بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ انہوں نے حضرت انسؓ بن مالک سے،حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: سجدہ میں اعتدال سے کا م لواور تم میں سے کوئی اپنی باہیں اس طرح نہ پھیلاوے جس طرح کتّاپھیلاتاہے۔
(تشریح)محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشیم نے ہمیں بتایا، کہا: خالد حذاء نے ہم سے بیان کیا۔ ابوقلابہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت مالکؓ بن حویرث لیثی نے ہمیں بتایاکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔ جب آپ ؐ نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو آپؐ نہ اٹھتے جب تک کہ سیدھے ہوکر نہ بیٹھ جاتے۔
یحيٰ بن صالح نے ہم سے بیان کیا، کہا: فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن حارث سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت ابوسعیدؓ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے جس وقت سجدہ سے سر اٹھایا، بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور پھر اس وقت بھی جب (دوسرا) سجدہ کیا اور پھر جب سجدہ سے سر اٹھایا اور اس وقت بھی جب وہ دورکعتیں پڑھ کر اٹھے اور انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی (کرتے ) دیکھاتھا۔
قتیبہ بن سعیدنے ہم سے بیان کیا، کہا: بکر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، جعفر نے اعرج سے، اعرج نے حضرت عبداللہؓ بن مالک بن بحینہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ہمیں پڑھائی اور آپؐ کھڑے ہوگئے جبکہ آپؐ کو بیٹھنا تھا۔ جب آپؐ نماز پڑھ چکے تو آپؐ نے اسی حالت میں کہ بیٹھے تھے؛ دو سجدے کئے۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا، کہا: وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہمارے پاس حضرت مالکؓ بن حویرث آئے اور انہوں نے ہماری اس مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی اور کہا: میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں اور میرا ارادہ نماز کا نہیں۔ بلکہ میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ۔ایوب کہتے تھے : میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: حضرت مالکؓ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے اس شیخ کی نماز کی طرح تھی۔ اس سے ان کی مرادعمروبن سلمہ تھے۔ ایوب کہتے تھے اور وہ شیخ تکبیریں پوری کہتے تھے اور جب وہ دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے اور زمین پر سہارا لے کر پھر کھڑے ہوتے ۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن زید نے ہم سے بیان کیا، کہا: غیلان بن جریر نے ہمیں بتایا کہ مطرف سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اور حضرت عمرانؓ( بن حصین) نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے جب سجدہ کیا تو اللہ اکبر کہا اور جب سجدے سے سر اُٹھایا تو پھر اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اُٹھے تب بھی اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا: جب انہوں نے سلام پھیرا توحضرت عمرانؓ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: انہوں نے تو ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھائی ہے یا کہا: انہوں نے تو مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلادی ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالرحمن بن قاسم سے، عبدالرحمن نے عبداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے (اپنے بیٹے ) سے ذکر کیا کہ وہ (اپنے باپ) حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کو دیکھتے تھے کہ نماز میں جب وہ بیٹھتے تو چار زانو ہوکر بیٹھتے۔ چنانچہ میں بھی اسی طرح بیٹھا۔ ان دنوں میں کم سِن تھا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے مجھے روکا اور کہا: نماز میں بیٹھنے کا طریق تو یہی ہے کہ تو اپنا دایاں پائوں کھڑا کرے اور بائیں کوموڑ دے۔ میں نے کہا: آپؓ بھی تو اسی طرح بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: میرے پائوں میرا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد سے، خالد نے سعید سے، سعید نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی۔ (یحيٰ نے کہا:) اور لیث نے یہ بھی ہمیں بتایا کہ یزید بن ابی حبیب اور یزید بن محمد سے مروی ہے کہ ان دونوں نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا تو حضرت ابوحمیدؓ ساعدی نے کہا: میں تم سب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو زیادہ اچھی طرح یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے آپؐ کو دیکھا کہ جب آپؐ اَللّٰہُ اَکْبَر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر لاتے اور جب آپؐ رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر مضبوطی سے رکھتے۔ پھر اپنی پیٹھ جھکادیتے اور جب سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے۔ یہاں تک کہ آپ ؐکی ریڑھ کی ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی اور جب آپ ؐ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو نیچے رکھتے نہ انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سکیڑ کر پہلو سے لگاتے اور اپنے پائوں کی انگلیوں کی نوکیں قبلہ کی طرف رکھتے جب آپؐ دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھتے تو اپنے بائیں پائوں پر بیٹھتے اور دایاں پائوں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھتے تو بایاں پائوں آگے کرتے اور دوسرے کو کھڑا رکھتے اور سرین کے بل بیٹھتے ۔ اور یہ حدیث لیث نے یزید بن ابی حبیب سے سنی۔ اور یزید نے محمدبن حلحلہ سے اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء سے اور ابوصالح نے لیث سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: کُلُّ فَقَارٍ یعنی ریڑھ کی ہڈی( اپنی جگہ پر آجاتی ہے)اور ابن مبارک نے یحيٰ بن ایوب سے یوں نقل کیا ہے: یزیدبن ابی حبیب نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن عمرو (بن حلحلہ) نے ان سے یہ الفاظ نقل کئے: کُلُّ فَقَارٍ۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:بنی عبدالمطلب کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمن بن ہرمز نے بیان کیا اور ایک دفعہ کہا: ربیعہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہؓ بن بحینہ نے جو قبیلہ ازدشنوئہ میں سے تھے اور بنی عبدمناف کے حلیف تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، (کہا:) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور آپؐ پہلی دورکعتوں میں کھڑے ہوگئے، بیٹھے نہیں اور لوگ بھی آپؐ کے ساتھ کھڑے ہوگئے جب آپؐ نماز پڑھ چکے اور لوگ انتظار کرتے تھے کہ آپؐ سلام پھیریں گے تو آپؐ نے اسی حالت میں کہ آپؐ بیٹھے ہوئے تھے، اَللّٰہُ اَکْبَرکہا اور سلام سے پہلے دو سجدے کئے۔ پھر آپؐ نے سلام پھیرا۔
(تشریح)ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: اعمش نے ہمیں بتایا۔ شقیق بن سلمہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: ہم جب نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو یہ کہتے: جبریل اور میکائیل پر سلامتی ہو فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی تو سلام ہے۔ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو چاہیے کہ یوں دعا کرے یعنی زبان سے متعلقہ تمام عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں بھی (اللہ ہی کے لیے ہیں) اے نبی تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ کیونکہ جب تم یہ کہو گے تو آسمان اور زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے کو دعا پہنچے گی۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ یعنی میں گواھی دیتا ہوں ( یا علی الصدق اقرار کرتا ہوں ) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ا اس کے بندے اوررسول ہیں۔
(تشریح)