بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ بِشر بن سَری نے ہمیں بتایا۔ نافع بن عمر نے ہم سے بیان کیا، نافع نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: حضرت اسماءؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں اپنے حوض پر اُن لوگوں کا انتظار کررہا ہوں گا جو میرے پاس پانی پینے کے لئے آئیں گے۔ اتنے میں کچھ لوگوں کو میرے قریب سے ہی پکڑ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: میری اُمت کے ہیں اور کہا جائے گا: تم نہیں جانتے یہ اُلٹے پاؤں چلے گئے تھے۔ ابن ابی ملیکہ دعا کرتے تھے: اے اللہ ! ہم تو تیری ہی پناہ لیتے ہیں اس سے کہ ہم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹیں یا فتنہ میں مبتلا ہوں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے عبدالوارث سے، عبدالوارث نے جعد سے، جعد نے ابورجاء سے، ابورجاء نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے اپنے حاکم کی کسی بات کو ناپسند کیا تو چاہیئے کہ وہ صبر کرے کیونکہ جو بادشاہ کی اطاعت سے ایک بالشت بھی باہر ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
منجملہ ان اقراروں کے جو آپؐ نے ہم سے لئے یہ تھا کہ آپؐ نے ہم سے یہ بیعت لی کہ ہم خوشی اور ناخوشی، تنگی اور آسائش اور اس حالت میں بھی کہ جب ہماری حق تلفی کی جارہی ہو (احکام کو) سنیں گے اور فرمانبرداری کریں گے اور یہ کہ اہلِ حکومت سے ہم حکومت نہیں چھینیں گے۔ سوائے اس کے کہ تم علانیہ طور پر کفر دیکھو کہ جس کے متعلق اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کھلی کھلی دلیل بھی ہو۔
محمد بن عرعرہ سے ہم نے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالکؓ سے، حضرت انسؓ نے حضرت اُسید بن حضیرؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے فلاں کو عامل مقرر کیا ہے اور مجھے عامل مقرر نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا: عنقریب تم میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے۔ اُس وقت تک کہ مجھ سے ملو تم صبر کرنا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے مغیرہ (بن مقسم) سے، مغیرہ نے ابووائل سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا ۔ تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے جائیں گے جو نہی کہ میں انہیں (پانی) دینے کے لئے جھکوں گا تو اُنہیں میرے سامنے سے کھینچ کر ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے ربّ ! میرے ساتھی ہیں۔ فرمائے گا: تم نہیں جانتے تمہارے بعد اِنہوں نے کیا کچھ بدعات کیں۔
ہم سے یحيٰ بن بکیر نے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحازم سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا جو اُس پر آیا اس نے اس سے پیا اور جس نے اس سے پیا اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوا۔ کچھ لوگ ایسے ہی میرے پاس پینے کے لئے آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھر میرے اور اُن کے درمیان روک ڈال دی جائے گی۔ ابوحازم نے کہا: نعمان بن ابی عیاش نے جبکہ میں یہ حدیث لوگوں سے بیان کر رہا تھا، مجھ سے سنا اور پوچھا۔ کیا اس طرح تم نے حضرت سہلؓ سے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ نعمان نے کہا اور میں حضرت ابوسعید خدریؓ کے متعلق یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اُن سے (یہ حدیث) سنی وہ اس میں اتنا بڑھاتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھ سے تعلق رکھتے ہیں تو کہا جائے گا تم نہیں جانتے تمہارے بعد اُنہوں نے کیا کچھ بدلا۔ میں کہوں گا دور ہو دور ہو وہ شخص جو میرے بعد بدلے۔
(تشریح)ہم سے یحيٰ بن بکیر نے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحازم سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعدؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا جو اُس پر آیا اس نے اس سے پیا اور جس نے اس سے پیا اس کے بعد وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوا۔ کچھ لوگ ایسے ہی میرے پاس پینے کے لئے آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔ پھر میرے اور اُن کے درمیان روک ڈال دی جائے گی۔ ابوحازم نے کہا: نعمان بن ابی عیاش نے جبکہ میں یہ حدیث لوگوں سے بیان کر رہا تھا، مجھ سے سنا اور پوچھا۔ کیا اس طرح تم نے حضرت سہلؓ سے سنا؟ میں نے کہا: ہاں۔ نعمان نے کہا اور میں حضرت ابوسعید خدریؓ کے متعلق یہ شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اُن سے (یہ حدیث) سنی وہ اس میں اتنا بڑھاتے تھے کہ آپؐ نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھ سے تعلق رکھتے ہیں تو کہا جائے گا تم نہیں جانتے تمہارے بعد اُنہوں نے کیا کچھ بدلا۔ میں کہوں گا دور ہو دور ہو وہ شخص جو میرے بعد بدلے۔
(تشریح)ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ زید بن وہب نے ہمیں بتایا کہ میں نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: میرے بعد عنقریب تم ترجیحی سلوک دیکھو گے اور ایسے اُمور دیکھو گے جن کو تم برا مناؤ گے۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر آپؐ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: تم اُن کا حق اُن کو ادا کر دو اور اللہ سے اپنا حق مانگو۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے جعد ابوعثمان سے روایت کی کہ ابورجاء عطاردی نے مجھ سے بیان کیا ۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے ۔ آپؐ نے فرمایا: جو اپنے حاکم سے کوئی ایسی بات دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو چاہیئے کہ وہ اس بات پر صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہوا اور پھر وہ ایسی حالت میں مرگیا تو وہ یقینًا جاہلیت کی موت مرا۔
اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن حارث) سے، عمرو نے بکیر سے، بکیر نے بسر بن سعید سے، بسر نے جنادہ بن ابی اُمیہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم حضرت عبادہ بن صامتؓ کے پاس اندر گئے اور وہ بیمار تھے۔ ہم نے کہا: اللہ آپ کو اچھا کرے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جس کے ذریعہ سے اللہ نے آپ کو فائدہ دیا ہو جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپؐ کی بیعت کی ۔