بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
بشر بن مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سُلَیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن امیہ سے، اسماعیل نے سعید بن ابی سعید سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین شخص ہیں جن سے قیامت کے روز میں جھگڑا کروں گا۔ ایک وہ شخص جس نے میرا نام لے کر کسی سے عہد کیا اور پھر غداری کی۔ دوسراوہ شخص جس نے کسی آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ تیسرا وہ شخص جس نے مزدور کو مزدوری پر رکھا اور اس سے پورا کام لیا مگر اُس کی مزدوری اُسے نہ دی۔ طرفہُ: ۲۲۷۰۔
(تشریح)سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگی قیدیوں میں حضرت صفیہؓ بھی تھیں جو حضرت دحیہ کلبیؓ کے حصے میں آئیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئیں۔
(تشریح)(محمد بن عبداللہ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل(بن ابی خالد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرضہ اَدا کرنے کی غرض سے) ایسے غلام کوبیچا، جسے موت کے بعد آزاد قرار دینے کا فیصلہ کردیا گیا تھا۔
قتیبہ نے ہم سے بیان کیاکہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیںبتایا کہ عمرو (بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے (یعنی مدبر غلام کو) بیچا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا (کہا) کہ شعیب نے ہمیں زہری سے خبردی ہے۔ زہری نے کہا کہ (عبداللہ) بن محیریز نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اُن کو خبردی کہ ایک بار جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ (ایک شخص مجدی بن عمرو ضمریؓ نے) کہا: یارسول اللہ! ہمیں جنگ میں قیدی عورتیں ملتی ہیں اور ہمیں ان کی قیمتیں پسند ہوتی ہیں۔ آپؐ کا عزل کی نسبت کیا خیال ہے؟ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے ہو ایسا نہ کرنا۔ اگرچہ تم پر ضروری نہیں مگر دراصل بات یہ ہے کہ جس جان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا ہے کہ وہ پیدا ہو تو وہ ضرور ہی پیدا ہوگی۔
(تشریح)زُہیر بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب نے ہمیں بتایا (انہوں نے کہا:) میرے باپ( ابراہیم بن سعد) نے ہم سے بیان کیا کہ صالح (بن کیسان) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے بیان کیا۔ عبیداللہ نے ان کو بتایا کہ حضرت زید بن خالد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ سے ایسی لونڈی کی بابت پوچھا گیا جو بدکار ہو اور وہ نکاح شدہ نہ ہو۔ فرمایا: اسے کوڑے لگائو۔ پھر اگر بدکاری کرے تو پھر کوڑے لگائو۔ پھر(اگر باز نہ آئے تو) اسے بیچ دو۔ یہ تیسری بار کے بعد فرمایا یاچوتھی بار کے بعد۔
زُہیر بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب نے ہمیں بتایا (انہوں نے کہا:) میرے باپ( ابراہیم بن سعد) نے ہم سے بیان کیا کہ صالح (بن کیسان) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن شہاب نے بیان کیا۔ عبیداللہ نے ان کو بتایا کہ حضرت زید بن خالد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ سے ایسی لونڈی کی بابت پوچھا گیا جو بدکار ہو اور وہ نکاح شدہ نہ ہو۔ فرمایا: اسے کوڑے لگائو۔ پھر اگر بدکاری کرے تو پھر کوڑے لگائو۔ پھر(اگر باز نہ آئے تو) اسے بیچ دو۔ یہ تیسری بار کے بعد فرمایا یاچوتھی بار کے بعد۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ انہوں نے سعید (بن ابی سعید) سے،انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ ص سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اُس کا زنا ثابت ہوجائے تو بموجب حدّ اس کو کوڑے لگائے جائیں تو اُسے برا بھلا نہ کہے۔ پھر اگر زنا کرے تو بموجب حد پھر کوڑے لگائے اور اسے برا بھلا نہ کہے۔ پھر اگر تیسری دفعہ زنا کرے اور اس کا زنا ثابت ہوجائے تو چاہیے کہ اسے بیچ دے، خواہ بالوں کی ایک رسی ہی کے بدلے بکے۔
(تشریح)عبدالغفار بن دائود نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے روایت کی۔ عمرو نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں آئے، جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے قلعہ فتح کردیا تو صفیہؓ بنت حي بن اخطب کی خوبصورتی کاذکر آپؐ سے کیا گیا اور ان کا خاوند قتل ہوچکا تھا اور وہ دلہن ہی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لئے چن لیا اورآپؐ انہیں لے کر نکلے؛ یہاں تک کہ ہم سد الروحاء میں پہنچے تو وہ حیض سے فارغ ہوئیں اور وہاں ان کا رخصتانہ ہوا۔ پھر حیس (طعام) تیار کروایا اور چھوٹے سے دسترخوان پر رکھوایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تمہارے آس پاس ہوں، ان کو اطلاع کردو کہ وہ آجائیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا جو حضرت صفیہؓ (کی شادی) کے موقع پر ہوا۔ پھر ہم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ (حضرت انسؓ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عباء سے اُن (حضرت صفیہؓ) کے لئے اپنے پیچھے گدّا بنا دیتے تھے اور پھر اُونٹ کے قریب بیٹھتے اور اپنا گھٹنا نیچے رکھتے اور حضرت صفیہؓ اپنا پائوں آپؐ کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہوجاتیں۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید نے عطاء بن ابی رباح سے، عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فتح کے سال فرمارہے تھے جبکہ آپؐ مکہ میں تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب اور مردار اور خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت حرام قرار دی ہے۔ آپؐ سے کہا گیا: یارسول اللہ! مردار کی چربیوں کی بابت بھی آپؐ بتائیں کیونکہ وہ کشتیوں میں ملی جاتی ہیں اور کھالوں پر بھی ان کا روغن ملا جاتا ہے اور لوگ ان سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں، وہ حرام ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا: اللہ یہود کو تباہ کرے کہ اللہ نے مردار کی چربیاں (ان کے لئے) حرام کی تھیں مگر انہوں نے انہیں پگھلایا اور پھر بیچا اور ان کی قیمت کھائی۔ ابو عاصم (ضحاک بن مخلد) نے کہا: عبدالحمید نے ہم سے بیان کیا۔ یزید نے ہمیں بتایا کہ عطا (بن ابی رباح) نے مجھے لکھا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)