بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 103 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مسعر اور بعض اَور راویوں سے، مسعر نے قیس بن مسلم سے، قیس نے حضرت طارق بن شہابؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص نے حضرت عمرؓ سے کہا: امیر المؤمنین! اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ…۔ تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی۔ عرفہ کے دن جمعہ کے روز نازل ہوئی۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وُہَیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا اور دعا کی: اے اللہ! اسے کتاب کا علم دے ۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے عبدالملک بن مروان کو اُن سے بیعت کرتے ہوئے یہ لکھا: اور میں آپ سے اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جہاں تک مجھ سے ہوسکا میں آپ كا حکم سنوں گا اور مانوں گا۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ عمرو بن مرہ نے ہمیں خبر دی کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا، وہ کہتے تھے: حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ بہترین کلام تو اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد
یحيٰ بن بُکَیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالکؓ نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عمرؓ سے دوسرے روز سنا جب مسلمانوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی اور حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺکے منبر پر کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے بولنے سے پہلے کلمہ شہادت پڑھا اور کہا: اما بعد اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لئے جو نعمتیں تمہارے پاس ہیں اُن کے مقابل میں وہ نعمتیں پسند کیں جو اُس کے پاس ہیں اور یہ کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ نے تمہارے رسول کی راہنمائی کی اس کے مطابق عمل کرو، تم بھی اسی راہ کو پاؤ گے جس کی اللہ نے اپنے رسول کو راہنمائی کی۔
عبداللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے عوف سے سنا کہ ابوالمنہال نے اُن سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوبرزہؓ سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اسلام کے ذریعہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تمہیں مال دار کر رہا ہے یا کہا: اس نے تمہیں بلند کر دیا ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یہاں يُغْنِيكُمْ کا لفظ ہے۔(یعنی وہ تمہیں مال دار کر رہا ہے۔) حالانکہ یہ نَعَشَكُمْ ہے۔ (یعنی اُس نے تمہیں بلند کردیا ہے۔) جیسا کہ کتاب الاعتصام کے اصل نسخہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جامع باتیں دے کر بھیجا گیا اور رُعب سے میری مدد کی گئی اور اسی اثنا میں کہ میں سویا ہوا ہوں، میں نے اپنے تئیں دیکھا کہ زمین کے خزانوں کی چابیاں مجھے دی گئی ہیں اور میرے ہاتھ میں انہیں رکھ دیا گیا۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور اب تم انہیں کھا رہے ہو یا کہا: انہیں چوس رہے ہو یا اِس سے ملتا جلتا کلمہ کہا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعیدسے، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: نبیوں میں کوئی بھی ایسا نبی نہیں جس کو ایسے نشان نہ دئیے گئے ہوں جنہیں مانا گیا یا (کہا:) جن پر لوگ ایمان لائے اور جو نشان مجھے دیا گیا ہے وہ، وہ وحی ہے جو اللہ نے مجھے کی اور میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے روز میرے متبعین اُن کے متبعین سے زیادہ ہوں گے۔
(تشریح)عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے ہم سے بیان کیا۔ سفیان نے واصل سے، واصل نے ابووائل سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں اس مسجد میں حضرت شیبہؓ کے پاس بیٹھا، وہ کہنے لگے: حضرت عمرؓ میرے پاس اس جگہ بیٹھے تھے جہاں تم بیٹھے ہو اور انہوں نے کہا: میں نے قصد کیا ہے کہ کعبہ میں نہ دینار رہنے دوں اور نہ درہم، اُن سب کو مسلمانوں میں تقسیم کردوں۔ میں نے کہا: آپؓ کیا کرنے لگے ہیں؟ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا: آپؓ کے دونوں ساتھیوں (آنحضورﷺ اور حضرت ابو بکرؓ) نے یہ نہیں کیا۔ تو انہوں نے کہا: وہ دو ایسے وجود ہیں کہ ان کی اقتداء کی جائے گی۔