بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 2 of 22 hadith
علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اور اسحاق (بن راہویہ) نے مجھ سے بیان کیا کہ نضر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ابوجمرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عباسؓ اپنے تخت پر مجھے بٹھایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقیس کے نمائندے جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپؐ نے پوچھا: یہ نمائندے کون ہیں؟ انہوں نے کہا: ربیعہ۔ آپؐ نے فرمایا: خوشی سے آئیں یہ نمائندے اور یہ لوگ کبھی رسوا نہ ہوں اور نہ شرمندہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے کافر ہیں، آپؐ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں جس کے ذریعہ سے ہم جنت میں داخل ہوں اور ہم ان لوگوں کو بھی بتائیں جو ہمارے پیچھے ہیں اور انہوں نے شرابوں کے متعلق پوچھا تو آپؐ نے چار باتوں سے انہیں منع فرمایا اور چار باتوں کا انہیں حکم دیا۔ آپؐ نے ان کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: یہ شہادت دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کا رسول ہے اور نماز کو سنوار کر ادا کرنا اور زکوٰة دینا اور میں سمجھتا ہوں اس حدیث میں رمضان کے روزے بھی ہیں اور یہ کہ تم غنیمتوں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور آپؐ نے ان کو کدو کے تونبے اور سبز لاکھی برتن اور رال کے برتن اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن سے منع فرمایا۔ کبھی راوی نے بجائے النَّقِیْر کے الْمُقَيَّرِ کہا۔ آپؐ نے فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور جو تمہارے پیچھے ہیں اُن کو یہ پہنچا دو۔
(تشریح)محمد بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے تو بہ عنبری سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: شعبی نے مجھ سے کہا: کیا تم نے دیکھا کہ حسن (بصری) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں بیان کی ہیں اور میں حضرت ابن عمرؓ کے پاس تقریباً ڈیڑھ یا دو برس بیٹھا ہوں، میں نے انہیں نہیں سنا کہ وہ نبی ﷺ سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے جن میں حضرت سعدؓ بھی موجود تھے۔ وہ ایک گوشت کھانے ہی لگے تھے کہ اتنے میں نبی ﷺ کی ازواج میں سے کسی نے پکار کر کہا کہ یہ گوہ (سوسمار) کا گوشت ہے۔ (یہ سن کر) وہ رُک گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ کیونکہ وہ حلال ہے یا فرمایا: اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ راوی نے اس میں شک کیا (کہ کون سا لفظ فرمایا) مگر یہ کہ وہ میری خوراک نہیں۔