بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عمرو (بن دینار) سے، اُنہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی اُنہوں نے کہا: بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور اُن میں دیت نہ تھی۔ اللہ نے اِس اُمت کے لئے فرمایا:اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہےاگر (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل)سے اور اگر (قاتل) غلام ہو تو اسی غلام (قاتل) سے اور اگر (قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے مگر جس (قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ (تاوان) معاف کر دیا جائے تو (مقتول کا وارث بقیہ تاوان کو صرف) مناسب طور پر وصول کر سکتا ہے اور (قاتل پر) عمدگی کے ساتھ (بقیہ تاوان) اس کو ادا کر دینا (واجب)ہے۔ یہ تمہارے ربّ کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے پھر جو شخص اس (حکم)کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: یہاں عفو سے یہ مراد ہے کہ قتلِ عمد میں دیت قبول کر لے۔ اُنہوں نے کہا: فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْف سے یہ مراد ہے کہ شریفانہ طریقے سے مطالبہ کرے اور وہ عمدگی سے ادا کرے۔
(تشریح)\مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔سعید (بن ابی عروبہ) نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کیا جس کو اس نے اس کے زیوروں کے لالچ پر مار ڈالا تھا۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابوزناد نے ہم سےبیان کیا کہ اعرج نے اُنہیں بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے:قیامت کے دن ہم سب سے پیچھے آنے والے اور سب سے آگے بڑھنے والے ہیں۔
اور اسی سند سے مروی ہے اگر کوئی تمہارے گھرمیں جھانکے اور تم نے اس کو اجازت نہ دی ہو تُو تم اس کو کنکری مارو اور اُس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حمید سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانکا آپؐ نے اس کی طرف ایک تیر کا نشانہ باندھا ۔ (یحيٰ کہتے تھے:) میں نے پوچھا: تم سےیہ کس نے بیان کیا۔ حمید نے کہا: حضرت انس بن مالکؓ نے۔
فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ جنگِ اُحد کے دن مشرک شکست کھا گئے۔ اور محمد بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابومروان یحيٰ بن ابی زکریا یعنی واسطی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ فرماتی تھیں: جنگِ اُحد کے دن ابلیس نے لوگوں میں دہائی دی اللہ کے بندو اپنے پچھلوں سے بچو۔ سنتے ہی اگلے اپنے پچھلوں پر پلٹ پڑے اور اُنہوں نے حضرت یمانؓ کو ما ر ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ چلائے میرا باپ ہے میرا باپ ہے مگر اُنہوں نےاُن کو مار ڈالا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔اُنہوں نے کہا: اور اُن کافروں میں سے کچھ لوگ تو شکست کھا کر بھاگ گئے تھے یہاں تک کہ وہ طائف میں جا پہنچے تھے۔
(تشریح)اسحاق (بن منصور) نے ہم سے بیان کیا کہ حبان (بن ہلال) نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سےبیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالکؓ نے ہم سے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دوپتھروں سے چور چور کر دیا۔ تو اس سے پوچھا گیا: تم سے یہ کس نے کیا ؟ کیا فلاں شخص نے کیا؟ فلاں شخص نے؟ آخر اس یہودی کا نام لیا گیا تو اُس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں)اس یہودی کو لے آئے اور اس نے اقرار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اس کا سر بھی ایک پتھر سے چور چور کیا گیا۔ اور کبھی ہمام نے یوں بھی کہا دوپتھروں سے۔
عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔سفیان (ثوری) نے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ بن ابی عائشہ نے ہمیں بتایا۔موسیٰ نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں آپؐ کی بیماری کے اثنا میں دوائی ڈالی۔ آپؐ نے فرمایا: میرے حلق میں دوا مت ڈالو۔ ہم نے کہا: بیمار کو دوا سے نفرت ہوتی ہے۔(اس لیے آپؐ یہ فرما رہے ہیں) جب آپؐ ہوش میں آئے آپؐ نے فرمایا: تم میں سے کوئی باقی نہ رہے مگر اس کے حلق میں دوائی ڈالی جائے سوائے عباسؓ کے کیونکہ عباسؓ تمہارے ساتھ شامل نہیں تھا۔
اسحاق بن منصور نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں خبر دی۔ ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔آپ فرماتی تھیں: جب اُحد کی جنگ ہوئی تو مشرکوں کو شکست دے کر بھگا دیا گیا۔ ابلیس نے دہائی دی۔ اللہ کے بندو ! اپنے پچھلوں سے بچو۔ (یہ سن کر) پہلے پلٹ پڑے اور وہ اور پچھلے تلواروں سے آپس میں لڑنے لگے۔ حذیفہؓ نے غور سے جو دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگ اُن کے باپ یمانؓ پر حملہ آور ہیں۔ اُنہوں نے پکارا، اللہ کے بندو یہ میرا باپ ہے، میرا باپ ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: اللہ کی قسم ! وہ نہ ہٹے اس کو مار ہی ڈالا۔ حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔ عروہ کہتے تھے: حضرت حذیفہؓ (کے دل) میں اس (کلمہ) کی وجہ سے ہمیشہ بھلائی رہی اور وہ اسی حالت میں اللہ سے جا ملے۔
(تشریح)