بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 274 hadith
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعبہ نے ہمیںبتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے اسود سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہؓ بن مسعود کہتے تھے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے (خواہ مخواہ) یہ خیال کرے کہ اس کے لئے ضروری ہے دا ہنی طرف سے ہی مڑ کر بیٹھے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دفعہ دیکھا کہ آپؐ بائیں طرف سے بھی مڑتے۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا،کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر میں فرمایا: جس نے اس پودے سے کھایا، یعنی لہسن سے ، وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
ابومعمر نے ہم سے بیان کیا،کہا: عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ عبدالعزیز سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت انسؓ (بن مالک) سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جو اس پودے سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یا ہمارے ساتھ نمازنہ پڑھے۔
علی بن عبداللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان(بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: صفوان بن سُلیم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے، حضرت ابوسعید ؓنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جمعہ کے روز ہر جوان آدمی پر نہانا واجب ہے۔
عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعاصم (بن ضحاک) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ کہا: عطاء نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے سے کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔ میں نے حضرت جابرؓ سے پوچھا: اس سے آپؐ کی کیا مراد تھی؟ انہوں نے جواب دیا: میرا تو یہی خیال ہے کہ اس سے آپؐ کی مراد کچا لہسن تھا اور مخلد بن یزید نے ابن جریج سے روایت کرتے ہوئے کہا: اس کی بدبو مراد تھی۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید) سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء کا خیال ہے کہ حضرت جابرؓ بن عبداللہ کاخیال ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا: ہماری مسجد سے الگ رہے اور چاہیے کہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور نبی ﷺ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی جس میں ہری ترکاریاں تھیں۔ آپؐ نے اس میں بوپائی اور دریافت کیا۔ آپؐ کوجوجواس میں ترکاریاں تھیں بتائی گئیں۔ آپؐ نے فرمایا: فلاں صحابی کے پاس لے جائو جو آپؐ کے ساتھ تھا۔ جب آپؐ نے اسے دیکھا کہ اس نے بھی کھانا ناپسند کیا ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ تم کھائو، میں تو اس سے مناجات کرتا ہوں جس سے تم مناجات نہیں کرتے۔ اور احمد بن صالح نے ابن وہب سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: اُتِیَ بِبَدْرٍ ( بجائے اُْتِیَ بِقِدْرٍ) ابن وہب نے کہا: یعنی تھالی جس میں ہری ترکاریاں تھیں اور لیث اور ابوصفوان نے یونس سے ہانڈی کا واقعہ نہیں بیان کیا۔ ( امام بخاریؒ کہتے ہیں:) اس لئے میں نہیں جانتا کہ یہ زہری کا قول ہے یا حدیث میں ہی ایسا آیا ہے۔
(محمد) بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے غندر( محمد بن جعفر) نے بیان کیا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے سلیمان شیبانی سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے شعبی سے سنا۔ انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ اکیلی قبر کے پاس سے گذرا تھا۔ آپؐ لوگوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور لوگوں نے قبر کے سامنے صف باندھی۔ میں نے (شعبی سے) پوچھا: اے ابو عمرو! آپؒ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت ابن عباسؓ نے۔
علی بن عبداللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ عمرو(بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ کہا: میںاپنی خالہ حضرت میمونہؓ کے پاس ایک رات سویا۔ نبی ﷺ سوگئے۔٭ جب رات کا ایک حصہ گذر گیا تو رسول اللہ ﷺ اُٹھے اور ایک پرانے مشکیزہ سے جولٹک رہا تھا ہلکا سا وضو کیا۔ عمرو بن دینار اسے بہت ہی ہلکا بتاتے تھے۔ پھر آپؐ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ میں بھی اٹھا اور آپؐ ہی کی طرح (ہلکا سا) وضو کیا۔ پھر آکر آپؐ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپؐ نے مجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اپنے دائیں طرف کرلیا۔ پھر آپؐ نے جتنی اللہ نے چاہا نماز پڑھی۔ اس کے بعد آپؐ لیٹ گئے اور سو گئے ۔ یہاں تک کہ آپؐ نے گہرا سانس لیا۔ پھر مؤذن آپؐ کو نماز کی اطلا ع دینے کے لئے آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ اٹھے اور اس کے ساتھ نماز کے لئے گئے اور نماز پڑھائی اور آپؐ نے وضو نہیں کیا۔ (سفیان کہتے ہیں) ہم نے عمرو (بن دینار) سے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں اور آپؐ کا دل نہیں سوتا تھا۔ عمرو(بن دینار) نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو کہتے سنا ہے کہ انبیاء کی رؤیا وحی ہوتی ہے ( اور یہ کہہ کر ) عبید نے یہ آیت پڑھی: }یقینا میں سوتے میں دیکھا کرتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں۔{
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحق نے حضرت انسؓ بن مالک سے روایت کی کہ اسحاق کی دادی حضرت مُلیکہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے (آپؐ کے لئے) تیار کررکھا تھا۔ آپؐ نے اس سے کھایا اور فرمایا: کھڑے ہو جائیے تاکہ میں تمہیں نماز پڑھائوں۔ میں نے اٹھ کر اپنی ایک چٹائی لی جو مدت تک استعمال میں رہنے سے سیاہ ہوگئی تھی۔ پانی سے میں نے اسےدھو ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور ایک یتیم لڑکا (ضمیرہ بن سعد) بھی (میرے ساتھ تھا) اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھیں۔ آپؐ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔
عبداللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں ایک گدھی پر سوار ہوکر آیا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا اور ( اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو منیٰ میں نمازپڑھا رہے تھے۔ آپؐ کے سامنے کوئی دیوار نہ تھی۔ میں صف کے ایک حصے کے سامنے سے گذر گیا پھر نیچے اتر آیا اور گدھی کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور صف میں شریک ہوگیا اور کسی نے بھی میری بات بری نہیں مانی۔