بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 49 hadith
قبیصہ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقیس (عبدالرحمٰن بن ثروان) سے، ابوقیس نے ہزیل سے، ہزیل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اہل اسلام تو سائبہ نہیں چھوڑتے اور زمانہ جاہلیت کے لوگ سائبہ چھوڑا کرتے تھے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کردہ غلام کے حقِ وراثت کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ اُم المؤمنینؓ چاہتی تھیں کہ ایک لونڈی خرید کر اس کو آزاد کریں۔ اس کے مالکوں نے کہا: ہم یہ اس شرط پر بیچ دیتے ہیں کہ اس کا حق وراثت ہمارا ہوگا تو حضرت عائشہؓ نے نبی
حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام (بن یحيٰ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عائشہ ؓنے چاہا کہ بریرہؓ کو خرید لیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ حق وراثت کی شرط کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید لو کیونکہ حق وراثت اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ معاویہ بن قرہ اور قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی قوم کا آزاد کردہ غلام بھی انہی میں سے ہوتا ہے۔ یا آپؐ نے کچھ ایسے ہی الفاظ فرمائے۔
ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انسؓ سے، حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: کسی قوم کا بھانجا بھی انہی میں سے ہوتا ہے۔ (آپؐ نے) مِنْهُمْ (کا لفظ فرمایا) یا مِنْ أَنْفُسِهِمْ (کا)۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہؓ کو خریدا کہ تا اسے آزاد کریں اور اس کے مالکوں نے اس کے وراثت کے حق کو مشروط رکھا تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے بریرہؓ کو خریدا ہے تاکہ اسے آزاد کر دوں لیکن اس کے مالک اس کے حق وراثت کو (اپنے لئے) مشروط رکھ رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اسے آزاد کردو کیونکہ وراثت کا حق تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کردے یا فرمایا: جو قیمت دے۔ اسود کہتے تھے: چنانچہ حضرت عائشہؓ نے اس کو خریدلیا اور پھر اس کو آزاد کردیا۔ کہتے تھے: اور بریرہؓ کو اختیار دیا گیا تو اس نے اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کہا: اگر مجھے اتنا اتنا بھی دیا جائے میں اس کے ساتھ کبھی نہ رہوں۔ اسود کہتے تھے: اس کا خاوند آزاد تھا۔ اسود کا یہ قول منقطع ہے اور حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول کہ میں نے اس کو دیکھا کہ وہ غلام تھا، زیادہ صحیح ہے۔
(تشریح)قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر (بن عبدالحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ (یزید بن شریک بن طارق تیمی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اللہ کی کتاب کے سوا ہمارے پاس کوئی ایسی کتاب نہیں جس کو ہم پڑھتے ہوں مگر یہ ایک ورق ہے۔ وہ کہتے تھے: یہ کہہ کر انہوں نے اس ورقہ کو نکالا تو کیا دیکھا کہ اس میں زخموں کے متعلق اور اونٹوں کے نصاب کے متعلق کچھ احکام ہیں۔ کہتے تھے: اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ عیر سے لے کر ثور تک حرم ہے۔ جس نے مدینہ میں کوئی بدعت کا کام کیا یا بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ قیامت کے دن اس سے نہ توبہ قبول ہوگی اور نہ ہی اس کا فدیہ اور جس نے اپنے مالکوں کے حکم کے سوا کسی قوم سے راہ و رسم رکھی تو اس پر بھی اللہ اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ قیامت کے دن اس کی نہ توبہ قبول ہوگی اور نہ فدیہ اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے۔ ان میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ بھی امان دے سکتا ہے۔ اس لئے جس نے کسی مسلمان کے ذمہ کو توڑا تو اُس پر بھی اللہ اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ قیامت کے دن نہ اس سے توبہ قبول ہوگی اور نہ فدیہ۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپؓ بیان کرتی تھیں: میں نے بریرہؓ کو خریدا تواُس کے مالکوں نے اس کے حق وراثت کو مشروط رکھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو آزاد کردو کیونکہ حق وراثت اس کا ہوتا ہے جو چاندی دے۔ (آزاد کرنے کی قیمت۔) فرماتی تھیں: تو میں نے اس کو آزاد کیا۔ فرماتی تھیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو بلایا اور اسے اس کے خاوند کے متعلق اختیار دیا۔ وہ کہنے لگی: اگر وہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دے میں اس کے پاس رات بھی نہ رہوں گی۔ اس لئے اس نے اپنے تئیں اختیار کیا۔ راوی نے کہا: اور اس کا خاوند آزاد تھا۔
(تشریح)