بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 58 hadith
مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابی عبید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سلمہ (بن اکوع) سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: عامرؓ اپنے شعروں میں سے کچھ ہمیں سناؤ چنانچہ وہ اپنے شعر گا کر اُنہیں سنانے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹوں کو چلانے والا کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عامرؓ۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے ہمیں اس سے محظوظ کیوں نہ ہونے دیا؟وہ اسی رات کی صبح کو زخمی ہوئے تو لوگوں نے کہا: اُن کے سارے عمل اکارت گئے۔ اُنہوں نے اپنے تئیں مار ڈالا۔ جب میں واپس آیا تو وہ یہی باتیں کررہے تھے کہ عامرؓ کے عمل اکارت گئے۔ (یہ سن کر) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپؐ کے قربان، لوگ کہتے ہیں کہ عامرؓ کے عمل اکارت گئے۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے ایسا کہا اس نے غلط کہا۔ اسے تو دو ثواب ملے ہوں گے۔ وہ تو جہاد کرنے والا مجاہد ہ کرنے والا ہے اور کون سا قتل اس کے قتل سے بڑھ کر ہوگا۔
(تشریح)ابوعاصم نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے ابن جریج سے، ابن جریج نے عطاء (بن ابی رباح) سے، عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے، صفوان نے اپنے باپ سے روایت کی ۔ اُنہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں نکلا تو ایک شخص نے کسی کو کاٹا اور اُس نے جھٹکا دے کر اس کے سامنے کے دانت نکال دئیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔
(محمد بن عبداللہ) انصاری نے ہم سے بیان کیا کہ حمید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نضر کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا اور اس کا سامنے کا دانت توڑ دیا اس کے رشتہ دار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپؐ نے بدلہ لینے کا حکم دیا۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس سے، عبیداللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں میں سے کسی میں جھانکا تو آپؐ ایک تیر لے کر اُس کی طرف اُٹھ کر گئے ۔ ایک تیر یا کہا کچھ تیر لے کر اور آپؐ دبے پاؤں اپنے آپ کو نظر سے بچاتے ہوئے اس کی طرف جانے لگے تا کہ اُس کو چبھوئیں۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: یہ اور یہ برابر ہیں یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ (محمد) ابن ابی عدی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا۔
(تشریح)اور مجھ سے ابن بشار نے کہا: یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ ایک لڑکا دھوکے سے مارا گیا حضرت عمر ؓنے فرمایا: اگر صنعاء کے باشندے اس قتل میں شریک ہوتے تومیں اُن سب کو مروا ڈالتا اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے باپ سے نقل کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو مار ڈالا تو حضرت عمر ؓنے ایسا فرمایا۔ اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت ابن زبیرؓ اور حضرت علیؓ اور سوید بن مقرن نے ایک طمانچے کا بدلہ بھی دلوایا اور حضرت عمر ؓنے دُرّے کی مار کا بدلہ بھی دلوایا اور حضرت علیؓ نے تین کوڑوں کا بھی بدلہ دلوایا اور شریح نے ایک کوڑے اور ناخنوں سے نوچنے کا بھی بدلہ دلوایا۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے سفیان (ثوری) سے روایت کی کہ موسیٰ بن ابی عائشہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا: حضرت عائشہؓ فرماتی تھیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلق میں دوا ڈالی جبکہ آپؐ بیمارتھے اور آپؐ ہمیں اشارہ کرنے لگے کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو۔ کہتے ہیں: ہم نے کہا کہ دوا سے بیمار کے نفرت کرنے کی وجہ سے آپؐ کہہ رہے ہیں۔ جب آپؐ کو افاقہ ہوا، آپؐ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں روکا نہیں تھا کہ میرے منہ میں دوائی نہ ڈالو؟کہتے تھے: ہم نے کہا کہ آپؐ دوا سے نفرت کرنے کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی باقی نہ رہے مگر اس کے حلق میں دوائی ڈالی جائے اور میں دیکھوں گا سوائے عباسؓ کے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ موجود نہ تھا۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن عبید نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے بُشیر بن یسار سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: ایک انصاری شخص جسے سہل بن ابی حثمہ کہتے تھے نے اُن کو بتایا کہ ان کی قوم میں سے چند لوگ خیبر کی طرف گئے اور وہاں ادھر ادھر بکھر گئے اور اُنہوں نے اپنے میں سے ایک کو مقتول پایا اور اُنہوں نے اُن لوگوں سے جن کے درمیان وہ پایا گیا تھا کہا: تم نے ہمارے ساتھی کو مار ڈالا ہے۔ اُنہوں نے کہا: ہم نے نہیں مارا اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتہ ہے۔ آخر وہ نبی ﷺ کے پاس چلے آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ہم خیبر کی طرف گئے تھے تو ہم نے اپنے میں سے ایک کو مقتول پایا۔ آپؐ نے فرمایا: جو تم میں سے بڑا ہے وہی بات کرے اور آپؐ نے اُن سے کہا: تم اس شخص کے متعلق ثبوت لاؤ جس نے اس کو قتل کیا۔ اُنہوں نے کہا: ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر وہ قسم کھائیں گے۔ اُنہوں نے کہا: ہم اِن یہودیوں کی قسم پر مطمئن نہیں ہوں گے تو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند فرمایا کہ اس مقتول کے خون کو بغیر دیت کے جانے دیں تو آپؐ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک سو اونٹ اس کی دیت دی۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم اسدی نے ہمیں بتایا۔ حجاج بن ابی عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابورجاء نے جو ابوقلابہ کے خاندان میں سے تھے مجھے بتایا۔(اُنہوں نے کہا) مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن لوگوں کے لئے دربار عام لگایا۔ پھر اُنہوں نے لوگوں کو آنے کی اجازت دی وہ اُن کے پاس آئے تو اُنہوں نے پوچھا: تم قسامت کے متعلق کیا کہتے ہو؟انہوں نے کہا: ہم کہتے ہیں کہ قسامت میں قصاص کا حکم دینا صحیح ہے اور خلفاء نے قسموں کی بنا پر بدلہ دلوایا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے کہا: ابوقلابہ ! تم کیا کہتے ہو؟ اور لوگوں سے بات کرنے کے لئے اُنہوں نے مجھے آگے کھڑا کردیا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کے پاس فوجوں کے سردار اور عرب کے شرفاء موجود ہیں۔ بتائیں اگر اِن میں سے پچاس ایک شادی شدہ شخص کے متعلق جو دمشق میں ہو یہ شہادت دیں کہ اس نے زناکیا ہے؟ اُنہوں نے اس کو دیکھا نہیں کیا آپ اس کو سنگسار کر دیں گے۔ اُنہوں نے کہا: نہیں ۔ میں نے کہا۔ بتائیں اگر اِن میں سے پچاس ایک شخص کے متعلق جو حِمص میں ہو یہ شہادت دیں کہ اس نے چوری کی ہے کیا آپ اُس کے ہاتھ کاٹ ڈالیں گے حالانکہ انہوں نے اس کو دیکھا نہیں؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا مگر تین باتوں میں سے کسی ایک بات کی وجہ سے ۔ ایک وہ شخص جس نے قتل کیا ہو اور اسے اپنے جرم کی سزا کی وجہ سے قتل کیا جائے اور ایک وہ شخص جس نے نکاح کرنے کے بعد زنا کیا یا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور اسلام سے مرتد ہو گیا ہو۔ لوگوں نے یہ سن کر کہا: کیا حضرت انس بن مالکؓ نے یہ نہیں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے چوری کی وجہ سے ہاتھ کٹوائے اور آنکھوں میں سلائیاں پھرائیں پھر اُن کو دھوپ میں پھینک دیا گیا؟ میں نے کہا:میں تم سے حضرت انسؓ کی حدیث بیان کرتا ہوں۔ مجھ سے حضرت انسؓ نے بیان کیا کہ عُکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اُنہوں نے اسلام پر (قائم رہنے کی) آپؐ سے بیعت کی۔ پھر اُنہوں نے اس زمین کی آب و ہوا کو ناموافق پایا اور اُن کے جسم لاغر ہوگئے تو اُنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا شکوہ کیا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں نہیں چلے جاتے، جا کر تم اُن کے دودھ اور پیشاب پیتے رہو؟ اُنہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ چنانچہ وہ باہر گئے اور اُنہوں نے اُن کے دودھ اور پیشاب پئے اور وہ تندرست ہوگئے۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کرلے گئے۔ یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے اُن کے پیچھے سوار بھیجے اُنہیں گرفتار کرلیا گیا اور اُن کو لے کر آئے۔ تو آپؐ نے اُن کے متعلق حکم دیا اور اُن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے اور آپؐ نے اُن کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھرائیں ۔ پھر اُن کو دھوپ میں پھینک دیا گیا اور وہ وہیں مر گئے۔ (ابوقلابہ کہتے تھے:) میں نے کہا: اس سے سنگین کیا جرم ہوسکتا ہے جو اُنہوں نے کیا؟ اسلام سے مرتد ہوگئے اور اُنہوں نے قتل کیا اور چوری کی۔ عنبسہ بن سعید نے سن کر کہا۔ اللہ کی قسم میں نے بھی کبھی ایسی حدیث نہیں سنی جیسی آج۔ میں نے کہا: عنبسہ کیا تم میری اس حدیث کے متعلق مجھ پر اعتراض کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ آپ نے حدیث کو صحیح صحیح جیسا کہ وہ ہے بیان کیا ہے۔ اللہ کی قسم ! یہ گروہ ہمیشہ بھلائی میں رہے گا جب تک کہ یہ بزرگ اِن کے درمیان زندہ ہے۔ میں نے کہا اور اس مسئلہ میں رسول اللہ ﷺ کا بھی عمل درآمد موجود ہے۔ آپؐ کے پاس کچھ انصاری لوگ آئے اور اُنہوں نے آپؐ سے باتیں کیں پھر اُن میں سے ایک شخص اُن کے آگے ہی روانہ ہو گیا اور وہ مارا گیا وہ اس کے پیچھے روانہ ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کا وہ ساتھی خون میں لتھڑا ہوا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے اور کہا یارسول اللہ ہمارا ساتھی جو ہمارے ساتھ گفتگو میں موجود تھاپھر وہ ہم سے آگے روانہ ہو گیا۔ جب ہم اس تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ خون میں لتھڑا ہوا ہے۔رسول اللہ ﷺ باہر آئے اور آپؐ نے پوچھا: تم کس کے متعلق خیال کرتے ہو؟ یا فرمایا: تم کس کے متعلق سمجھتے ہو کہ اس نے اِسے مارا؟ اُنہوں نے کہا: ہمارا یہ خیال ہے کہ یہود نے ہی اس کو مار ڈالا ہے۔ آپؐ نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیج کر اُن کو بلایا اور فرمایا: کیا تم نے اس کو قتل کیا؟ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے مقتول کے وارثوں سے پوچھا: کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ یہودیوں میں سے پچاس قسم کھالیں کہ اُنہوں نے اسے قتل نہیں کیا؟ اُنہوں نے کہا: وہ تو پروا نہیں کرتے کہ ہم سبھی کو مار ڈالیں پھر قسم کھالیں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا دیت کا حقدار بننے کے لیےتم سے پچاس قسم کھائیں گے؟ انہوں نے کہا: ہم تو قسم نہیں کھائیں گے۔ آپؐ نے اپنے پاس سے اُس کی دیت ادا کی ۔ میں نے کہا: ہذیل نے بھی جاہلیت کے زمانہ میں ایک بدچلن شخص کو اپنے میں سے باہر نکال دیا تھا۔وہ یمن کے ایک خاندان کے گھر میں رات کو نقب زنی کے لئے گیا جو بطحاء میں رہتے تھے اُن میں سے ایک شخص جاگ اُٹھا اور اُس نے تلوار سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مار ڈالا۔ یہ سن کر ہذیل کے لوگ آئے اور اس یمنی کو پکڑ لیا اور حج کے زمانہ میں اس کو حضرت عمر ؓکے سامنے پیش کیا ۔ کہنے لگے: اس نے ہمارے ایک آدمی کو مارڈالا ہے۔ اس یمنی نے کہا: اِنہوں نے تو اُس کو اپنے سے باہر نکال دیا تھا۔ تو حضرت عمر ؓنے کہا کہ ہذیل میں سے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ اُنہوں نے اُس کو خارج نہیں کیا تھا۔ ابوقلابہ کہتے تھے: اُن میں سے اُنچاس آدمیوں نے قسم کھالی اور اُن میں سے ایک شخص شام سے آیا تھا تو لوگوں نے اسے بھی کہا کہ وہ قسم کھائے مگر اس نے قسم کے بدلے ایک ہزار درہم دے کر اپنے آپ کو اُن سے چھڑا لیا اور اُنہوں نے اس کی جگہ ایک اور شخص اندر بھجوایا۔ تو حضرت عمر ؓنے یہ قاتل مقتول کے بھائی کے حوالے کردیا۔ اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے باندھ دیا گیا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ دونوں چل پڑے اور وہ پچاس آدمی بھی جنہوں نے قسمیں کھائی تھیں۔ جب وہ نخلہ میں پہنچے تو بارش نے اُنہیں آگھیرا اور وہ پہاڑی کی ایک غار میں گھس گئے اور وہ غار اُن پچاس پر آ گری جنہو ں نے قسمیں کھائی تھیں اور وہ سب کے سب مرگئے اور وہ دونوں ساتھی (قاتل و مقتول کا بھائی) وہاں سے بھاگ نکلے اور ان دونوں کے پیچھے ایک پتھر آیا اور اس نے مقتول کے بھائی کی ٹانگ توڑ دی وہ ایک سال زندہ رہا اور مر گیا۔ (ابوقلابہ کہتے تھے:) میں نے کہا: عبدالملک بن مروان نے بھی قسموں کی بنا پر ایک شخص سے قصاص لیا تھا، پھر وہ اپنے کیے کے بعد پشیمان ہوئے اور اُنہوں نے اُن پچاس آدمیوں کے متعلق کہ جنہوں نے قسمیں کھائی تھیں حکم دیا اور اُن کا نام دفتر سے مٹادیا گیا اور اُنہوں نے اُن کو شام کی طرف جلا وطن کردیا۔
(تشریح)