بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 87 hadith
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ حضرت خولہ بنت حکیمؓ سُلَمِیَّۃ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی کسی جگہ پر اترے تو اسے چاہیے کہ وہ کہے أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعہ پناہ میں آتا ہوں ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے پھر اسے کوئی چیز نقصان نہیں دے گی یہا نتک کہ وہ وہاں سے کوچ کر جائے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! وہ بچھو جس نے مجھے کل رات کاٹا تھا اس سے مجھے کیا ہی تکلیف ہوئی !!! آپؐ نے فرمایا اگر تم نے شام کے وقت یہ کہا ہوتا أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللَّہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کہ میں اللہ کے کامل کلمات سے ہر اس چیز کے شر سے اس (اللہ) کی پناہ میں آتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہے تو وہ تجھے نقصان نہ دیتا۔
حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تو اپنے بستر پر جانے لگے تو اپنے نماز کے وضوء کی طرح وضوء کر پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جا پھر کہہ اَللَّہُمَّ اِنِّیْ أَسْلَمْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ اِلَیْکَ وَأَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَامَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ أَنْزَلْتَ وَنَبِیِّکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ اے اللہ! میں نے اپنا وجود تیرے سپرد کیا اور اپنا سب معاملہ تجھے سونپا اور تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے اور تیرے خوف سے تجھے ہی اپنا سہارا بنایا۔ تیرے سوا کوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ تیری کتاب پر جو تو نے نازل کی اور تیرے نبیؐ پر جسے تو نے بھیجا میں ایمان لایا۔ (حضورؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ) ان (کلمات) کو اپنے کلام کا آخری حصہ بنا لے۔ پس اگر تو اپنی اس رات مر گیا تو تو فطرت پر مرے گا۔ وہ کہتے ہیں پھر میں نے ان کلمات کو یاد رکھنے کے لئے دہرایا۔ میں نے کہا کہ میں تیرے اس رسول پر ایمان لاتا ہوں جو تو نے بھیجا۔ آپؐ نے فرمایا کہہ میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جو تو نے بھیجا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ (فرمایا) اِنْ اَصْبَحَ اَصَابَ خَیْرًا یعنی اگر اس نے صبح کی تو وہ خیر پائے گا۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو ارشاد فرمایا کہ وہ جب رات کو اپنے بستر پر جائے تو کہے اَللَّہُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِِیْ اِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَأَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ أَنْزَلْتَ وَبِرَسُوْلِکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی اور اپنی توجہ تیری طرف کی اور تجھے ہی اپنا سہارا بنایا اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے۔ تیرے سوا کوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ میں تیری کتاب پر جو تو نے نازل کی اور تیرے رسولؐ پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا (اور فرمایا) پھر اگر وہ مرگیا تو فطرت پر مرے گا۔ ابن بشّار نے اپنی روایت میں رات کا ذکر نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص سے فرمایا اے فلاں! اِذَا اَوَیْتَ اِلٰی فِرَاشِکَ جب تو اپنے بستر پر (سونے کے لئے) جائے۔۔۔۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں (بِرَسُوْلِکَ الَّذِیْ أَرْسَلْتَ کی بجائے) بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک روایت اَمَرَ رَسُوْلُ اللَّہِﷺ رَجُلًا کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے مگر اس روایت میں اِنْ اَصْبَحْتَ اَصَبْتَ خَیْرًا کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت براءؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو کہتے اَللَّہُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوْتُ اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ میں زندہ ہوتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو کہتے اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کسی شخص کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو کہے اَللَّہُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَأَنْتَ تَوَفَّاھَا لَکَ مَمَاتُہَا وَمَحْیَاھَا اِنْ أَحْیَیْتَھَا فَاحْفَظْھَا وَاِنْ أَمَتَّھَا فَاغْفِرْ لَھَا اللَّہُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ اے اللہ تو نے میرے نفس کو پیدا کیا اور تو ہی اسے وفات دے گا۔ اس کی موت اور اس کی زندگی تیرے ہی لئے ہے۔ اگر تو اسے زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما اور اگر تو اسے مار دے تو اسے بخش دینا۔ اے اللہ میں تجھ سے عافیت طلب کرتا ہوں۔ اس پر ایک شخص نے کہا کیا آپ نے یہ بات حضرت عمرؓ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا حضرت عمرؓ سے بھی بہتر یعنی رسول اللہﷺ سے۔
سہیل سے روایت ہے کہ ابو صالح ہمیں کہا کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی سونے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دائیں پہلو لیٹے پھر کہے اَللَّھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْاَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْئٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ اللَّھُمَّ أَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیئٌ وَاَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْئٌ اقْضِ عَنَّا الدَّینَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! اور عرشِ عظیم کے رب! ہمارے رب! اور ہر ایک چیز کے رب! دانوں اور گٹھلیوں کے پھاڑنے والے! تورات اور انجیل اور فرقان کے نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں جو تیرے قبضہ میں ہے۔ اے اللہ! تو اوّل ہے۔ تجھ سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں اور تو غالب ہے اور تیرے اوپر اور کوئی چیز نہیں اور تو مخفی ہے اور تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں ہماری طرف سے قرض چکا اور فقر کی بجائے ہمیں غنا عطا فرما۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم اپنے بستر پر جائیں تو یہ (دعا) پڑھا کریں۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس میں (مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْئٍ أَنْتَ آَخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا کی بجائے) مِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَّۃٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا کے الفاظ ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت فاطمہؓ نبی ﷺ کی خدمت میں خادم مانگنے آئیں تو آپؐ نے فرمایا یہ کہا کرو اَللَّھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ۔۔۔۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی چادر کے اندر کے حصے سے جھاڑے اور چاہیے کہ اللہ کا نام لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے بعد اس کے بستر پر کیا چیز آئی ہے پھر جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹے اور کہے سُبْحَانَکَ اللَّہُمَّ رَبِّیْ بِکَ وَضَعْتُ جَنْبِیْ وَبِکَ أَرْفَعُہُ اِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لَھَا وَاِنْ اَرْسَلْتَھَا فَاحْفَظْھَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِیْنَ پاک ہے تو اے اللہ جو میرا رب ہے تیرے نام کے ساتھ میں پہلو رکھتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ ہی اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری روح قبض کر لی تو اس سے مغفرت کا سلوک کرنا اور اگر تو نے اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے اسے چاہیے وہ کہے اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا۔ پس اگر تو نے میرے نفس کو زندہ کیا تو اس پر رحم فرمانا۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو کہتے اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمارے لئے کافی ہوا اور ہمیں پناہ دی۔ کتنے ہیں! جن کے لئے نہ کوئی کافی ہے نہ ہی کوئی پناہ دینے والا ہے۔
فروہ بن نوفل الاشجعی کہتے کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے ان الفاظ کے بارہ میں پوچھا جن کے ذریعہ رسول اللہﷺ دعا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا آپؐ کہا کرتے تھے اَللَّھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جو میں نے کیا اور اس کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔