بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 9 of 89 hadith
یحيٰ بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یحيٰ بن سعید سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے قاسم بن محمد سے سنا ۔اُنہوں نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرا سر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہوا اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا اور تمہارے لئے دعا کروں گا۔ حضرت عائشہؓ نے کہا۔ ہائے مصیبت اللہ کی قسم میں تو سمجھتی ہوں کہ آپؐ میری موت کی خواہش کرتے ہیں اگر ایسا ہوا تو اسی دن شام کو اپنی کسی بیوی کے ساتھ شادی منانے لگ جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ ہائے میرا سر ۔ میں نے یہ قصد کیا ہی تھا یا فرمایا: میں نے یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ ابوبکرؓ اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور وصیت کردوں اس خیال سے کہ باتیں کرنے والے باتیں نہ کریں یا آرزو کرنے والے آرزو نہ کریں۔ پھر میں نے سوچا: اللہ ایسا نہیں ہونے دے گا اور مؤمن بھی اس بات کو ردّ کردیں گے۔ یا فرمایا: اللہ رد کردے گا اور مؤمن نہیں مانیں گے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان( ثوری) سے روایت کی کہ قیس بن مسلم نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے طارق بن شہاب سے، طارق نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے بُزاخہ کے نمائندوں سے کہا: تم اونٹوں کی دُموں کے پیچھے پیچھے رہو۔ یہاں تک کہ اللہ اپنے نبی
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے عبدالملک سے روایت کی کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓسے سنا وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بارہ امیر ہوں گے۔ پھر آپؐ نے ایک بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی تو میرے باپ نے کہا آپؐ نے فرمایا: وہ سبھی قریش سے ہوں گے۔
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے عبدالملک سے روایت کی کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓسے سنا وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بارہ امیر ہوں گے۔ پھر آپؐ نے ایک بات فرمائی جو میں نے نہیں سنی تو میرے باپ نے کہا آپؐ نے فرمایا: وہ سبھی قریش سے ہوں گے۔
محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان( ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا حضرت عمر ؓسے کہا گیا۔ آپؐ خلیفہ نہیں مقرر کردیتے؟ اُنہوں نے کہا: اگر میں خلیفہ مقرر کرجاؤں تو وہ شخص جو مجھ سے بہتر ہے اس نے بھی خلیفہ مقرر کردیا تھا یعنی حضرت ابوبکرؓ نے؟ اور اگر میں رہنے دوں تو اس نے بھی رہنے دیا تھا جو مجھ سے بہتر ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ یہ سن کر وہ لوگ تعریف کرنے لگے۔ حضرت عمر ؓنے فرمایا: اُمید بھی رکھتا ہوں اور ڈرتا بھی ہوں۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کاش میں اس محاسبہ سے نجات پا کر نکلوں۔ برابر برابر ہو نہ مجھے ثواب ملے اور نہ مجھ پر وبال ہو میں تو اس حساب کو زندگی میں بھی اور مر کر بھی برداشت نہیں کرتا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام )بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے معمر سے، معمر نے زہری سےروایت کی کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عمر ؓ کا دوسرا خطبہ سنا جب وہ منبر پر بیٹھے تھے اور یہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سے دوسرے دن اُنہوں نے تشہد پڑھا اور حضرت ابوبکرؓ خاموش رہے بولے نہیں۔ حضرت عمر ؓنے کہا کہ میں اُمید کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہیں گےاور وہ ہمارے بعد جائیں گے۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپؐ سب سے آخر فوت ہوں گے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان ایک نور رکھا ہے جس کے ذریعہ سے تم راہ راست پر چلتے رہو گے۔ جس کے ذریعہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی کی اورحضرت ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ثانی اثنین ہیں کیونکہ وہی مسلمانوں میں سے تمہارے معاملات کے سر پرست ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔ اُٹھو اُن سے بیعت کرو اور اُنہی میں سے ایک گروہ اس سے پہلے بنو ساعدہ کے منڈوے میں آپؓ کی بیعت کرچکا تھا اور لوگوں کی عمومی بیعت منبرپر ہوئی۔ زہری نے حضرت انس بن مالکؓ سے نقل کیا کہ میں نے اس دن حضرت عمر ؓ کو حضرت ابوبکرؓ سے یہ کہتے سنا منبر پر چڑھیں اور وہ کہتے چلے گئے جب تک کہ آپؓ منبر پر نہیں چڑھے اور تمام لوگوں نے آپؓ سے بیعت کی۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، ابن جبیر نے اپنے باپ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے آپؐ سے کسی بات کے متعلق گفتگو کی۔ آپؐ نے اس سے فرمایا کہ آپؐ کے پاس پھر آئے۔ وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! بھلا بتائیں اگر میں آؤں اور آپؐ کو نہ پاؤں جیسے اس کی مراد موت سے تھی ۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکرؓ کے پاس آؤ۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے ابو زناد سے۔ اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ لکڑیوں کے متعلق حکم دوں کہ اکٹھی کی جائیں۔ پھر نماز کے متعلق کہوں کہ اس کے لئے اذان دی جاوے۔ پھر کسی آدمی سے کہوں کہ لوگوں کے آگے ہوکر نماز پڑھائے ۔ پھر میں پیچھے سے کچھ آدمیوں کی طرف جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت جلا دوں اور اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو یہ معلوم ہو کہ گوشت کی موٹی ہڈی یا دو کُھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرورآئے۔ محمد بن یوسف نے کہا کہ یونس نے کہا محمد بن سلیمان نے بتایا کہ ابوعبداللہ نے کہا کہ مِرْمَاة وہ گوشت ہے جو بکرے کے کُھروں میں ہوتا ہے بروزن مِنْسَاةٍ اور مِيضَاةٍمیم کے نیچے زیر ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت کی کہ عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہا اور حضرت کعبؓ کو جبکہ وہ نابینا ہوگئے تھے اُن کے بیٹوں میں سے یہی ان کو پکڑ کر لے جایاکرتے تھے کہ میں نے حضرت کعب بن مالکؓ سے سنا ۔وہ کہتے تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے۔ اُنہوں نے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہمارے ساتھ کلام کرنے سے روک دیا اور ہم پچاس راتیں اسی حالت میں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہم پر رحم کردیا ہے۔
(تشریح)