بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 22 hadith
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کی کہ مالک بن حویرث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی ﷺ کے پاس آئے اور ہم تقریباً ایک ہی عمر کے جوان تھے۔ ہم آپؐ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور رسول اللہ ﷺ بہت ہی نرم دل تھے۔ جب آپؐ یہ سمجھے کہ ہم اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ راوی نے قَدِ اشْتَهَيْنَا کہا یا قَدِ اشْتَقْنَا تو آپؐ نے ہم سے پوچھا کہ ہم اپنے پیچھے کن کو چھوڑ آئے ہیں؟ ہم نے آپؐ کو بتایا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ ان میں رہو اور انہیں احکام سکھاؤ اور ان پر عمل کرنے کے لئے ان سے کہو۔ (ابوقلابہ کہتے تھے: مالک بن حویرث نے) کئی باتیں بیان کیں، کچھ یاد ہیں اور کچھ یاد نہیں (اور آپؐ نے فرمایا:) تم ویسے ہی نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا۔ جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے يحيٰ (بن قطان) سے، يحيٰ نے (سلیمان) تیمی سے، تیمی نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: بلالؓ کی اذان تم میں سے کسی کو اپنی سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ رات کو اذان دیتا ہے یا فرمایا: منادی کرتا ہے تا جو تم میں سے کھڑا نماز پڑھ رہا ہے وہ لوٹ جائے اور اپنے سوئے ہوئے کو جگا دے اور فجر وہ نہیں (جو اس طرح کی نیم روشنی ہو) اور يحيٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر بتایا کہ جب تک اس طرح سے روشنی نہ ہو جائے اور يحيٰ نے اپنی شہادت کی انگلیوں کو پھیلایا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: بلال رات کو اذان دیتا ہے۔ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن اُمّ مکتوم اذان دے۔
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حکم سے، حکم نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھائیں تو (آپؐ سے) پوچھا گیا: کیا نماز بڑھا دی گئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: آپؐ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ تو آپؐ نے سلام کے بعد دو سجدے کئے۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتیں ہی پڑھ کر فارغ ہوگئے تو ذوالیدین نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپؐ بھول گئے ہیں؟ آپؐ نے پوچھا: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور آپؐ نے دو اَور رکعتیں پڑھائیں۔ پھر سلام پھیرا۔ پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا جیسے آپؐ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے کچھ لمبا۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا۔ پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا۔ اتنا ہی جتنا آپؐ سجدہ کیا کرتے تھے۔ پھر آپؐ نے سر اُٹھایا۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔ مالک نے مجھے بتایا۔ مالک نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک بار جبکہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ کوئی آنے والا ان کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آج رات رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپؐ کعبہ کی طرف منہ کریں اس لئے تم بھی اس طرف منہ کر لو اور اس وقت ان کے منہ شام کی طرف تھے تو وہ گھوم کر کعبہ کی طرف ہو گئے۔
یحيٰ (بلخی) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے حضرت براءؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپؐ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور آپؐ یہ پسند کرتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) نازل کی: ہم خوب دیکھ رہے ہیں جو تمہاری توجہ آسمان کی طرف بار بار لوٹ رہی ہے اور ہم ضرور وہی قبلہ تمہارے سپرد کریں گے جس کو تم پسند کرتے ہو۔ غرض آپؐ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کے لئے حکم دیا گیا اور ایک شخص نے عصر کی نماز آپؐ کے ساتھ پڑھی پھر وہ نکل کر چلا گیا اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا کہ وہ شہادت دیتا ہے کہ اس نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور یہ کہ آپؐ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (یہ سن کر) وہ پھر گئے اور وہ عصر کی نماز میں رکوع میں تھے۔
یحيٰ بن قزعہ نے مجھ سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں ابوطلحہ انصاریؓ، ابوعبیدہ بن الجراحؓ اور اُبیّ بن کعبؓ کو فضیخ شراب پلا رہا تھا اور وہ کھجور کی ہوتی ہے۔ اتنے میں ان کے پاس ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا: شراب تو حرام کر دی گئی ہے۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کہا: انس! اُٹھو، ان مٹکوں کی طرف آؤ اور انہیں توڑ ڈالو۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں اُٹھا اور اپنے ہاون دستے کی طرف گیا اور اس کو نیچے کی طرف سے ان مٹکوں کو مارتا گیا یہاں تک کہ وہ سب ٹوٹ گئے۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے صلہ (بن زفر) سے، صلہ نے حضرت حذیفہؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اہل نجران سے فرمایا: میں تمہارے پاس ایک امین شخص جو حقیقی امین ہوگا، کو ہی بھیجوں گا۔ یہ سن کر نبی ﷺ کے صحابہ گردن اُٹھا کر دیکھنے لگے اور آپؐ نے حضرت ابوعبیدہؓ کو بھیجا۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (بن مہران) سے، خالد نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس اُمت کا امین ابوعبیدہ ہے۔