بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
علی بن ھیثم نے مجھ سے بیان کیا کہ معلی (بن منصور) نے ہمیں بتایا کہ ہشیم(بن بشیر) نے ہم سے بیان کیا کہ حمید نے ہمیں خبر دی، (کہا) کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے پھل بیچنے سے منع فرمایا تاوقتیکہ اس کی پختگی ظاہر ہوجائے اور کھجور کے درخت بیچنے سے منع فرمایا تاوقتیکہ وہ شوخ رنگ ہوجائے۔ (حضرت انسؓ سے) پوچھا گیا کہ شوخ رنگ کا کیا مطلب؟ کہا: سرخ رنگ ہوجائے یا زرد۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ (امام) مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حمید سے، حمیدنے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، تاوقتیکہ وہ شوخ رنگ نہ ہوجائیں۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ شوخ رنگ کیا ہے؟ فرمایا: یہاں تک کہ سرخ رنگ ہوجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھلا یہ تو بتائو کہ اگر اللہ پھل ہی روک دے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس چیز کے بدلے لے گا۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھجور کے ایسے درخت فروخت کئے جن کے پھل پیوند کئے جاچکے ہوں، ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا بجز اِس کے کہ خریدار شرط کرلے۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے (اور مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی اپنے باغ کا پھل بیچے۔ اگر کھجور کے درخت ہوں تو ان کی خام کھجوریں پختہ کھجوروں کے بدلے میں ماپ کر دی جائیں اور اگر وہ انگور کی بیلیں ہیں تو ان کا خام پھل، منقہ کو ماپ کر اس کے عوض بیچا جائے اور اگر کھڑی فصل ہو تو غلّہ کو ماپ کر اس کے عوض میں خریدی جائے اور آنحضرت
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے بھی کھجور کے درخت کے پھل پیوند کئے ہوں؛ پھر وہ کھجور بیخ وبن سمیت بیچ دے تو ایسی کھجوروں کا پھل اس شخص کا ہوگا جس نے پیوند کیا ہو؛بجز اِس کے کہ خریدار (اس کی) شرط کرلے۔
اور لیث نے کہا: یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا شخص پھل خریدے قبل اس کے کہ اس کی صلاحیت کی حالت نمایاں ہو اور پھر اس پر کوئی آفت آجائے تو اس کے نقصان کی ذمہ داری اس کے مالک پر ہے۔ (ابن شہاب زہری نے کہا:) سالم بن عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھل آپس میں نہ بیچا کرو تاوقتیکہ اس کی صلاحیت کی حالت ظاہر نہ ہوجائے اور خشک کھجور کے بدلے میں پھل (جو درخت پر ہے) نہ بیچو۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن سے، عبدالمجید نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا محصل مقرر فرمایا اور وہ آپؐ کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بخدا یا رسول اللہ! ہم اس کا ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع کے بدلے میں اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ ملی جلی اکٹھی کھجوریں درہم کے عوض فروخت کردیا کرو۔ پھر ان درہموں سے عمدہ کھجوریں خریدو۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن سے، عبدالمجید نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا محصل مقرر فرمایا اور وہ آپؐ کے پاس عمدہ قسم کی کھجوریں لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بخدا یا رسول اللہ! ہم اس کا ایک صاع دوسری کھجور کے دو صاع کے بدلے میں اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔ ملی جلی اکٹھی کھجوریں درہم کے عوض فروخت کردیا کرو۔ پھر ان درہموں سے عمدہ کھجوریں خریدو۔
(تشریح)ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: ابراہیم (بن منذر) نے مجھ سے کہا: ہشام (بن سلیمان) نے ہمیں خبر دی۔ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔ وہ نافع سے جو حضرت ابن عمرؓ کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کرتے ہوئے بتا رہے تھے۔ پیوند شدہ کھجور کا درخت جو بیچا جائے اور پھل کا ذکر نہ کیا جائے تو وہ پھل اس کا ہوگا جس نے اس کو پیوند کیا ہے اور اسی طرح غلام او رکھیت بھی۔ نافع نے (ابن جریج کی روایت میں) ان تینوں (یعنی کھجور کے درخت، غلام اور کھیتی) کا نام لیا تھا۔