بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 167 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر غلام یا آزاد چھوٹے یا بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فطرانہ فرض کیا ہے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے آزاد اور غلام مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو رمضان کا فطرانہ فرض فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے اسے نصف صاع گندم کے برابر کر لیا۔
نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا کہ یقینا رسول اللہﷺ نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کے فطرانہ کا حکم فرمایا حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں پھر لوگوں نے اسے دو مُد گندم کے برابر کر دیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہر آزاد یا غلام مرد یا عورت چھوٹے یا بڑے ہر مسلمان پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو رمضان کا فطرانہ فرض کیا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک صاع غلّہ یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع خشک انگور صدقۃ الفطر نکالا کرتے تھے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ ہم میں (موجود) تھے تو ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد یا غلام کی طرف سے ایک صاع غلّہ یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع خشک انگور صدقۃ الفطر نکالا کرتے تھے اور ہم اس (صدقۃ الفطر) کو نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ بن ابو سفیان ہمارے پاس حج یا عمرہ کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے منبر پر لوگوں سے خطاب کیا اور جس بارہ میں انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا وہ یہ تھا میری رائے میں شام کی گندم کے دو مُد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں۔ چنانچہ لوگ ایسا ہی کرنے لگے۔ حضرت ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ میں تو جب تک زندہ رہونگا وہی فطرانہ نکالتا رہونگا جو پہلے نکالتا تھا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہﷺ ہم میں (موجود) تھے ہم ہر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین اجناس میں صدقۃ الفطر نکالا کرتے تھے ایک صاع کھجور سے ایک صاع پنیر سے اور ایک صاع جَو سے۔ پس ہم اسے معاویہ (کے آنے) تک اسی طرح نکالتے رہے۔ اُن کی رائے ہوئی کہ دو مُد گندم ایک صاع کھجور کے برابر ہے۔ حضرت ابو سعیدؓ نے کہا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میں تو اسے اسی طرح نکالتا رہوں گا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ہم تین اقسام میں صدقۃ الفطر نکالا کرتے تھے پنیر، کھجور اور جَو۔
عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح حضرت ابوسعید خدریؓ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہؓ نے نصف صاع گندم کو ایک صاع کھجور کے برابر قرار دیا تو حضرت ابو سعیدؓ نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ میں اس میں سے وہی (صدقۃ الفطر) نکالا کروں گا جو میں رسول اللہﷺ کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا ایک صاع کھجور میں سے یا ایک صاع خشک انگور میں سے یا ایک صاع جَو میں سے یا ایک صاع پنیر میں سے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے صدقۃ الفطر کے بارہ میں حکم فرمایا کہ اسے لوگوں کے نماز ِ(عید) پر جانے سے پہلے ادا کیا جائے۔