حضرت میمونہؓ بنت حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں ایک لڑکی آزاد کی پھر اس کا ذکر رسول اللہﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا اگر تم اسے اپنے مامؤوں کو دے دیتیں تو تمہیں زیادہ اجر ہوتا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ . قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلاَّ صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ . قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ . قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتِي حَاجَتُهَا - قَالَتْ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلاَنِكَ أَتَجْزِي الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلاَ تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ - قَالَتْ - فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ هُمَا . فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الزَّيَانِبِ . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
حضرت عبد اللہؓ کی بیوی حضرت زینبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اے عورتوں کے گروہ! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور میں سے ہی ہو۔ وہ کہتی ہیں میں عبد اللہ کے پاس آئی اور کہا تم تنگدست ہو اور رسول اللہﷺ نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا ہے تم رسول اللہﷺ سے پوچھ لو اگر وہ (تمہیں دینے سے) میری طرف سے ادا ہو جاتا ہے تو ٹھیک ورنہ تمہارے علاوہ کسی اور کو دوں۔ وہ کہتی ہیں عبد اللہ نے مجھے کہا تم ہی جاؤ۔ وہ کہتی ہیں میں گئی تو دیکھا کہ انصاری عورت رسول اللہﷺ کے دروازہ پر کھڑی ہے اور اس کی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی اور رسول اللہﷺ کو رعب عطا کیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں حضرت بلالؓ ہمارے پاس آئے ہم نے انہیں کہا کہ رسول اللہﷺ کے پاس جاؤ اور بتاؤ کہ دو عورتیں دروازہ پر ہیں جو آپؐ سے پوچھتی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیموں کو جو ان کے گھروں میں ہیں، دینے سے صدقہ ہو جائے گا اور آپؐ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں وہ کہتی ہیں حضرت بلالؓ رسول اللہﷺ کے پاس گئے اور آپؐ سے دریافت کیا تو رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا وہ دونوں عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ ایک عورت انصار میں سے ہے اور دوسری زینبؓ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کونسی زینبؓ؟ انہوں نے عرض کیا عبد اللہ کی بیوی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ان دونوں کے لئے دو اجر ہیں قرابت کا اجر اور صدقہ کا اجر۔ حضرت عبد اللہ ؓ کی بیوی حضرت زینبؓ سے ایک اور روایت میں ہے کہ میں مسجد میں تھی کہ مجھے نبیﷺ نے دیکھا اور فرمایا صدقہ دو خواہ اپنے زیور سے۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میں ابو سلمہ کے بیٹوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا؟ میں انہیں اس طرح تو نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ وہ میرے بھی تو بیٹے ہیں آپؐ نے فرمایا ہاں جو تم ان پر خرچ کرتی ہو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔
حضرت ابو مسعود بدریؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان اپنے گھر والوں پر کوئی خرچ کرتا ہے اور وہ اس سے اللہ کی رضا کی امید رکھتا ہے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔
حضرت اسماءؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ راغب ہیں یا (کہا) ڈری ہوئی ہیں۔ کیا میں ان سے حسن سلوک کروں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔
قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدَهُمْ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهْىَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ
نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ
.
حضرت اسماءؓ بنت ابی بکرؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ مشرکہ تھیں اور قریش کے معاہدہ (کے دنوں میں) جب آپؐ نے ان سے معاہدہ کیا تھا۔ میں نے رسول اللہﷺ سے فتوٰی پوچھا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ راغب ہیں کیا میں اپنی ماں سے حسن سلوک کروں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اپنی ماں سے حسن سلوک کرو۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! میری والدہ اچانک فوت ہوگئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقعہ ملتا تو ضرور صدقہ کرتیں کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہیں ثواب ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے بعض صحابہؓ نے نبیﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مالدار لوگ سب اجر لے گئے وہ نماز پڑھتے ہیں جیسا کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور وہ روزے رکھتے ہیں جیسا کہ ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ اپنے زائد اموال میں سے صدقہ کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو یقینا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے اور ہر تحمید صدقہ ہے اور ہر تہلیل صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم میں سے اگر کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر اپنی خواہش حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اس پر بوجھ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب وہ اسے جائز طریقہ سے کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔
عبد اللہ بن فرّوخ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدم کی اولاد میں سے ہر انسان کی تخلیق میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں پس جس شخص نے اللہ اکبر کہا اور الحمد للہ کہا اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا اور سبحان اللہ کہا اور اللہ سے مغفرت چاہی اور لوگوں کے راستہ سے پتھر ہٹایا، کانٹا یا ہڈی لوگوں کے راستہ سے ہٹائی یا نیکی کا حکم دیا یا برائی سے روکا۔ ان 360 جوڑوں کی تعداد کے مطابق۔ وہ اس دن چلے گا اور اس نے اپنی جان کو آگ سے دور کر دیا۔ ابو توبہ کہتے ہیں راوی یُمْسِی (شام کرے گا) کے الفاظ کہتے تھے۔ ایک دوسری روایت میں اَمَرَ بِمَعْرُوْفٍ کے بجائے اَمَرَ بِالْمَعْرُوْفِ کے الفاظ ہیں اور فَاِنَّہُ یَمْشِی یَوْمَئِذٍ کے الفاظ ہیں۔