بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے باپ سے مروی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن زمعہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا اور آپؐ نے اس شخص کا ذکر کیا جس نے (صالحؑ کی) اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ فرمایا: اونٹنی سے تعرض کرنے کا کام ایک شخص نے جو اپنی قوم میں معزز و مقتدر تھا اپنے ذمہ لیا، جیسے ابوزمعہ (قریش میں ہے۔)
محمد بن مسکین ابوالحسن نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن حسان بن حیان ابوزکریا نے ہمیں بتایا۔ (کہا:) سلیمان (بن بلال) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن دینار سے مروی ہے۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غزوئہ تبوک کے دوران حجر میں قیام فرمایا (تو آپؐ نے نمازِ عصر پڑھی۔) آپؐ نے انہیں فرمایا کہ یہاں کے کنوئیں سے نہ پئیں اور نہ کسی اور غرض کے لئے اس سے پانی لیں۔ صحابہؓ نے کہا: ہم تو اس سے پانی لے کر آٹے گوندھ چکے ہیں اور پانی لیا اور پلایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ گوندھا آٹا پھینک دیں اور پانی انڈیل دیں۔ اور سبرہ بن معبد اور ابوشموس سے مروی ہے کہ آپؐ نے کھانا پھینکنے کا ارشاد فرمایا۔ اور حضرت ابوذرؓ نے نبی ﷺ سے یہ الفاظ روایت کئے ہیں: جس نے اس کے پانی سے آٹا گوندھ لیا ہو، وہ آٹا پھینک دے۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثمود کے علاقہ حجر میں اترے اور انہوں نے وہاں کے کنوئیں سے پانی لیا اور اس سے آٹے گوندھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ انہوں نے کنوئوں سے جو پانی لیا ہے وہ انڈیل دیں اور اونٹوں کو گوندھا آٹا کھلا دیں اور پانی اس کنوئیں سے لیں جہاں (حضرت صالحؑ کی) اونٹنی پانی پینے کے لئے آیا کرتی تھی۔ عبیداللہ کی طرح اسامہ (بن زید لیثی) نے بھی نافع سے یہی روایت بیان کی ہے۔
محمد (بن مقاتل) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے زُہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمر) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ جب نبی ﷺ حجر سے گزرے تو آپؐ نے فرمایا کہ ان لوگوں کی بستیوں میں داخل نہ ہو جو ظالم تھے۔ بجز اس کے کہ تم گریہ و زاری کی حالت میں ہو۔ مبادا تمہیں وہ مصیبت پہنچے جو انہیں پہنچی۔ (یہ کہہ کر) آپؐ نے اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیا اور آپؐ اس وقت اونٹ پر سوار تھے۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ وہب (مسندی) نے ہمیں بتایا (کہا:) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میں نے یونس سے سنا۔ انہوں نے زُہری سے، زُہری نے سالم سے روایت کی کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کی بستیوں میں نہ داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، بجز اس حالت میں کہ گریہ میں ہو۔ کہیں تمہیں بھی وہی مصیبت نہ پہنچے جو اُن کو پہنچی تھی۔
(تشریح)اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں خبر دی۔ عبدالرحمن بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (عبداللہ بن دینار) سے، انہوں نے (حضرت عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: شریف، شریف کے بیٹے، شریف کے پوتے، شریف کے پڑپوتے حضرت یوسف ہیں۔ جو ابن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔
(تشریح)عبید بن اسماعیل نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابو اسامہ سے، ابو اسامہ نے عبید اللہ (عمری) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: سعید بن ابی سعید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ فرمایا: ان میں سے وہ جس نے سب سے بڑھ کر تقوی اللہ اختیار کیا۔ لوگوں نے کہا: اس کے متعلق آپؐ سے نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر لوگوں میں سب سے بڑھ کر شریف یوسف ہیں جو اللہ کے نبی، نبی اللہ کے بیٹے، نبی اللہ کے پوتے اور خلیل اللہ (حبیب خدا) کے پڑپوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اس کے متعلق بھی ہم آپؐ سے نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا پھر تم مجھ سے عربوں کے خاندانوں کی نسبت پوچھتے ہو؟ لوگ بھی کانیں ہیں۔ ان میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں، بشرطیکہ دین سیکھیں اور سمجھیں۔ محمد بن سلام (بیکندی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے سعید (مقبری) سے، سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے یہی روایت نقل کی۔
بدل بن محبر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر سے سنا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: وہ تو بہت ہی نرم دل آدمی ہیں۔ جونہی آپؐ کی جگہ کھڑے ہوں گے، ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔ آپؐ نے پھر فرمایا اور حضرت عائشہؓ نے وہی کہا۔ شعبہ نے کہا: آپؐ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: تم تو یوسف کی ساتھ والیاں ہو۔ ابوبکر سے کہو (کہ نماز پڑھائیں۔)
ربیع بن یحيٰ بصری نے ہم سے بیان کیا کہ زائدہ (بن قدامہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے، ابوبردہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ بیمار ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: ابوبکر تو ایسے ایسے آدمی ہیں۔ (یعنی نرم دل) آپؐ نے پھر وہی فرمایا۔ حضرت عائشہؓ نے بھی اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں۔ تم تو یوسف کی ساتھ والیاں ہو۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں امامت کی۔ حسین (بن علی جعفی) نے زائدہ سے یہ الفاظ نقل کئے (کہ حضرت ابوبکرؓ) نرم دل آدمی ہیں۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے۔ اے اللہ! مضر قبیلہ کو سختی سے کچل۔ اے اللہ! ان کے سال یوسف کے سالوں جیسے کیجیئو۔