بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنے کا ذکر فرمایا اور اسے قریب بتایا تو ایک شخص گزرا، جس نے سر ڈھانپا ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شخص اس دن ہدایت پر ہوگا، میں نے چھلانگ لگائی اور مَیں نے حضرت عثمان ؓ کو ان کے دونوں بازؤں سے پکڑا۔ پھر مَیں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف رُخ کیا اور عرض کیا کیا یہ؟ حضور ؐ نے فرمایا ’’یہی‘‘۔
حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عثمان ؓ ! اگر اللہ تعالیٰ کسی دن یہ امر آپؓ کے سپرد کرے اور منافق آپؓ سے چاہیں کہ آپؓ اپنی قمیص کو جو اللہ نے آپؓ کو پہنائی ہے اتار دیں تو آپؓ اسے نہ اتاریں۔ آپؐ نے یہ تین دفعہ فرمایا۔ (راوی) نعمان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ آپؓ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ آپؓ لوگوں کو اس سے آگاہ کریں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا مجھے یہ (بات) بھلا دی گئی تھی۔
حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا مَیں نے چاہا کہ میرے پاس بعض صحابہؓ ہوں۔ ہم نے عرض کیا یا رسول ؐ اللہ! کیا ہم آپؐ کی خدمت میں ابوبکرؓ کو نہ بلالیں؟ آپؐ خاموش رہے۔ پھر ہم نے کہا کہ کیا ہم آپؐ کی خدمت میں عمر ؓ کو نہ بلا لیں؟ آپؐ خاموش رہے۔ پھر ہم نے کہا کہ کیا ہم آپؐ کی خدمت میں عثمان ؓ کو نہ بلالیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ وہ آئے، آپؐ اُن سے تنہائی میں ملے اور نبی ﷺ ان سے گفتگو فرمانے لگے اور عثمان ؓ کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔ قیس کہتے ہیں مجھ سے ابو سہلہ جو حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام تھے نے بیان کیا کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے یوم الدار کے موقعہ پر بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک تاکیدی ارشاد فرمایا تھا اور مَیں اس کی طرف جارہا ہوں۔ (راوی) علی بیان کرتے ہیں کہ انہوں (حضرت عثمانؓ) نے فرمایا اَنَا صَابِرٌ عَلَیْہِ میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں۔ (راوی) قیس کہتے ہیں کہ لوگ اس کو یہی دِن سمجھے تھے۔
حضرت علیؓ نے بیان فرمایا کہ مجھے نبی اُمّی ﷺ نے واضح طور پر بتایا کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا۔
حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارونؑ موسیٰؑ سے۔
حضرت براء بن عازبؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج میں آئے جو آپؐ نے کیا تھا۔ آپؐ راستے میں ایک جگہ قیام پذیر ہوئے اور باجماعت نماز کے لئے ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کیا میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ حضور ؐ نے فرمایا کیا میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب نہیں ہوں۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ فرمایا یہ اس کا ولی ہے جس کا میں مولیٰ ہوں۔ اے اللہ! تو اسے دوست رکھ جو اس کو دوست رکھے اور اے اللہ! تو بھی اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔
عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ابو لیلیٰ حضرت علی ؓ کے ساتھ رات کو گفتگو کرتے تھے۔ حضرت علی ؓ گرمی کے کپڑے سردی میں پہن لیا کرتے تھے اور سردی کے گرمی میں۔ ہم نے ان (ابو لیلیٰ) سے کہا اگر آپ اُن (حضرت علیؓ) سے پوچھ لیں۔ آپ (حضرت علی ؓ) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف خیبر کے دن بلا بھیجا اور مجھے آشوب چشم تھا۔ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہونے پر حضرت علی ؓ نے عرض کیا مجھے آشوبِ چشم ہے۔ آپؐ نے میری آنکھ میں اپنا لعابِ دہن لگایا پھر دعا کی اے اللہ! اس سے گرمی اور سردی کو دور کردے۔ اس دن کے بعد میں گرمی اور سردی نہیں پاتا۔ آپؐ نے فرمایا میں غزوۂ خیبر کیلئے ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے بھی اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔ وہ بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس لوگ انتظار کرنے لگے۔ پس آپؐ نے حضرت علی ؓ کو بُلا بھیجا پھر انہیں وہ (جھنڈا) عطا فرمایا۔
حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسنؓ اور حسینؓ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان دونوں کے والد ان دونوں سے بہتر ہیں۔
حضرت حُبشی بن جُنادہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ علی ؓ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میری طرف سے کوئی ادائیگی نہ کرے سوائے علی ؓ کے۔
عباد بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا مَیں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسولؐ کا بھائی ہوں اور مَیں سب سے بڑا راست گو ہوں میرے بعد یہ بات کوئی نہیں کہے گا مگر کذاب ہی۔ مَیں نے لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی۔