بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے عبید بن حنین سے، عبید نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: انصار میں سے ایک شخص تھا، جب وہ رسول اللہ ﷺ سے غیر حاضر ہوتا تو میں آپؐ کے پاس حاضر ہوتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حکم بھی ہوتا وہ میں اُس کے پاس لے آتا اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتا تو وہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم ہوتا میرے پاس لے آتا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) حضرت سلمہ بن اکوَعؓ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے زبید سے، زبید نے سعد بن عبیدہ سے، سعد نے ابوعبدالرحمٰن سے، ابوعبدالرحمٰن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور ایک شخص کو ان لوگوں پر امیر مقرر کیا۔ اس نے آگ جلائی اور کہا: اس میں داخل ہو۔ بعض نے ارادہ کیا کہ اس میں داخل ہو جائیں اور دوسروں نے کہا: ہم اس آگ سے ہی تو بھاگے تھے۔ پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: جنہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا اگر وہ اس میں داخل ہوتے تو وہ اس میں قیامت کے دن تک رہتے اور دوسرے گروہ سے فرمایا: معصیت میں اطاعت نہیں، اطاعت تو معروف میں ہوتی ہے۔
زُہیر بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میرےباپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ دونوں نے ان کو خبر دی کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔
زُہیر بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) میرےباپ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے صالح (بن کیسان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت زید بن خالدؓ دونوں نے ان کو خبر دی کہ دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ بدوؤں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! کتاب اللہ کے موافق میرا فیصلہ کر دیں۔ (یہ سن کر) اس کا مخالف کھڑا ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! اس نے سچ کہا ہے، کتاب اللہ کے موافق ہی اس کا فیصلہ فرمادیں اور مجھے اجازت دیں۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: بیان کرو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا اور ملازم نوکر کو کہتے ہیں، تو اس نے اس کی عورت سے زنا کیا، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سنگسار کیا جائے گا، میں نے ایک سو بکری اور ایک لونڈی فدیہ دے کر اس کو اس سے چھڑایا پھر اس کے بعد میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا اور میرے بیٹے کو تو صرف سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جاوے گا۔ آپؐ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کروں گا۔ وہ لونڈی اور بکریاں تو واپس کردو اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے جلاوطن کیا جائے اور اسلم قبیلہ کے ایک شخص کا نام لے کر فرمایا: اُنیس! تم کل صبح اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ اقرار کرے تو اس کو سنگسار کر دو۔ چنانچہ اُنیس صبح اُس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کیا جس پر انہوں نے اس کو سنگسار کیا۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابن منکدر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ کہتے تھے: خندق کی جنگ میں نبی ﷺ نے (کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے) لوگوں کو پکارا تو حضرت زبیرؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا، پھر آپؐ نے ان کو پکارا اور حضرت زبیرؓنے اپنے آپ کو پیش کیا، پھر آپؐ نے ان کو پکارا اور حضرت زبیرؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ آپؐ نے فرمایا: ہر ایک نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔ سفیان نے کہا: میں نے اس کو ابن منکدر سے یاد رکھا اور ایوب نے ابن منکدر سے کہا: ابوبکر! تم ان لوگوں سے حضرت جابرؓ کی حدیثیں بیان کیا کرو کیونکہ ان لوگوں کو یہ پسند ہے کہ تم حضرت جابرؓ کی حدیثیں ان کو بتاؤ تو ابن منکدر نے اسی مجلس میں یہ کہا: میں نے حضرت جابرؓ سے سنا اور چند حدیثوں کے بیان کرتے وقت پے در پے یہ کہا کہ میں نے حضرت جابرؓ سے سنا۔ (علی بن مدینی کہتے تھے:) میں نے سفیان (بن عیینہ) سے کہا کہ ثوری کہتے ہیں قریظہ کی جنگ میں فرمایا۔ تو سفیان نے کہا: مجھے تو جنگ خندق ایسے ہی یاد ہے جیسا کہ یہ بات کہ تم بیٹھے ہوئے ہو۔ سفیان نے کہا کہ جنگ خندق اور قریظہ ایک ہی جنگ ہے اور سفیان مسکرائے۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ا نہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوعثمان (نہدی) سے، ابوعثمان نے حضرت ابوموسیٰ (اشعریؓ) سے روایت کی کہ نبی ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ پر پہرہ دینے کے لئے حکم دیا۔ اتنے میں ایک شخص آیا، اجازت مانگنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور جنت کی ان کو بشارت دو۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ پھر حضرت عمرؓ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور جنت کی ان کو بشارت دو۔ پھر حضرت عثمانؓ آئے۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور جنت کی ان کو بشارت دو۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن سعید انصاری) سے، یحيٰ نے عبید بن حنین سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک بالا خانہ میں ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا ایک حبشی غلام زینے کی چوٹی پر بیٹھا ہے۔ میں نے کہا: کہو کہ عمر بن خطاب آیا ہے، آپؐ نے مجھے اجازت دی۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک خط کسریٰ کو بھیجا اور (حضرت عبداللہ بن حذافہؓ سے) فرمایا کہ یہ خط بحرین کے سردار کو پہنچا دے، بحرین کا سردار کسریٰ کو پہنچا دے۔ جب کسریٰ نے اس خط کو پڑھا تو اس نے اس کو پھاڑ ڈالا، (ابن شہاب نے کہا:) میرا خیال ہے کہ ابن مسیب کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف دعا کی کہ وہ بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔