بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 89 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن (بن حارث) سے، ابوبکر نےحضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن ہوتے ہوئے زنا نہیں کرتا اور جب کوئی شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن ہوتے ہوئے شراب نہیں پیتا اور جب کوئی چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن ہوتے ہوئے چوری نہیں کرتا اور وہ مؤمن ہوتے ہوئے کوئی ایسی لوٹ نہیں کرتا کہ جس کی وجہ سے لوگ اس کی طرف اپنی آنکھیں اٹھائیں۔ اور ابن شہاب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اُنہوں نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ سے ان دونوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ اس کے الفاظ بھی یہی ہیں إِلَّا النُّهْبَةَ یعنی سوائے لوٹ کے۔
(تشریح)قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب( ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت عقبہ بن حارثؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نعیمان یا نعیمان کے بیٹے کو شراب کی حالت میں لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو جو گھر میں تھے، حکم دیا کہ اس کو ماریں۔ حضرت عقبہؓ کہتے تھے: اُنہوں نے اس کو مارا اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔
مسلم (بن ابراہیم) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سےبیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے چھڑی اور جوتوں سے پٹوایا اور حضرت ابوبکر ؓنے چالیس کوڑے لگوائے۔
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے جعید (بن عبدالرحمٰن) سے، جعید نے یزید بن خصیفہ سے، یزید نے سائب بن یزید سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ نیز آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ قتادہ نے ہم سےبیان کیا۔ قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چھڑی اور جوتوں سے مروایا اور حضرت ابوبکرؓ نے چالیس کوڑے لگوائے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوضمرہ انس (بن عیاض) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یزید بن ہاد سے، یزید نے محمد بن ابراہیم سے، اُنہوں نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو مارو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ہم میں سے وہ بھی تھا جو اپنے ہاتھ سے مار رہا تھا اور وہ بھی تھا جو اپنے جوتے سے مار رہا تھا اور وہ بھی تھا جو اپنے کپڑے سے مار رہا تھا۔ جب وہ واپس لوٹا تو لوگوں میں سے کسی نے کہا: اللہ تمہیں رسوا کرے۔ آپؐ نے فرمایا: ایسا مت کہو۔ شیطان کو اس پر قابو پانے میں مت مدد دو۔
عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن حارث نے ہمیں بتایا۔ سفیان (ثوری)نے ہم سےبیان کیا۔ ابوحصین (عثمان بن عاصم اسدی) نے ہمیں بتایا کہ میں نے عمیر بن سعید نخعی سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں جو کسی کو شرعی سزا دوں اور وہ مرجائے تو میں اپنے نفس میں کوئی رنج محسوس نہ کروں سوائے شرابی کے کیونکہ اگر وہ مرجائے تو میں اس کی دیت دوں اور یہ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے (ایسی)کوئی سزا مقرر نہیں کی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے کہا: خالد بن یزید نے مجھے بتایا۔ خالد نے سعید بن ابی ہلال سے، سعید نے زید بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص ہوا کرتا تھا۔ اُس کا نام عبداللہ تھا اور حمار کے لقب سے بلایا جاتا تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو شراب کی وجہ سے کوڑے بھی لگائے تھے۔ ایک دن اس کو لایا گیا۔ آپؐ نے اس کو سزا دینے کا حکم دیا تو اُس کو کوڑے لگائے گئے۔ لوگوں میں ایک شخص بولا۔ اے اللہ ! اس کو اپنی رحمت سے دور رکھنا۔ کتنی ہی بار اسے پکڑ کر لایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو۔ اللہ کی قسم ! میں تو یہی جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔
علی بن عبداللہ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ (عبداللہ) بن ہاد نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے محمد بن ابراہیم سے، محمد بن ابراہیم نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا۔ آپؐ نے اس کو مارنے کا حکم دیا۔ تو ہم میں سے وہ بھی تھا جو اُس کو اپنے ہاتھ سے مار رہا تھا اور ہم میں سے وہ بھی تھا جو اُس کو اپنے جوتے سے مار رہا تھا اورہم میں سے کوئی ایسا بھی تھا جو اُس کو اپنے کپڑے سے مار رہا تھا۔ جب وہ واپس لوٹا تو ایک شخص بولا: اس کو کیا ہوگیا۔ اللہ اس کو رسوا کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔
(تشریح)