حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں جنت کے دروازہ پر کھڑا ہوا (کیا دیکھتا ہوں کہ) عام طور پر اس میں داخل ہونے والے مساکین تھے اور مالداروں کو جنت میں جانے سے روک دیا گیا تھا سوائے آگ والوں کے جن کو آگ کی طرف جانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ میں جہنم کے دروازہ پر کھڑا ہوا تو (کیا دیکھتا ہوں کہ) اس میں عام طور پر داخل ہونے والی عورتیں ہیں۔
قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ محمدﷺ نے فرمایا کہ میں نے جنت میں جھانکا تو اس کے باشندوں کو فقراء دیکھا۔ دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثر عورتیں دیکھیں۔ ایک روایت میں (اِطَّلَعْتُ فِی النَّارِ کی بجائے) اِطَّلَعَ فِی النَّارِ کے الفاظ ہیں۔
ابو التیاح بیان کرتے ہیں کہ مطرّف بن عبداللہ کی دو بیویاں تھیں۔ وہ دونوں میں سے ایک کے پاس سے آئے تو دوسری نے کہا کہ تم فلاں کے پاس سے آئے ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں حضرت عمران بن حصینؓ کے پاس سے آیا ہوں۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں رہنے والوں میں سب سے کم عورتیں ہیں۔ ایک روایت میں (کَانَ الْمُطَرَّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ کی بجائے) سمِعْتُ مُطَرَّفًا یُحَدِّثُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی ایک دعا یہ بھی تھی اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَائَۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیعِ سَخَطِکَ اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے اور تیری (عطا کردہ) عافیت کے جاتے رہنے سے اور تیری ناگہانی سزا سے اور ہر ناراضگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ بن حارثہ اور حضرت سعیدؓ بن زید بن عمرو بن نفیل نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں اپنی وفات کے بعد انسانوں میں مَردوں کے لئے عورتوں سے زیادہ ضرر رساں کوئی آزمائش نہیں چھوڑ رہا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا یقینا دنیا شیریں (اور) سر سبز ہے اور اللہ تمہیں اس میں (پہلوں کا) جانشین بنانے والا ہے۔ پھر وہ دیکھے گا کہ تم اس میں کیسے کام کرتے ہو۔ پس تم دنیا کے بارہ میں تقویٰ اختیار کرو اور عورتوں کے بارہ میں تقویٰ اختیار کرو کیونکہ بنی اسرائیل میں پہلی آزمائش عورتوں کے بارہ میں تھی۔ ایک روایت میں (فَیَنْظُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ کی بجائے) لِیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا۔ انہوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی۔ اتنے میں ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس کو ان پر بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم اپنے اپنے اعمال صالحہ پر نظر کرو جو تم نے محض اللہ کے لئے کئے ہوں۔ پھر ان کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ امید ہے کہ اللہ اس (چٹان) کو تم سے دور کر دے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے عرض کیا اے اللہ! میرے بہت بوڑھے والدین اور میری بیوی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ جن کی خاطر میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔ بکریاں چرا کر انکے پاس واپس آتا تو (بکریوں کا) دودھ دوہتا اور اپنے والدین سے شروع کرتا اور اپنے بچوں سے پہلے اُن دونوں کو دودھ پلاتا۔ ایک دن درختوں کے لئے میں دور چلا گیا۔ اور جب آیا تو شام ہو چکی تھی۔ (جب میں گھر آیا) تو (اپنے) دونوں (والدین) کو سوئے ہوئے پایا۔ چنانچہ میں نے دودھ دوہا جیسے میں دوہا کرتا تھا اور دودھ کا برتن لے کر ان دونوں کے سرہانے کھڑا ہوگیا۔ میں نے ان دونوں کو نیند سے جگانے کو ناپسند کیا۔ ان سے پہلے بچوں کو دودھ پلانا بھی پسند نہ کرتا تھا حالانکہ بچے میرے قدموں میں بھوک کی وجہ سے شور مچا رہے تھے۔ میرا اور اُن کا یہی حال رہا یہاں تک فجر طلوع ہوگئی۔ پس اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہمارے لئے کچھ کشادگی پیدا فرما دے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں۔ پس اللہ نے اس میں کچھ کشادگی پیدا کر دی اور انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا۔ دوسرے نے کہا کہ اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی مجھے اس سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی مردوں کو عورتوں سے ہو سکتی ہے۔ میں نے اس سے مقاربت چاہی مگر اس نے انکار کیا یہانتک کہ میں اس کے پاس سو دینار لے کر آؤں۔ چنانچہ میں نے محنت مشقت کی یہانتک کہ سو دینار اکٹھے کر لئے اور اس کے پاس لے آیا۔ جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور مہر کو ناحق مت کھول۔ چنانچہ میں اس کے پاس سے کھڑا ہو گیا۔ پس (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضاء جوئی کے لئے کیا تو اس میں ہمارے لئے (مزید) کشادگی پیدا فرما دے۔ چنانچہ اللہ نے ان کے لئے (مزید) کشادگی پیدا فرما دی۔ تب تیسرے نے عرض کیا اے اللہ! میں نے ایک شخص کو ایک فرق چاول کی اجرت پر مزدور رکھا تھا۔ جب اس نے اپنی مزدوری پوری کر لی تو اس نے کہا کہ مجھے میرا حق دے دو۔ میں نے اس کے سامنے اس کا ایک فرق (چاول) رکھ دیا لیکن اس نے اس کو نہ لیا۔ میں اس چاول کو کاشت کرتا رہا یہانتک کہ میں نے اس کی بدولت گائیاں اور ان کے چرواہے جمع کر لئے پھر وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ اللہ سے ڈرو اور میرے حق میں کمی مت کر۔ میں نے کہا کہ جاؤ، یہ سب گائیاں اور اس کے چرواہے لے جاؤ۔ اس پر اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا کہ میں تم سے مذاق نہیں کر رہا۔ یہ گائیاں اور ان کے چرواہے لے جاؤ۔ پس وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر چلا گیا۔ پس (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ محض تیری رضا جوئی کے لئے کیا ہے تو جو رہ گیا ہے اس کو بھی ہمارے لئے کھول دے۔ چنانچہ اللہ نے باقی ماندہ بھی کھول دیا۔ ایک روایت میں (یَمْشُوْنَ کی بجائے) فَخَرَجُوْا یَمْشُوْنَ اور ایک روایت میں خَرَجُوْا کے الفاظ ہیں۔ فرق: ایک پیمانہ ہے جو قریبًا 9 سیر کا ہوتا ہے مگر یہ مدنظر رہے کہ یہ پیمانے مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں میں کم و بیش مقدار میں استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ایک روایت میں (قَالَ بَیْنَمَا ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ کی بجائے) یَقُوْلُ اِنْطَلَقَ ثَلَاثَۃُ رَھْطٍ یعنی فرمایا جو لوگ تم سے قبل ہوئے ہیں ان میں سے تین آدمی نکلے اور انہیں ایک غار میں رات کو پناہ لینا پڑی۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اس کی اجرت کو نفع بخش کام کے ذریعہ بڑھایا یہاں تک کہ اموال زیادہ ہو گئے اور خوب بڑھ گئے۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ غار سے چلتے ہوئے نکلے۔