بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے بیان کیا کہ جس دن مَیں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی اور نے نہیں کیا۔ مَیں سات دن ٹھہرا رہا اور میں اسلام کا ایک تہائی تھا۔
حضرت سعیدؓ بن زید بن عمرو بن نفیل نے بیان کیا کہ رسول اللہؐ دس افراد کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ابو بکرؓ جنت میں ہیں۔ عمرؓ جنت میں ہیں۔ عثمانؓ جنت میں ہیں۔ علیؓ جنت میں ہیں۔ طلحہؓ جنت میں ہیں۔ زبیرؓ جنت میں ہیں۔ سعدؓ جنت میں ہیں۔ عبد الرحمنؓ جنت میں ہیں۔ ان (سعید بن زیدؓ) سے پوچھا گیا کہ نواں کون ہے؟ کہا مَیں۔
حضرت سعیدؓ بن زید نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بارہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ مَیں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اَے حراء! تو ٹھہرا رہ، تیرے پر نبی یا صدیق یا شہید کے سوا اور کوئی نہیں اور ان کو رسول اللہ ﷺ نے شمار فرمایا ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، سعدؓ، ابن عوف ؓ اور سعیدؓ بن زید۔
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے فرمایا کہ مَیں آپ لوگوں کے ساتھ ایک امین شخص کو جو واقعی امین ہے بھیجوں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگ سر اُٹھا کر دیکھنے لگے۔ آپؐ نے حضرت ابو عبیدہؓ بن جرّاح کو بھجوایا۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کے بارہ میں فرمایا یہ اس امت کا امین ہے۔
حضرت علیؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر مَیں کسی کو بغیر مشورہ کے امیر بناتا تو ابن ام عبدؓ کو بناتا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ دونوں نے ان کو خوشخبری سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو پسند ہو کہ وہ قرآن تروتازہ جیسا نازل ہوا ہے ویسا ہی پڑھے تو اسے چاہئے کہ ابن اُمّ عبد کے پڑھنے کی طرح پڑھے۔
حضرت عبد اللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تمہارے لئے میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ پردہ اُٹھاؤ اور تم میری آہستہ آواز سنو سوائے اس کے کہ مَیں تمہیں منع کردوں۔
حضرت عباس بن عبد المطلبؓ نے بیان کیا کہ ہم قریش میں سے لوگوں سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے ، تو وہ اپنی باتیں بند کر دیتے، ہم نے اس کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوا ہے، جو باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی شخص کو دیکھتے ہیں تو اپنی باتیں بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اللہ کی خاطر اور میری ان سے قرابت کی وجہ سے ان سے محبت نہ کرے۔