بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہمیں بتایا کہ لیث نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ (سعید) ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جھوٹی قسم مال کا نکاس تو بڑھا دیتی ہے مگر برکت مٹادیتی ہے۔
(تشریح)یوسف بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، انہوں نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے اُدھار پر غلہ خریدا اور اُس کے پاس اپنی زِرہ گروی رکھی۔
عمروبن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ عوام (بن حوشب) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے ابراہیم بن عبدالرحمن سے، ابراہیم نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضیاللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے (بازار میں) اپنا تجارتی سامان رکھا۔ ابھی وہ منڈی میں تھا کہ اللہ کی قسم کھا کرکہنے لگا کہ مجھے اِس کی اِتنی اِتنی قیمت ملتی تھی مگر میں نے نہ لی۔ (یہ اِس لئے کہا) تا مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دھوکا دے کر اسے خریدنے کے لئے آمادہ کرے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ(بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوںنے کہا: علی بن حسین نے مجھے خبردی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اُن کو بتایا کہ حضرت علیؓ نے کہا: میری ایک بوڑھی اُونٹنی تھی جو مجھے غنیمت سے بطور حصہ ملی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بوڑھی اُونٹنی غنیمت کے پانچویں حصے سے مجھے دی تھی۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہؓ کو اپنے گھر لانے کا اِرادہ کیا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اِذخر لائیں۔ میںچاہتا تھا کہ اسے سناروں کے پاس بیچوں اور اپنی شادی کے ولیمہ کے لئے اس سے مدد لوں۔
اسحاق (بن شاہین) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد (حذائ) سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے، نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لئے جائز ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے ہی اجازت ملی۔ نہ اس کی گھاس کاٹی جائے اور نہ اس کا درخت کاٹا جائے۔ نہ اس کا شکار بدکایا جائے۔ نہ اس کی گری پڑی چیز اُٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی شناخت کرائے۔ اس وقت حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) سوائے اِذخر کے جو ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے اِستعمال کی چیز ہے۔ اِس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ اِذخر کی اِجازت ہے۔ عکرمہ نے (خالد سے) کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ شکار کے بدکانے سے کیا مراد ہے؟ وہ یہ ہے کہ سائے سے تم اس کو ہٹا دواور اس کی جگہ ڈیرہ لگالو۔ عبدالوہاب نے خالد سے جو روایت نقل کی ہے، (اس میں یہ الفاظ ہیں:) ہمارے سناروں کے لئے اور قبروں کے لئے۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ (محمد) ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ انہوںنے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابوالضحیٰ سے، ابوالضحیٰ نے مسروق سے، انہوں نے حضرت خبابؓ (بن ارتّ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں زمانہ جاہلیت میں لوہارے کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل کے ذمہ میرا قرض تھا۔ میں اُس کے پاس قرض کا تقاضا کرنے کے لئے گیا۔ اُس نے کہا: میں اُس وقت تک تمہیں نہیں دوں گا جب تک کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اِنکا ر نہ کرے۔ میں نے کہا: اللہ تجھے مار کر زندہ کردے تو بھی میں اِنکار نہیں کروں گا۔ اُس نے کہا: اچھا۔ اُس وقت تک مجھے رہنے دو کہ میں مرجائوں اور پھر زندہ کیا جائوں۔ تب جو مال اور اَولاد مجھے (وہاں) ملے گی۔ میں (اس سے) تیرا قرض اَدا کر دوں گا۔ اِس پر (یہ آیت) نازل ہوئی: کیا تو نے اُس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کا اِنکار کیا اور کہا: مجھے ضرور مال اور اَولاد دِی جائے گی۔ کیا اُس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے یا رحمان خدا سے کوئی اِقرار لے لیا ہے۔
(تشریح)عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبردی۔ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک خیاط نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اُس نے تیار کیا تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی اس دعوت میںچلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُس نے روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو کے قتلے اور گوشت کی بوٹیاں تھیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ پیالے کے اِردگرد سے جہاں کدو ہوتا لیتے۔ (حضرت انسؓ) کہتے تھے: میں اُس دن سے ہی کدو پسند کرتا ہوں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن عبدالرحمن نے ابوحازم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوںنے کہا: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا۔ انہوں نے کہا: ایک عورت بردہ لے کر آئی، کہا: آپ جانتے ہیں کہ یہ بردہ کیا ہے؟ تو اُن سے کہا گیا: ہاں۔ وہ حاشیہ دار چادر ہوتی ہے۔ اُس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے یہ اپنے ہاتھ سے بُنی ہے کہ میں آپؐ کو پہنائوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی۔ آپؐ کو اُس کی ضرورت تھی۔ پھر آپؐ ہمارے پاس باہر آئے اور وہی (چادر) آپؐ کی تہ بند تھی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یارسول اللہ! یہ (چادر) مجھے پہننے کے لئے دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر مجلس میں بیٹھے رہے۔ پھر اندر جاکر اُسے تہ کیا اور اُس شخص کے پاس بھیج دی۔ لوگوں نے اُس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کہ آپؐ سے یہ مانگ لی۔ تجھے علم٭ ہی ہے کہ آپؐ سائل کو ردّ نہیں کرتے تو اُس شخص نے کہا: بخدا میں نے یہ اِسی لئے مانگی کہ وہ میرے لئے کفن ہو، جب میں مرجائوں۔ حضرت سہلؓ نے کہا: تو وہی (چادر) اُس کا کفن ہوئی۔
(تشریح)قُتَیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے ابوحازم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حضرت سہل بن سعدؓ کے پاس کئی آدمی آئے۔(رسول اللہ ﷺ کے) منبر کے متعلق پوچھتے تھے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو کہلا بھیجا۔ حضرت سہلؓ نے اس عورت کا نام لیا تھا کہ اپنے غلام سے کہو جو بڑھئی ہے، کچھ لکڑیوں کا (منبر) بنادے۔ جس پر میں بیٹھ کر لوگوں سے خطاب کیا کروں۔ تو اُس عورت نے اپنے غلام کو کہا کہ وہ غابہ (جنگل) کے جھائو سے منبر تیار کردے۔ چنانچہ وہ اُسے بنا کرلے آیا اور اُس عورت نے رسول اللہ ﷺ کو بھیج دیا اور آپؐ کے اِرشاد کے مطابق اُسے مسجد میں رکھا گیا اور آپؐ اُس پر بیٹھے۔
خلاد بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد بن ایمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں آپؐ کے لئے ایسی چیز نہ بنوا دوں جس پر آپؐ بیٹھا کریں کیونکہ میرا ایک غلام بڑھئی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اگر تم چاہو (تو بے شک بنوالو۔) (حضرت جابرؓ نے کہا:) پھر اُس نے آپؐ کے لئے منبر تیار کروایا۔ جب جمعہ کا دن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس منبر پر جو بنوایا گیا تھا بیٹھے تو وہ کھجور جس کے قریب آپؐ پہلے (لوگوں کو) خطبہ دیا کرتے تھے، چلائی، یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ پھٹ جائے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُتر کر اُس پر ہاتھ رکھا۔ پھر اپنے سینے سے لگایا، تو وہ اُس معصوم بچے کی طرح رونے لگی جسے چپ کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اُسے قرار آیا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا: یہ اُس ذکر کی وجہ سے روئی جو وہ سنتی تھی۔
(تشریح)