بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 49 hadith
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ زُہری نے ہم سے بیان کیا، کہا: عامر بن سعد بن ابی وقاص نے مجھے خبر دی۔ عامر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں مکہ میں ایسا بیمار ہوا کہ اس بیماری سے مرنے کے قریب ہوگیا اور نبی ﷺ میری عیادت کے لئے میرے پاس آئے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت جائیداد ہے اورمیری بیٹی کے سوا اور میرا کوئی وارث نہیں ہے، تو کیا میں اپنی جائیداد کی دو تہائی صدقہ میں دے دوں؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ کہتے تھے، میں نے کہا: تو کیا پھر آدھا؟ آپؐ نے فرمایا:نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپؐ نے فرمایا: ایک تہائی بھی بڑی ہے۔ دیکھو! اگر تم اپنی اولاد کو غنی چھوڑ جاؤ تو یہ بہتر ہے اِس سے کہ ان کو محتاج چھوڑ جاؤ کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور جو خرچ بھی تم کرو گے تو ضرور تمہیں بدلہ دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ بھی جو تم اُٹھا کر اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اپنی ہجرت کے باوجود مجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا: تم میرے بعد پیچھے نہیں رہنے دئیے جاؤ گے۔ (اگر تمہیں پیچھے بھی چھوڑ دیا جائے) تو جو کام بھی تم ایسا کرو گے جس سے تم اللہ کی رضا مندی چاہ رہے ہوگے تو ضرور تم بلندی اور درجہ میں بڑھتے چلے جاؤ گے۔شاید تمہیں میرے بعد رہنے دیا جائے تاکہ کچھ لوگ تم سے نفع اُٹھائیں اور کچھ اور لوگوں کو تمہارے ذریعہ سے نقصان پہنچایا جائے مگر سعد بن خولہؓ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ترس کھایا کرتے تھے کہ وہ مکہ میں فوت ہو گیا۔ سفیان (بن عیینہ) کہتے تھے کہ حضرت سعد بن خولہؓ بنو عامر بن لوئی میں سے ایک شخص تھے۔
مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ ابن طاؤس نے ہم سے بیان کیا۔ ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حصے داروں کو مقررہ حصے دے دو، جو بچ رہے تو وہ اس مرد کو دیا جائے جو بہت قریبی رشتہ دار ہو۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب (بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن طاؤس سے، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: حصہ داروں کو ان کے حصے پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے تو وہ اُس مرد کو دو جو سب سے زیادہ قریبی ہو۔
6734: محمود بن غیلان نے ہم سے بیان کیا کہ ابونضر نے ہمیں بتایا۔ ابومعاویہ شیبان نے ہم سے بیان کیا۔ ابومعاویہ نے اشعث سے، اشعث نے اسود بن یزید سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت معاذ بن جبلؓ یمن میں ہمارے پاس معلم اور امیر ہو کر آئے تو ہم نے اُن سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو فوت ہوگیا اور اپنی بیٹی اور بہن چھوڑ گیا۔ تو انہوں (حضرت معاذ بن جبلؓ) نے بیٹی کو آدھا اور بہن کو بھی آدھا دیا۔
(تشریح)آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابوقیس(عبدالرحمٰن بن ثروان) نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ہزیل بن شرحبیل سے سنا۔انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰؓ سے ایک بیٹی اور ایک پوتی اور ایک بہن کے متعلق (وراثت کا مسئلہ) پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بیٹی کو آدھا اور بہن کو آدھا ملے گا اور حضرت ابن مسعودؓ کے پاس جاؤ، وہ بھی میری طرح ہی بتائیں گے۔ چنانچہ حضرت ابن مسعودؓ سے پوچھا گیا اور انہیں حضرت ابوموسیٰؓ کا فتویٰ بتایا گیا تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا فتویٰ دوں تو یقیناً میں گمراہ ہوجاؤں اور اُن لوگوں سے کبھی نہ ہوں جو راہ راست پر چلے۔ میں تو اس کے متعلق وہی حکم دوں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ بیٹی کو آدھا اور پوتی کو چھٹا دیا جائے تا کہ دو تہائیاں پوری ہوجائیں اور باقی بہن کو دیا جائے۔ ہم یہ سن کر حضرت ابوموسیٰ(اشعریؓ) کے پاس آئے۔ ہم نے ان کو حضرت ابن مسعودؓ کا قول بتایا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے مسئلہ نہ پوچھا کرو جب تک کہ تم میں یہ علامہ موجود ہے۔
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہو ں نے کہا کہ وہ شخص جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں اِس امت میں سےکسی کو خلیل بناتا تو میں اُن کو بناتا لیکن اسلام کی دوستی سب سے افضل ہے یا فرمایا: بہتر ہے۔ انہوں نے تو دادا کو بمنزلہ باپ قرار دیا ہے یا کہا: یا فیصلہ کیا ہے کہ دادا باپ کی جگہ ہے۔
محمد بن یوسف(فریابی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ورقاء (یشکری) سے، ورقاء نے ابن ابی نجیح سے، ابن ابی نجیح نے عطاء سے، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مال اولاد کا ہی ہوا کرتا تھا اور ماں باپ کو وصیت کے مطابق ملتا۔ اس لئے اللہ نے اس رواج سے جو پسند کیا منسوخ کیا اور مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر رکھا اور ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ مقرر کیا اور عورت کے لئے آٹھواں یا چوتھا حصہ اور خاوند کے لئے آدھا یا چوتھا حصہ قرار دیا۔
(تشریح)قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابن مسیب سے، ابن مسیب نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنولحیان کی ایک عورت کے جنین کے متعلق جو مرا ہوا گرا تھا بُردہ آزاد کرنے کا فیصلہ کیا، غلام ہو یا لونڈی۔ پھر وہ عورت جس کو بردہ آزاد کرنے کا حکم دیا تھا فوت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور اس کے خاوند کو دی جائے اور د یت کا ادا کرنا اس کے خاندان کے لوگوں کے ذمہ ہوگا۔
(تشریح)بشر بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان(اعمش) سے، سلیمان نے ابراہیم(نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت معاذ بن جبلؓ نے ہمارے درمیان ترکے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ آدھا بیٹی کو اور آدھا بہن کو دیا جائے۔ پھر سلیمان نے کہا کہ حضرت معاذؓ نے ہمارے ترکہ کے متعلق یہ فیصلہ کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ذکر نہیں کیا۔