بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 266 hadith
حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے اپنا خلیل بنایا ہے جس طرح ابراہیمؑ کو خلیل بنایا۔ میرا گھر اور ابراہیمؑ کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہوں گے اور عباسؓ ہمارے درمیان ایک مومن (اللہ کے) دو خلیلوں کے درمیان۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حسنؓ کے لئے دعا کی اَے اللہ ! مَیں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے اور آپؐ نے ان (حسنؓ) کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے حسن ؓ اور حسین ؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
حضرت یعلی بن مرہ ؓ نے بیان کیا کہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک کھانے کی دعوت کے لئے چلے جس کیلئے انہیں بلایا گیا تھا۔ تو حسینؓ گلی میں کھیل رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں نبی ﷺ لوگوں سے آگے بڑھے اور اپنے ہاتھ پھیلائے اور لڑکا (یعنی حسینؓ) ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ نبی ﷺ اس کے ساتھ ہنسنے کھیلنے لگے یہاں تک کہ آپؐ نے اسے پکڑ لیا اور ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا اس کے سر کے اوپر اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسینؓ بھی اسباط میں سے ہے۔
حضرت زید بن ارقمؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ حضرت فاطمہؓ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا میری اس سے صلح ہے جس سے تم صلح کرو اور جنگ ہے جس سے تم جنگ کرو۔
حضرت علیؓ بن ابی طالب نے بیان کیا کہ مَیں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور عمار بن یاسرؓ نے اجازت چاہی۔ نبی ﷺ نے فرمایا اُسے اجازت دو ، خوش آمدید اس طاہر مطہر کو۔
ہانی بن ہانی نے بیان کیا کہ حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کے پاس آئے تو حضرت علیؓ نے فرمایا خوش آمدید طاہر مطہر کو۔ مَیں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عمارؓ کا رُواں رُواں ایمان سے بھرا ہوا ہے۔
حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کبھی عمارؓ کے سامنے دو باتوں کو پیش کیا گیا تو انہوں نے ان دونوں میں سے زیادہ رُشد والی کو اختیار کیا۔
ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے چار سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے بتایا ہے کہ وہ (بھی) ان سے محبت کرتا ہے۔ سوال کیا گیا یا رسولؐ اللہ! وہ کون ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا علیؓ ان میں سے ہیں۔ آپؐ نے یہ تین بار فرمایا اور ابوذرؓ، سلمانؓ اور مقدادؓ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے بیان کیا کہ سب سے پہلے جنہوں نے اپنے اسلام کا اعلان فرمایا وہ سات ہیں : رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ اور عمّارؓ اور ان کی والدہ سمیہؓ اور، صہیب ؓ اور بلالؓ اور مقدادؓ۔ پس رسول اللہ ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ محفوظ رکھا اور ابو بکرؓ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعہ محفوظ رکھا۔ باقیوں کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور لوہے کی زرہیں پہنائیں اور انہیں دھوپ میں جلاتے تھے۔ پس ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جس نے ان کے ساتھ جس بات میں وہ چاہتے تھے موافقت نہ کر لی ہو سوائے بلالؓ کے کیونکہ ان پر اپنا نفس اللہ کی خاطر بے حیثیت ہو گیا تھا اور وہ اپنی قوم کے لئے بھی بے حیثیت تھے۔ وہ ان کو پکڑتے اور لڑکوں کے سپرد کر دیتے اور وہ انہیں مکہ کی گھاٹیوں میں گھماتے پھرتے اور بلالؓ اَحَد، اَحَد کہتے جاتے۔