بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ہم حضرت خبابؓ کے پاس گئے اور انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے موت کی دعا کرنے سے روکا نہ ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔ نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کے لئے دعا کرے۔ بات یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کے عمل ختم ہو جاتے ہیں اور مومن کو اس کی زندگی صرف خیر میں ہی بڑھاتی ہے۔
حضرت عبادہ بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے۔ اللہ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات نا پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات نا پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ ! کیا اس سے مراد موت کی کراہت ہے ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا نہیں ایسا نہیں بلکہ مومن کو جب اللہ کی رحمت، رضا اور اس کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جب کافر کو اللہ کے عذاب اور ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس کی ملاقات نا پسند کرتا ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات نا پسند کرتا ہے۔ اللہ اس کی ملاقات نا پسند کرتا ہے اور موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے۔
شریح بن ہانی، حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات نا پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات نا پسند کرتا ہے۔ وہ (شریح) کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہؓ کے پاس گیا اور عرض کیا اے امّ المومنین ! میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو رسول اللہﷺ سے ایسی روایت بیان کرتے سنا ہے اگر ایسا ہی ہے تو ہم ہلاک ہو گئے۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے کہا یقینا وہ ہلاک ہونے والا ہے جو رسول اللہﷺ کے قول سے ہلاک ہوا۔ (پھر انہوں نے فرمایا) وہ کیا بات ہے؟ اس پر انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے اللہ کی ملاقات پسند کی اللہ نے اس کی ملاقات پسند کی اور جس نے اللہ کی ملاقات نا پسند کی اللہ نے اس کی ملاقات ناپسند کی۔ ہم میں سے تو کوئی بھی موت کو پسند نہیں کرتا۔ اس پر وہ فرمانے لگیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ بات فرمائی تھی لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ جب آنکھ پھٹی رہ جائے گی اور غرغرہ کا وقت ہوگا اور جلد پر کپکپی طاری ہو جائے گی اور انگلیوں پر تشنج ہو جائے گا۔ پس اس وقت جس نے اللہ کی ملاقات پسند کی اللہ اس کی ملاقات پسند کرے گا اور جس نے اللہ کی ملاقات نا پسند کی اللہ اس کی ملاقات ناپسند کرے گا۔
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو اللہ کی ملاقات پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات نا پسند کرتا ہے اللہ اس کی ملاقات نا پسند کرتا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندہ کے میرے متعلق ظن کے مطابق ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔
حضرت انس بن مالک حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔ جب وہ میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتے ہوئے جاتا ہوں۔ ایک روایت میں اِذَا اَتَانیْ یَمْشِیْ أَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ عز ّوجل فرماتا ہے کہ میں اپنے بندہ کے میرے متعلق ظن کے مطابق ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اپنے دل میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجمع میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مجمع میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں گز بھر اس کے قریب ہو جاتا ہوں اگر وہ ایک گز میرے قریب آتا ہے تو میں دو گز اس کے قریب ہو جاتا ہوں اگر وہ چلتے ہوئے میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑتے ہوئے اس کے پاس جاتا ہوں۔