بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
محمد بن ابویعقوب کرمانی نے ہم سے بیان کیا کہ حسان(بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا (وہ کہتے ہیں) یونس نے ہمیں بتایا۔ محمد (بن مسلم) جو زہری ہیں، نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس کی یہ پسند ہو کہ اُس کے رزق میں کشائش ہو (اور نیکیوں کا زیادہ سے زیادہ اُسے موقع ملے) اور اُس کی عمر دراز ہو تو چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔ طرفہُ: ۵۹۸۶۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ثور سے، ثور نے خالد بن معدان سے، خالد نے حضرت مقدام (بن معدی کرب) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا کھانے سے بڑھ کر کوئی کھانا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت دائود علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی ہی کھایا کرتے تھے۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبردی۔ ہمام بن منبّہ سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ نبی دائود علیہ السلام نہیں کھاتے تھے مگر اپنے ہاتھ کی کمائی سے۔
یحيٰ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک کا اپنی رسیاں لینا (اور لکڑیاں باندھ کر لانا سوال کرنے سے بہتر ہے۔)
علی بن عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ ابوغسان محمد بن مطرف نے ہمیں بتایا، کہا کہ محمد بن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اُس خوش خلق شخص پر رحم کرے (جو اپنی خوش خلقی کا نمونہ اس وقت دِکھاتا ہے) جب وہ بیچے اور جب وہ خریدے اور جب وہ تقاضا کرے۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ اس کی دوسری سند یوں ہے: اور محمد بن عبداللہ بن حوشب نے مجھ سے بیان کیا کہ اسباط ابوالیسع بصری نے ہمیں بتایا کہ ہشام دستوائی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جَو کی روٹی اور کچھ چربی جو بودار تھی لائے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھ کر اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لائے تھے۔ اور میں نے انہیں (حضرت انسؓ کو) یہ کہتے سناکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے پاس ایک صاع گندم یا ایک صاع کسی غلے کا شام تک نہیں رہا جبکہ آپؐ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ طرفہُ: ۲۵۰۸۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) علی بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوںنے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب حضرت ابوبکرصدیق ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: میری قوم کو علم ہی ہے کہ میرا پیشہ ایسا نہ تھا کہ جس سے میں اپنے گھر والوں کی خوراک مہیا نہ کرسکتا۔ مگر اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہوگیا ہوں۔ سو ابوبکر کے اہل و عیال اب بیت المال سے کھائیں گے اور وہ (ابوبکر) مسلمانوں کے لئے اِس مال میں کاروبار کرے گا٭ (اور تجارت سے ان کا مال بڑھاتا رہے گا۔)
محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن یزید نے ہمیں بتایا۔ سعید(بن ابی ایوب) نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ابواسود نے مجھے بتایا کہ عروہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اپنے کام خود کرتے اور اُن سے پسینے کی بو آتی تو اُن سے کہا گیا: اگر تم نہا لیا کروتو اچھا ہے۔ ہمام نے بھی یہ روایت کی۔ انہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابو عبیدسے، جو حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر گٹھا لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے؛ خواہ وہ اُسے دے یا نہ دے۔