بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 261 hadith
ابونعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا کہ منصور بن معتمر نے ہم سے بیان کیا ۔ اور محمد بن کثیر نے بھی ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریوں کے ہار بٹا کرتی تھی تو آپؐ انہیں بھیج دیتے اور آپؐ بغیر حالت ِاحرام رہتے۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر سے، عامر نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے لئے ہار بٹے۔ پیشتر اس کے کہ آپؐ احرام باندھتے ۔
(تشریح)عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا۔ معاذ بن معاذ نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قاسم (بن محمد) سے، انہوں نے حضرت امّ المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے جانوروں کے ہار اُون سے بٹے جو میرے پاس تھی۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، عبدالرحمن نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں جن قربانی کے اونٹوں کو ذبح کروں، ان کی جھولیں اور کھالیں صدقہ میں دے دوں۔
اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے خالد بن حارث سے سنا کہ عبیداللہ بن عمر نے ہمیں بتایا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ اسی (ذبح کرنے کی) جگہ ذبح کیا کرتے تھے ۔ عبیداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے کی جگہ۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی قربانی کا جانور مزدلفہ سے آخری رات منیٰ میں بھیجا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے قربانی کرنے کی جگہ پر اسے لے جاتے؛ حاجیوں کے ساتھ؛ جن میں آزاد اور غلام بھی ہوتے۔
سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت انسؓ سے روایت کی اور حدیث کا اختصار سے ذکر کیا اور(آخر میں) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے قربانی کی۔ سات اونٹنیا ں جبکہ وہ کھڑی تھیں؛ ذبح کیں اور مدینہ میں دوچتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے۔
محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں خبردی۔ انہوںنے معمر سے، معمر نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھ کر کہ وہ قربانی کا اونٹ ہانکے لئے جا رہا ہے، فرمایا: اس پر سوار ہوجا۔ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس پر سوار ہوجا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ وہ اس پر سوار ہے اور نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور جوتی اس جانور کے گلے میں بطور نشان لٹک رہی ہے۔ محمد بن بشار نے بھی انہی کی طرح یہ بات نقل کی ہے۔ عثمان بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مبارک نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے یحيٰ سے، انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا۔ ابوضمرہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ نافع سے مروی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ خلافت میں اس سال حج کا ارادہ کیا جس میں خارجیوں نے بھی حج کیا تھا۔ آپؓ سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہوگی اور ہمیں ڈر ہے، آپؓ روک نہ دئے جائیں تو انہوں نے یہ آیت پڑھی کہ رسول اللہ میں تمہارے لئے نیک نمونہ ہے۔ اور میں تو ویسا ہی کروں گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے نفس پر عمرہ بھی واجب کرلیا ہے۔ جب وہ بیداء کے کھلے میدان میں پہنچے تو انہوں نے کہا : حج اور عمرہ کی بات ایک ہی ہے۔ میں تمہیں گواہ ٹھہرتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے اور قربانی کا جانور بھی ان کے ساتھ تھا۔ جس کے گلے میں ہار پڑا ہوا تھا جو انہوں نے ( راستہ میں) خریدا تھا۔ یہاں تک کہ جب بیت اللہ پہنچے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا اور قربانی کے دن تک احرام کھول کر کسی بات سے آزاد نہیں ہوئے جو حج میں ممنوع تھی۔ قربانی کے دن آپؓ نے سر منڈایا اور قربانی کا جانور ذبح کیا اور سمجھے کہ وہ پہلے طواف ہی کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کا طواف کر چکے ہیں۔ پھر کہا: اسی طرح نبی ﷺ نے بھی کیا تھا۔
(تشریح)عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیاکہ مالک نے ہمیں خبردی ۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت کی۔ عمرہ نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ وہ کہتی تھیں:ـ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم مدینہ سے نکلے؛ جبکہ ابھی ذی القعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہم یہی سمجھتے تھے کہ حج ہوگا۔ جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھاکہ جب وہ طواف کرے اور صفا اور مروہ کے درمیان دوڑے تو وہ احرام کھول ڈالے۔ حضرت عائشہؓنے کہا کہ قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لا یا گیا تو میں نے کہا: یہ گوشت کیسا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی۔ یحيٰ نے کہا: میں نے قاسم سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے یہ حدیث آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔
(تشریح)