بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 400 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمین میرے لئے مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ہار حضرت اسماءؓ سے عاریۃً لیا اور وہ گم ہوگیا۔ نبی ﷺ نے کچھ لوگوں کو اسے تلاش کرنے کے لئے بھیجا اور نماز کا وقت ہو گیا اور انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے آپؐ کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اس پر حضرت اسید بن حضیر ؓ نے کہا اللہ تعالیٰ آپؓ (حضرت عائشہ ؓ) کو بہترین جزاء دے۔ اللہ کی قسم آپؓ پر کبھی کوئی (مشکل) نہیں آئی مگر اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے لئے نکلنے کی راہ بنا دی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔
سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمرؓ بن خطاب کے پاس آیا اور کہا کہ میں جنبی ہوگیا اور پانی نہیں ملا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تو نماز نہ پڑھ۔ حضرت عمارؓ بن یاسر نے کہا اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے اور ہم جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی لیکن میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور نماز پڑھ لی اور جب میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس بات کا ذکر کیا تو حضورؐ نے فرمایا تمہارے لئے تو صرف اتنا ہی کافی تھا۔ اور نبی ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان دونوں پر پھونکا اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کیا۔
حَکم اور سلمہ بن کُہیل نے حضرت عبد اللہ ؓ بن ابی اوفٰی سے تیمم کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے حضرت عمار ؓ کو ارشاد فرمایا تھا کہ اس طرح کرے اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان دونوں کو جھاڑ دیا اور اپنے چہرہ کا مسح کیا۔ (راوی) حَکَم نے کہا اپنے دونوں ہاتھوں پر بھی اور (راوی) سلمہ نے کہا اپنی دونوں کہنیوں پر۔
حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ جب صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیمم کیا تو آپؐ نے مسلمانوں کو حُکم دیا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو مٹی پر مارا اور مٹی میں سے کچھ نہ لیا اور ایک بار اپنے چہروں پر پھیرا۔ پھر دوسری بار اپنے ہاتھوں کو مٹی پر مارا اور اپنے ہاتھوں پر مسح کیا۔
عطاء بن ابی رَباح نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی کے سر میں زخم لگا، پھر اُسے احتلام ہوگیا۔ اسے غسل کرنے کا کہا گیا اور اُس نے غسل کرلیا اور اُسے تشنج ہو گیا اور وہ مر گیا۔ یہ خبر نبی ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے فرمایا لوگوں نے اسے مار دیا۔ اللہ اُن کا بھلا کرے۔ کیا لاعلمی کا علاج یہ نہ تھا کہ پوچھ لیا جائے۔ عطاء نے کہا ہمیں یہ روایت اس طرح پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ اپنا بدن دھو لیتا اور اپنے سر کو چھوڑ دیتا جہاں اسے زخم پہنچا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ اپنی خالہ حضرت میمونہؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کے لئے غسل کا پانی رکھا۔ آپؐ نے غسل جنابت کیا۔ آپؐ نے اپنے بائیں ہاتھ سے برتن کو دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔ پھر اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین سے رگڑا۔ پھر کلی کی اور پانی سے ناک صاف کیا اور اپنا چہرہ تین بار اور اپنے بازو تین بار دھوئے اور پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہایا پھر ایک طرف ہوئے اور اپنے پاؤں دھوئے۔
جمیع بن عمیر تیمی نے کہا کہ میں اپنی پھوپھی اور اپنی خالہ کے ساتھ چلا اور ہم حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے غُسلِ جنابت کے وقت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ آپؐ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے اور پھر اسے برتن میں ڈالتے اور تین دفعہ اپنا سر مبارک دھوتے۔ پھر اپنے جسم پر پانی بہاتے اور نماز کے لئے تشریف لے جاتے اور جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم اپنے سروں کو مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ بار دھویا کرتیں۔
حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے بیان کیا کہ لوگوں نے غسل جنابت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپس میں کچھ اختلاف رائے کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔
عطیہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو سعید ؓ سے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین بار (پانی ڈالنا چاہیے۔) تو اُس آدمی نے کہا میرے بال بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے بال تم سے زیادہ تھے اور آپؐ زیادہ صاف تھے۔