بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
حضرت ابو ذرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے جو ایک نیکی کرے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا اجر ہے بلکہ میں اور بڑھاؤں گا اور جو بدی کرے گا تو اسے اس کے برابر ہی جزا دی جائے گی یا میں بخش دوں گا اور جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں گز بھر اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک گز میرے قریب آتا ہے تو میں دو گز اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر جاتا ہوں اور جو زمین بھر خطاؤں کے ساتھ بھی میرے پاس آئیگا بشرطیکہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے برابر مغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا۔ ایک روایت میں (فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا وَأَزِیْدُ کی بجائے) فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا اَوْ أَزِیْدُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک مسلمان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو کمزوری کے باعث چوزہ کی طرح ہو گیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم (اللہ سے) کوئی دعا کیا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا جی میں کہا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو نے مجھے آخرت میں دینی ہے وہ اس دنیا میں ہی جلد دیدے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے یا (فرمایا) اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا کہ اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں پھر آپؐ نے اللہ سے اس کے لئے دعا کی اور اس نے اسے شفا دیدی۔ ایک روایت میں وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے الفاظ ہیں اور مزید الفاظ کا ذکر نہیں۔ ایک روایت میں حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے صحابہؓ میں سے کسی کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو چوزہ کی طرح (کمزور) ہو چکا تھا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اللہ کے عذاب کے برداشت کی طاقت نہیں ہے۔ مگر اس روایت میں فَدَعَا اللَّہَ لَہُ فَشَفَاہُ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فضیلت رکھنے والے فرشتے چکر لگاتے رہنے والے ہیں جو ذکر کی مجالس تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ تعالیٰ کا) ذکر ہو رہا ہو تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے انہیں گھیر لیتے ہیں یہاں تک کہ جو کچھ ان کے اور ورلے آسمان کے درمیان ہے اس کو بھر دیتے ہیں۔ پھر جب لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو وہ (فرشتے) بھی اوپر چڑھتے اور آسمان تک جا پہنچتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر اللہ عزوجل ان سے سوال کرتا ہے_ حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے _ تم کہاں سے آئے ہو؟ تب وہ کہتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو زمین میں ہیں وہ تیری تسبیح اور تیری بڑائی بیان کر رہے تھے۔ تیری تہلیل اور تیری حمد بیان کر رہے تھے اور تجھ سے مانگ رہے تھے۔ اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے۔ وہ (اللہ) فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں نہیں اے میرے رب! اللہ فرماتا ہے کیا حال ہو اگر وہ میری جنت دیکھ لیں۔ وہ عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ وہ (اللہ) فرماتا ہے وہ کس چیز سے پناہ چاہتے ہیں۔ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں یا رب! تیری آگ سے۔ اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں نہیں۔ وہ (اللہ) فرماتا ہے کیا حال ہو اگر وہ میری آگ دیکھ لیں۔ تب وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں پھر اللہ فرماتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور جو انہوں نے مانگا میں نے انہیں عطا کیا اور جس چیز سے انہوں نے پناہ طلب کی میں نے انہیں پناہ دی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اس پر وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں یا رب! ان میں فلاں سخت خطاکار شخص بھی تھا جو وہاں سے گذرا تو ان کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ (اللہ) فرمائے گا میں نے اسے بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں ان کی بدولت ان کے پاس بیٹھنے والا بے نصیب نہیں رہتا۔
قتادہ نے حضرت انسؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ اکثر کونسی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت انسؓ جب بھی کوئی دعا کرنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے اور اگر کوئی (اور) دعا کرنے کا ارادہ کرتے تو اس میں یہ بھی دعا کرتے۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے رَبَّنَا اٰ تِنَا فِی الدَّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے ایک دن میں سو مرتبہ یہ کہا کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے۔ تمام حمد اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر جسے وہ چاہے خوب قدرت رکھتا ہے۔ یہ کلمات اس کے لئے دس گردنوں کے آزاد کرنے کے برابر ہوں گے۔ اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور سو بدیاں اس سے دور کر دی جائیں گی۔ یہ اس کے لئے اس دن شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گے یہاں تک کہ وہ شام کرے۔ جس نے ایسا کہا اس سے زیادہ افضل (اعمال) کوئی نہیں لائے گا سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ عمل کیا اور جس نے ایک دن میں سو مرتبہ کہا سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ کہ اللہ پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ۔ اس کی خطائیں مٹا دی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے صبح اور شام سو مرتبہ سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ اللہ پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ۔ کہا تو کوئی اس سے زیادہ افضل عمل قیامت کے دن نہیں لائے گا سوائے اس کے جس نے اس شخص کی طرح کہا یا اس سے زائد کہا۔
حضرت عمرو بن میمونؓ بیان کرتے ہیں کہ جس نے دس مرتبہ کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکَ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے تمام حمد اسی کی ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد سے چار افراد کو آزاد کیا۔ راوی شعبی کہتے ہیں کہ میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ تم نے کس سے یہ سنا ہے؟ انہوں نے کہا حضرت ابو ایوبؓ انصاری سے اور وہ یہ حدیث رسول اللہﷺ سے بیان کرتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر تو ہلکے ہیں میزان میں بھاری ہیں اور رحمان کو بہت پیارے ہیں۔ وہ ہیں سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللَّہِ الْعَظِیْم: پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ، پاک ہے اللہ جو بڑی عظمت والا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر میں کہوں سُبْحَانَ اللَّہِ (اللہ پاک ہے) وَالْحَمْدُ لِلَّہِ (سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے) اور اَللَّہُ اَکْبَر (اللہ سب سے بڑا ہے) وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہو۔