بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 192 hadith
محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالوہاب نے ہم کو بتایا۔ عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے وہب بن کیسان سے، وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ایک غزوہ میں تھا تو میرے اُونٹ کی رفتار سُست ہوگئی اور وہ تھک گیا تو نبی ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: جابر! میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے کہا: اُونٹ چلنے میں سُست ہوگیا ہے اور تھک گیا ہے۔ اِس لئے میں پیچھے رہ گیا ہوں۔ تب آپؐ سواری سے اُتر کر اس کو اپنی کھونٹی سے کھینچنے لگے۔ پھر فرمایا: سوارہو جائو۔ تو میں سوار ہوا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اتنا تیز ہوگیا کہ رسول اللہﷺ سے بھی آگے بڑھنے لگا، جس پر مجھے اسے روکنا پڑا۔ پھر آنحضرتؐ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کیا تم نے نکاح کرلیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: کنواری یا بیوہ سے؟ میں نے کہا:( کنواری سے نہیں) بلکہ بیوہ سے۔ فرمایا: نوجوان (باکرہ) سے کیوں (شادی) نہ کی کہ تو اُس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟ میں نے کہا: میری کچھ بہنیں ہیں اور میں نے پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جو اُن کی دلجوئی کرے، کنگھی کرے اور اُن کی پرورش کرے۔ فرمایا: دیکھو تم اب گھر پہنچنے والے ہی ہو۔ جب پہنچو تو عقلمندی سے اِحتیاط سے کام لینا۔ پھر آپؐ نے فرمایا: کیا تم اپنا یہ اُونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپؐ نے وہ مجھ سے ایک اوقیہ چاندی پر خرید لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ مجھ سے پہلے (مدینہ) پہنچے اور میں اگلی صبح کو پہنچا۔ ہم مسجد میں آئے تو میں نے آپؐ کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپؐ نے فرمایا: اب پہنچے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: اپنا اُونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھو۔ چنانچہ میں اندر گیا اور نماز پڑھی۔ حضرت بلالؓ سے آپؐ نے فرمایا: اسے ایک اوقیہ تول کر چاندی دے دو۔ حضرتبلالؓ نے تولکرمجھے دے دی اور تولمیںترازو کوجھکایا۔پھر میںپیٹھ موڑ کرچلا گیا۔آپؐنے فرمایا: جابرؓکومیرے پاس آنےکے لئے بلائو۔میں نے (دل میں) کہا: اب آپؐ(میرا) اُونٹ مجھے واپس کردیںگے اور مجھے اس (واپسی) سے بڑھ کر اور کوئی بات ناپسند نہ تھی۔فرمایا: اپنا اُونٹ لے لو اور اس کی قیمتبھی تمہاری ہے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی ۔ انہوں نے حمید سے، حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوطیبہؓ نے (جو حضرت محیصہ بن مسعودؓ کے غلام تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگائے۔ آپؐ نے انہیں ایک صاع کھجور دینے کے لئے فرمایا اور اُن کے مالکوں سے کہا کہ ان سے جو رقم وصول کی جاتی ہے، اُس سے کچھ کم کردیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے جو کہ عبداللہ کے بیٹے ہیںہمیں بتایا کہ خالد (حذائ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور جس نے آپؐکو پچھنے لگائے تھے، اُسے آپؐنے مزدوری دی اور اگر یہ حرام ہوتی تو آپؐاُسے نہ دیتے۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالتیاح سے، ابوالتیاح نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی نجار! اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے طے کرلو اور اُس میں کچھ کھنڈر اور کچھ کھجور وں کے درخت تھے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ابن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عکاظ، مجنّہ اور ذوالمجاززمانہ جاہلیت میں منڈیاں تھیں۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو مسلمانوں نے ان میں تجارت کرنا گناہ سمجھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ (حج کے اجتماع کے دِنوں میں ان منڈیوں میں تجارت کرو۔) حضرت ابن عباسؓ نے مذکورہ آیت میں فِیْ مَوَاسِمِ الْحَجِّکے الفاظ بڑھائے ۔
(تشریح)علی بن عبد اللہ (ابن مدینی)نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ عمرو (بن دینار) کہتے تھے: یہاں ایک شخص ہوا کرتا تھا جس کا نام نواس تھا۔ اُس کے پاس بیمار اُونٹ تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اُس کے ایک حصہ دار سے وہ اُونٹ خرید لئے تو (نواس) کا شریک اس کے پا س آیا اور کہا: وہ اُونٹ ہم نے بیچ دئیے ہیں۔ اُس نے کہا: کس کے پاس اُن کو بیچا ہے؟ کہا کہ ایک بوڑھے کے پاس جو ایسی ایسی شکل کا ہے تو اس نے کہا: کم بخت وہ تو بخدا حضرت ابن عمرؓ ہیں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آیا اور اُس نے کہا: میرے شریک نے آپؓ کے پاس بیمار اُونٹ بیچے ہیں اور وہ آپؓ کو نہیں جانتا تھا تو انہوں نے کہاـ کہ پھر انہیں لے جائو۔ (عمرو بن دینار) کہتے تھے: جب وہ اُن کو لے جانے لگا تو (حضرت ابن عمرؓ نے) کہا: انہیں رہنے دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر ہم راضی ہیں اور کوئی شکایت (دارالقضاء میں) نہ کی جائے گی۔ (علی بن مدینی نے کہا:) سفیان نے عمرو (بن دینار) سے اسی طرح سنا۔
(تشریح)عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوںنے مالک سے، مالک نے یحيٰ بن سعید سے، یحيٰ نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابومحمد سے جوحضرت ابوقتادہؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ابومحمد نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نکلے۔ }٭تو آپؐ نے انہیں ایک زِرہ دی۔{ میں نے وہ زِرہ بیچ دی اور اُسے بیچ کر بنی سلمہ کے محلّے میں ایک باغ خریدا اور وہ پہلی جائیداد ہے جو میں نے اسلام میں اپنے لئے بطور سرمایہ حاصل کی۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں بتایا کہ ابوبردہ بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوبردہ بن ابوموسیٰ سے سنا۔ وہ اپنے باپ (حضرت ابو موسیٰ) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسی مشک والے کی (دکان) اور لوہار کی بھٹی۔ مشک والے سے تو (دو باتوں میں سے کسی ایک سے) خالی نہیں رہے گا یا تُو اس سے خریدے گا، یا اس کی خوشبو پائے گا۔ اور لوہار کی بھٹی یا تو تیرا بدن٭ اور تیرا کپڑاجلائے گی یا تو اُس سے بدبو پائے گا۔ طرفہُ: ۵۵۳۴۔
(تشریح)آدم( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابوبکر بن حفص نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ سے ، انہوںنے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک ریشمی جوڑا یا دھاری دار ریشمی جوڑا بھیجا تو آپؐ نے دیکھا کہ وہ پہنے ہوئے ہیں تو آنحضرتؐ نے فرمایا: میں نے آپؓ کو یہ اِس لئے نہیں بھیجا تھا کہ آپؓ اِسے پہنیں۔ یہ تو صرف وہی پہنتا ہے جو آخرت کی برکات سے بے نصیب ہو۔ میں نے تو آپؓ کو اس لئے بھیجا تھا کہ آپؓ اِس سے فائدہ اُٹھائیں یعنی اِسے بیچیں۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عائشہؓ امّ المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ انہوں نے ایک تکیہ خریدا، جس میں تصویریں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دیکھا تو دروازے پر کھڑے رہے اور اندر نہ آئے۔ میں نے آپؐ کے چہرے سے ناپسندیدگی کا اثر محسوس کیا۔ تومیں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا قصور کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تکیہ کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے آپؐ کے لئے خریدا ہے کہ آپؐ اِس پر بیٹھیں اور تکیہ لگائیں۔ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات سن کر) فرمایا: اِن تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور اُن سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے اس میں جان بھی ڈالو۔ اور فرمایا: وہ گھر جس میں تصویریں ہوں ملائکہ اس میں داخل نہیں ہوتے۔
(تشریح)