بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سہل بن سعد ساعدی نے اُنہیں خبردی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے ایک سوراخ میں سے جھانک کر دیکھا اور اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجلانے کی کنگھی تھی جس سے آپؐ سر کو کھجلا رہے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا آپؐ نے فرمایا: اگر میں جانتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اِس کو تمہاری آنکھوں میں چبھو دیتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر ڈالنے کی وجہ سے ہی تو اجازت کا حکم دیا گیا ہے۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ ابوزناد نے ہم سےبیان کیا۔ ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص بغیر اجازت تجھے جھانک کر دیکھے اور تو اُس کو کنکری مارے اور اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) نے ہم سےبیان کیا۔ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے، حضرت مغیرہؓ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اُنہوں نے لوگوں سے عورت کے جنین کے گرائے جانے کے متعلق مشورہ لیا تو حضرت مغیرہؓ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بردہ دئیے جانے کا فیصلہ کیا غلام ہو یا لونڈی۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: ایسے شخص کو لاؤ جو تمہارے ساتھ اس بات پر شہادت دے۔تو محمد بن مسلمہؓ نے شہادت دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب آپؐ نے یہ فیصلہ فرمایا۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمر ؓنے لوگوں سے علی الاعلان پوچھا کہ کس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپؐ نے حمل گرانے کے متعلق فیصلہ کیا؟ حضرت مغیرہؓ نے کہا: میں نے آپؐ سے سنا۔ آپؐ نے اس کے متعلق ایک بردہ دئیے جانے کا فیصلہ کیا غلام ہو یا لونڈی۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: ایسے شخص کو لاؤ جو تمہارے ساتھ اس بات پر شہادت دے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ شہادت دیتا ہوں کہ آپؐ نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔
محمد بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن سابق نے ہمیں بتایا۔ زائدہ (بن قدامہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا، اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اُنہوں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے سنا وہ حضرت عمرؓ سے روایت کرتے تھے کہ اُنہوں نے عورت کے جنین کے گرائے جانے کے متعلق لوگوں سے مشورہ لیا پھر اُنہوں نے اسی طرح کی حدیث نقل کی۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ مطرف نے ہم سےبیان کیا۔ مطرف نے کہا: میں نے شعبی سےسنا۔ شعبی نے کہا: میں نے ابوجحیفہ (وہب بن عبداللہ) سے سنا۔ اُنہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا۔ کیا آپ کے پاس کچھ اور بھی ہے جو قرآن میں نہیں ؟ اور کبھی اُنہوں نے یوں کہا: جو لوگوں کے پاس نہ ہو؟حضرت علیؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس نے دانہ چیر کر پیدا کیا اور جان کو بنایا ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہی ہے جو قرآن مجید میں ہے سوائے اس سمجھ کے جو آدمی کو اللہ کی کتاب کے متعلق دی جاتی ہے یا اس کے سوا جو ایک ورق میں ہے۔ میں نے کہا: اُس ورق میں کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: دیت اور قیدیوں کو چھڑانے کے احکام اور یہ کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے نہ مارا جائے۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔اور اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہذیل قبیلے کی دو عورتیں تھیں اُن میں سے ایک نے دوسری کو مارا اور اس کے جنین کو گرادیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق یہ حکم دیا کہ وہ ایک بردہ دیت میں دے غلام ہو یا لونڈی۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث(بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کے متعلق فیصلہ کیا کہ ایک بردہ دیا جائے غلام ہو یا لونڈی ۔ پھر وہ عورت جس کو بردہ دینے کا حکم دیا تھا مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے خاوند کی ہوگی اور دیت اس عورت کے خاندان کے ذمہ ہوگی۔