوں کے بارہ میں؟ آپؐ نے فرمایا گھوڑے تین قسم کے ہیں۔ ایک تو مالک کے لئے بوجھ ہیں دوسرے مالک کے لئے پردہ پوشی کا ذریعہ اور تیسرے مالک کے لئے اجر۔ جہاں تک اُن (گھوڑوں) کا تعلق ہے جو مالک کیلئے بوجھ ہیں انہیں آدمی ریاء، فخر اور مسلمانوں سے دُشمنی کے لئے باندھتا ہے تو یہ اس کے لئے بوجھ ہے۔ جہاں تک اُن (گھوڑوں) کا تعلق ہے جو اس کے لئے پردہ ہیں یہ وہ ہیں جنہیں آدمی نے اللہ کی راہ میں باندھا ہو اور پھر ان کی پشتوں اور گردنوں میں اللہ کے حق کو نہ بھولا ہو پس یہ اس کے لئے پردہ ہیں اور جہاں تک اُن (گھوڑوں) کا تعلق ہے جو اس کے لئے اجر کا باعث ہیں یہ وہ ہیں جنہیں مالک نے اللہ کی راہ میں مسلمانوں کے لئے کسی چراہ گاہ یا باغ میں باندھا ہو پس جتنا بھی وہ اس چراگاہ یا باغ میں سے کھائیں گے اس کے لئے اتنی نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ان کی لید اور پیشاب کے عوض بھی اس کے لئے نیکیا ں لکھ دی جائیں گی اور اگر وہ رسی تڑوا کر ایک یا دو گھاٹیاں طے کرے تو ان کے قدموں کے نشانات اور لید کے برابر اللہ اس کے لئے نیکیاں لکھ دے گا اور اگر اس کا مالک اسے لے کر کسی نہر پر سے گذرے اور وہ اس سے پانی پی لے جبکہ اس کا ارادہ پانی پلانے کا نہ ہو تو بقدر ان کے پانی پینے کے اللہ اس کے لئے نیکیاں لکھ دے گا۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! اور گدھوں کے بارہ؟ آپؐ نے فرمایا گدھوں کے بارہ میں کچھ نازل نہیں کیا گیا سوائے اس کے کہ یہ ایک جامع آیت۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو خزانہ کا مالک اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا اس کے مال کو جہنم کی آگ میں تپا کر اس کے تختے بنائیں جائیں گے جن سے اس کے پہلوؤں اور پیشانی کو داغا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پھر وہ اپنا رستہ دیکھے گا یا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ اور اونٹوں کا مالک بھی جو ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو اُسے ان کے لئے چٹیل میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا اور وہ سارے کے سارے اس پر ادھر سے ادھر دوڑیں گے۔ جب بھی اس پر سے آخری اونٹ گزرے گا تو پہلا واپس لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پھر وہ اپنا رستہ دیکھے گا یا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ اور بھیڑ بکریوں کا مالک جو اُن کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ان کے لئے اسے ایک چٹیل میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا وہ ساری کی ساری اپنے کھروں سے اسے روندیں گی۔ اور اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی ان میں نہ تو کوئی مڑے ہوئے سینگوں والی ہوگی نہ ہی بغیر سینگوں کے۔ جب بھی اس پر سے آخری گذرے گی تو پہلی کو اس پر سے واپس لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے جو تم شمار کرتے ہو۔ پھر وہ اپنا رستہ دیکھے گا یا جنت کی طرف یا دوزخ کی طرف۔ سہیل کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ آپؐ نے گائیوں کا ذکر کیا یا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا اور یا رسولؐ اللہ اور گھوڑوں کے بارہ میں؟ آپؐ نے فرمایا خیر گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے {یا سہیل کو شک ہے} کہ فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر بندھی ہوئی ہے قیامت کے دن تک۔ گھوڑے تین قسم کے ہیں پس یہ کسی آدمی کے لئے اجر کسی آدمی کیلئے ستر (پردہ پوشی) اور کسی آدمی کیلئے بوجھ ہیں۔ جس کے لئے یہ اجر ہیں وہ شخص انہیں اللہ کی راہ میں رکھتا ہے اور تیار کرتا ہے۔ پس ان کے پیٹ میں جو چیز بھی جاتی ہے اللہ اس کے لئے اس کا اجر لکھ دیتا ہے اگر وہ انہیں کسی چراگاہ میں چراتا ہے تو جو کچھ وہ چرتے ہیں اللہ اس کا اجر اس کے لئے لکھ دیتا ہے۔ اور اگر وہ اسے کسی نہر سے پانی پلائے تو پانی کے ہر قطرہ کے عوض جو اس کے پیٹ میں جاتا ہے اس کے لئے اجر ہوتا ہے یہاں تک کہ آپؐ نے ان کے پیشاب اور لید کے عوض بھی اجر کا ذکر فرمایا (اور فرمایا) اگر وہ ایک یا دو گھاٹیاں عبور کریں تو اس کے ہر قدم کے عوض جو وہ اُٹھاتا ہے اس کے لئے اجر لکھ دیا جاتا ہے اور جس شخص کے لئے یہ ستر (پردہ پوشی) ہیں یہ وہ شخص ہے جو انہیں اعزاز اور زینت کے طور پر رکھتا ہے اور وہ ان کی تکلیف و آرام (کے وقت) ان کی پیٹھ اور ان کے پیٹ کا حق نہیں بھولتا۔ اور وہ شخص جس کے لئے یہ بوجھ ہیں وہ ہے جو انہیں تکبر اور غرور فخر و مباہات اور لوگوں کو دکھانے کے لئے رکھتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس پر وہ بوجھ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: گدھوں کے بارہ میں یا رسول اللہ؟ آپؐ نے فرمایا اس بارہ میں اللہ نے مجھ پر کچھ نازل نہیں کیا سوائے اس کے کہ یہ ایک جامع آیت ہے۔ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہُ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہُ (الزلزال: 8، 9) یعنی جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ بھر بھی شر کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ ایک دوسری روایت میں عَقْصَائَ
حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی بھی اونٹوں والا جو اُن کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن وہ (اونٹ) اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گے اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اپنے پاؤں اور کھروں سے اسے روندیں گے اور کوئی گائیوں والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن وہ (گائیاں) اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی پھر وہ چٹیل میدان میں ان کے سامنے بیٹھے گا۔ وہ اسے اپنے سینگ ماریں گی اور اپنے پاؤں تلے روندیں گی۔ اور نہ کوئی بھیڑ بکری والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن وہ اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی۔ وہ ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بیٹھے گا پھر وہ اسے اپنے سینگ ماریں گی اور اپنے کھروں تلے روندیں گی۔ ان میں نہ تو کوئی بغیر سینگ کے ہوگی نہ ٹوٹے سینگ والی اور کوئی خزانہ کا مالک جو اس کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا خزانہ ایک گنجے سانپ کی صورت میں آئے گا اور منہ کھولے ہوئے اس کا پیچھا کرے گا جب وہ (سانپ) اس کے پاس آئے گا تو وہ (مالک) اس سے بھاگے گا تب وہ سانپ اسے آواز دے گا کہ اپنا خزانہ لے لو جو تم نے چھپا رکھا تھا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ جب وہ مالک دیکھے گا کہ اس سے کوئی چارہ نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس (سانپ) کے منہ میں ڈال دے گا تو وہ اسے سانڈ کی طرح دانتوں میں چبا ڈالے گا۔ ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہی بات کہتے ہوئے سنا اور ہم نے حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے بھی عبید بن عمیر جیسی بات کہی۔ ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ اونٹوں کا کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایا پانی پر ان کا دودھ دوہنا اور اُن کا ڈول عاریۃً دینا اور ان کا نر اونٹ عاریۃً دینا اور ان کا دودھیل جانور عاریۃً دینا اور اللہ کی راہ میں ان پر سواری کرانا۔
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ کوئی بھی اونٹوں گائیوں اور بھیڑ بکریوں والا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا اسے قیامت کے دن ایک چٹیل میدان میں ان کے سامنے بٹھایا جائے گا اور کھروں والے اسے اپنے کھروں تلے روندیں گے اور سینگوں والے اسے اپنے سینگ ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی بغیر سینگ اور ٹوٹے سینگوں والی نہ ہوگی۔ ہم نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ان کا کیا حق ہے؟ فرمایا ان کے نر اونٹ کو نسل کشی کے لئے چھوڑنا۔ عاریۃً اس کا ڈول دینا، دودھیل جانور عطیہ دینا اور پانی پر ان کا دودھ دوہنا اور اللہ کی راہ میں اس پر سواری کروانا اور کوئی دولت مند جو اس (مال) کی زکوٰۃ نہیں دیتا وہ (مال) قیامت کے دن ایک گنجے سانپ (کی صورت) میں تبدیل ہو جائے گا اور اپنے مالک کا جہاں کہیں وہ جائے گا پیچھا کرے گا اور وہ (مالک) اس سے بھاگے گا اور کہا جائے گا یہ تیرا مال ہے جس میں تو بخل کرتا تھا پس جب وہ دیکھے گا کہ اب کوئی چارہ نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کر دے گا اور وہ اسے اونٹ کے چبانے کی طرح چبانے لگے گا۔
حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ بدوی لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بعض زکوٰۃ وصول کرنے والے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہماری حق تلفی کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو۔ جریر کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے کوئی زکوٰۃ وصول کرنے والا میرے پاس سے واپس نہیں گیا مگر وہ مجھ سے راضی تھا۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور آپؐ کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ جب آپؐ نے مجھے دیکھا تو فرمایا ربِ کعبہ کی قسم! وہ بہت گھاٹے میں ہیں۔ (حضرت ابوذرؓ) کہتے ہیں میں آیا اور بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی کھڑا ہوگیا۔ میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں وہ کون ہیں؟ آپؐ نے فرمایا وہ بڑے بڑے مالدار ہیں سوائے اس کے جس نے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح دیا اپنے آگے اور اپنے پیچھے اپنے دائیں اور اپنے بائیں لیکن وہ بہت تھوڑے ہیں۔ کوئی اونٹوں گائیوں اور بکریوں والا جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا (اس کے جانور) قیامت کے دن اس حالت میں آئیں گے جب وہ سب سے بڑے اور فربہ تھے۔ وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے کھروں تلے روندیں گے جب بھی اس پر سے دوسری گزر جائے گی تو پہلی اس پر لوٹ آئے گی یہانتک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ حضرت ابوذرؓ سے ایک اور روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا آپؐ کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے زمین پر کوئی آدمی ایسا نہیں جو مر جائے اور اونٹ گائیاں اور بکریاں چھوڑ جائے جن کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے یہ بات خوشی کا موجب نہیں کہ میرے پاس احد (پہاڑ) جتنا سونا ہو اور مجھ پر تیسری رات آئے کہ میرے پاس ایک بھی دینار ہو سوائے اس دینار کے جسے میں اپنے قرض (کی ادائیگی) کے لئے محفوظ رکھ لوں۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں شام کے وقت نبیﷺ کے ساتھ مدینہ کی پتھریلی زمین میں چل رہا تھا اور ہم احد (پہاڑ) کی طرف دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابو ذرؓ ! وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا لبیک یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا میں پسند نہیں کروں گا کہ یہ احد میرے پاس سونے کا ہواور تیسری رات تک اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس رہے سوائے اس دینار کے جو میں قرض (کی ادائیگی) کے لئے بچا رکھوں، ہاں مگر یہ کہ میں اسے اللہ کے بندوں کو اس طرح دوں (اور آپؐ نے) اوک بناتے ہوئے اپنے سامنے اور اس طرح اپنے دائیں اور اس طرح اپنے بائیں اشارہ کیا۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم چلے تو آپؐ نے فرمایا اے ابوذرؓ ! وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا لبیک یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا یقینا زیادہ مال والے قیامت کے دن بہت کم مال والے ہوں گے سوائے جو اس اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے ویسے ہی جیسے آپؐ نے پہلی دفعہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں پھر ہم چلے آپؐ نے فرمایا اے ابو ذرؓ ! جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں جہاں ہو وہیں رہو۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ چلے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہوگئے وہ کہتے ہیں میں نے کچھ شور سنا کچھ آواز سنی۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ شاید آپ کو کوئی بات پیش آگئی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں نے ارادہ کیا کہ میں پیچھے جاؤں وہ کہتے ہیں پھر مجھے آپؐ کی وہ بات یاد آگئی کہ تم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں۔ وہ کہتے ہیں میں نے آپؐ کا انتظار کیا اور جب آپؐ تشریف لائے تو میں نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا جو میں نے سنا تھا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے فرمایا وہ جبرائیل تھے وہ میرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ کی امت میں سے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا خواہ وہ زنا کر چکا ہو یا چوری کر چکا ہو؟ فرمایا خواہ وہ زنا کر چکا ہو یا چوری کر چکا ہو۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں ایک رات باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ اکیلے تشریف لے جا رہے ہیں اور آپؐ کے ساتھ کوئی آدمی (بھی) نہیں۔ وہ کہتے ہیں مجھے خیال آیا کہ شاید آپؐ ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی آپؐ کے ساتھ چلے۔ وہ کہتے ہیں میں چاند کے سائے میں چلنے لگا۔ پھر آپؐ نے توجہ فرمائی اور مجھے دیکھ لیا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابوذر! اللہ مجھے آپؐ پر فدا کرے۔ آپؐ نے فرمایا اے ابوذر! ادھر آؤ۔ وہ کہتے ہیں میں کچھ وقت تک آپؐ کے ساتھ چلا پھر آپؐ نے فرمایا یقینا زیادہ مال والے قیامت کے دن بہت کم مال والے ہوں گے سوائے اس کے جسے اللہ مال عطا کرے اور وہ اس میں سے اپنے دائیں اور بائیں آگے اور پیچھے خرچ کرے اور اس (مال) سے اچھے کام کرے۔ وہ کہتے ہیں پھر میں کچھ دیر آپؐ کے ساتھ چلا۔ وہ کہتے ہیں آپؐ نے مجھے ایک میدان میں بٹھا دیا جس کے گرد پتھر تھے اور فرمایا یہاں بیٹھے رہو یہانتک کہ میں تمہارے پاس واپس آؤں۔ وہ کہتے ہیں پھر آپؐ مجھ سے دور ٹھہرے رہے اور دیر تک ٹھہرے رہے۔ پھر میں نے آپؐ کی آواز سنی آپؐ تشریف لا رہے تھے اور فرما رہے تھے خواہ وہ چوری کر چکا ہو یا زنا کر چکا ہو۔ وہ کہتے ہیں جب آپؐ تشریف لے آئے تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! اللہ مجھے آپؐ پر فدا کرے۔ آپؐ اس پتھریلی زمین کے ایک طرف کس سے باتیں کر رہے تھے؟ اور میں نے کسی کو آپؐ کی بات کا جواب دیتے نہیں سنا۔ آپؐ نے فرمایا وہ جبرائیل تھے جو اس پتھریلی زمین کی ایک جانب میرے پاس آئے اور کہا کہ اپنی امت کو بشارت دے دیں کہ جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا وہ جنت میں داخل ہوگیا تب میں نے کہا اے جبرائیل خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ فرمایا میں نے کہا خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ اس نے کہا ہاں فرمایا میں نے کہا خواہ اس نے چوری کی ہو یا زنا کیا ہو؟ اس نے کہا ہاں خواہ اس نے شراب بھی پی ہو۔